Beware: This Wallpaper Can Brick Your Android Phone

انتباہ — یہ وال پیپر آپ کے فون کو ’ہینگ‘ کر دے گا

اینڈروئڈ فون کے بیشتر صارفین سوشل میڈیا پر یہ شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں کہ جب انھوں نے مخصوص تصویر کو اپنے فون کے وال پیپر کے طور پر استعمال کیا تو ان کے فون خراب ہو گئے۔

اس تصویر میں ایک جھیل، گہرے بادلوں سے بھرا آسمان، غروبِ آفتاب کا منظر اور سبز ساحلی پٹی نظر آ رہی ہے۔

سام سنگ اور گوگل پکسل سمیت دیگر کئی برانڈز کے موبائل فون اس تصویر سے متاثر ہوئے ہیں۔

اس تصویر کے ذریعے بھیجے جانے والے وائرس سے متاثرہ موبائل فون کی سکرین مسلسل کھلنے اور بند ہونے لگتی ہے۔ چند موبائل فونز میں فیکٹری ری سیٹ کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔

بی بی سی اس تصویر کو موبائل پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا مشورہ نہیں دیتی۔

سام سنگ کی جانب سے اپنے موبائل فونز کے لیے اس سے متعلق نئی اپ ڈیٹ 11 جون کو جاری کی جائے گی۔ بی بی سی نے اس سلسلے میں گوگل سے رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک کمپنی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا ہے۔

اس معاملے سے متعلق کی جانے والی ایک ابتدائی ٹویٹ کو ہزاروں مرتبہ لائک اور ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔ اس ٹویٹ کے جواب میں چند صارفین نے پتایا کیا کہ ان کے فون بھی اس تصویر سے متاثر ہوئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے امور کے صحافی بوگڈن پیٹروین کا کہنا ہے کہ ان کا ہواوے 20 پرو اگرچہ اس تصویر سے متاثر نہیں ہوا لیکن گوگل پکسل ٹو میں خرابی پیدا ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس تصویر کو فون کا وال پیپر بناتے ہی فون کریش کر گیا۔ فون نے ری بوٹ کی کوشش کی لیکن سکرین مسلسل کھلنا اور بند ہونا شروع ہو گئی جس سے سکیورٹی سکرین سے آگے بڑھنا ناممکن ہو گیا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ فون کو سیف موڈ میں دوبارہ سٹارٹ کرنے سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔

اس وائرس نے اینڈروئڈ کے تازہ ایڈیشن اینڈروئڈ 10 ماڈل کے کچھ فون بھی متاثر کیے ہیں لیکن زیادہ تر یہ ماڈل محفوظ رہے۔اینڈروئڈ 11 کو مارکیٹ میں رواں ہفتے متعارف کروایا جانا تھا لیکن فی الحال اس ماڈل کی لانچ ملتوی کر دی گئی ہے۔

ابھی تک اس وائرس کے بارے میں حکام کی جانب سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

سکیورٹی کمپنی ’پین ٹیسٹ پارٹنرز‘ سے منسلک کین منرو اور ڈیو لوج نے بی بی سی کے لیے اس صورتحال کا تجزیہ کیا ہے۔

ان کے مطابق ’جہاں ڈیجیٹل تصویروں کا معیار بہتر ہوا ہے وہیں فون میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ تصویر کے رنگوں کو جانچ سکے کہ انھیں کیسے دکھانا ہے۔ اس طرح ایک فون یہ معلوم کرتا ہے کہ مثلاً سبز رنگ کی صحیح قسم کو کیسے دکھانا ہے۔

’رنگوں کے نظام کی کئی طریقوں سے یہ وضاحت کی جا سکتی ہے۔ کچھ تو گرافک ڈیزائن کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ تو بعض مرتبہ آپ ایسی تصاویر دیکھتے ہیں جو عام طور پر دستیاب آر جی بی فارمیٹ میں نہیں ہوتیں۔ اس لیے ایسا ممکن ہے کہ ایسی تصویر بنائی جائے جس میں اس کے رنگوں کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات ہوں کہ کچھ مخصوص فون انھیں برداشت ہی نہ کر پائیں۔

’فون اس لیے کریش ہوئے کہ ان میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں تھی اور انھیں بنانے والوں کے ذہن میں شاید یہ نہیں تھا کہ ایسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔‘