Dean Koontz Predicted Wuhan Virus In 1981 | Read in Urdu

نصف صدی قدیم ناول میں کورونا آؤٹ بریک کا تذکرہ

 معروف امریکی سنسنی خیز ناول نگار ڈین کونٹز سے کون واقف نہیں جن کے ناول تقریباً ہمیشہ ہی بیسٹ سیلر کا اعزاز حاصل کرتے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر ڈین کونٹز کے 1981ء میں تحریر کردہ ناول ’دی آئیز آف ڈارکنیس‘ میں کورونا وائرس کی بیماری کا اسی طرح تذکرہ ہے جس صورت آج تمام دنیا کے لیے یہ وباء ایک خطرہ بن چکی ہے۔

ڈین کونٹز عام طور پر سنسنی خیز انداز میں خوف زدہ کرنے والی کہانیاں تحریر کرتے ہیں جو ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کبھی بھی اپنی تحریروں میں مستقبل کے بارے میں جاننے کا دعویٰ نہیں کیا مگر نہایت ہی پُراسرار طور پر ان کے آج سے چالیس سال قبل لکھے گئے ایک ناول میں ’ووہان 400‘ نامی ایک ایسے تخیلاتی وائرس کا ذکر ہے جسے چین کے شہر ووہان میں قائم ایک لیبارٹری میں حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ ناول کا متعلقہ اقتباس کچھ اس طرح ہے:


’انہوں نے (چین کی حکومت) اس وائرس کو ’ووہان 400‘ کا نام دیا ہے۔ اس وائرس کو چین کی انتہائی خفیہ لیبارٹریز میں بنایا گیا ہے جو ووہان شہر سے باہر واقع ہیں۔ یہ وائرس انسانی ہاتھوں تیار کردہ کسی جرثومے کی 400ویں لڑی ہے جو خود کو انسانی جسم میں زندہ رکھ سکتی ہے۔‘ (اقتباس)


جی ہاں آئیز آف ڈارکنیس نامی یہ ناول ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو اس بارے میں سچائی جاننا چاہتی ہے کہ آیا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے یا واقعی موت کا شکار ہو چکا ہے۔ اس دوران اسے ووہان 400 کا پتہ چلتا ہے جسے ناول میں ’مکمل ترین ہتھیار‘ قرار دیا گیا ہے کیوں کہ:


’یہ وائرس صرف انسانوں کو متاثر کرتا ہے جب کہ دنیا میں کسی بھی دوسرے جان دار پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ صنفی بیماری آتشک کی طرح ووہان 400 بھی انسانی جسم سے باہر ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا جس کا مطلب ہے کہ پھیلاؤ کی صورت میں انتھراکس اور اسی قسم کے دوسرے مہلک خردحیاتیوں کے برعکس اس کے اثرات دائمی نہیں ہوں گے۔‘ (اقتباس)


مگر صرف اتنا ہی بلکہ اس ناول کے گرد باقاعدہ سازشی نظریات کا ایک پُراسرار ہالہ بھی موجود ہے۔

اول یہ کہ ڈین کونٹز نے یہ ناول اپنے اصل نہیں بلکہ قلمی نام ’لی نکولس‘ کے تحت تحریر کیا تھا۔ مگر اس ناول کو مجلد انداز میں 1989ء میں شائع کیا گیا جس پر ڈین کونٹز کا اصل نام دیا گیا تھا۔ کچھ سالوں بعد اس ہی ناول کو غیرمجلد انداز میں بھی شائع کیا گیا۔ مگر اس ایڈیشن میں کتاب کی اندر نہایت ناقابلِ فہم تبدیلی کی گئی جس کے تحت ووہان 400 کی جگہ ’گورکی 400‘ کا نام دیا گیا۔ جب کہ کچھ ابتدائی ایڈیشنز میں بھی ووہان کی جگہ روس کی شہر گورکی کا تذکرہ ہے جہاں روسی سائنس دانوں نے اس وائرس کو بطورِخاص امریکا کے خلاف ایک مہلک ترین حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر تیار کیا تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق محسوس ہوتا ہے کہ 1989ء میں ناول کے پبلشر نے قصداً گورکی کو ووہان سے بدل دیا کیوں کہ اس دوران سویت یونین کے زوال کے بعد سرد جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور اب امریکا کا دشمن روس نہیں بلکہ چین تھا۔

تو کیا درحقیت بذات خود ڈین کونٹز یا پھر اس ناول کا ایڈیٹر مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا؟

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق چوں کہ ووہان شہر میں ایک طویل عرصے سے بے شمار ایسی لیبارٹریز قائم ہیں جہاں خردحیاتیات اور وائرسز پر تجربات کیے جاتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ ڈین کونٹز جیسے ذہین مصنف نے جبلّی طور پر اپنی کتاب میں ووہان شہر ہی کا نام استعمال کیا ہو تاکہ ناول کی داستان حقیقت سے قریب تر محسوس ہو۔

علاوہ ازیں جاپان نے بھی جنگِ عظیم دوم کے دوران چین میں کیمیائی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے اور افواہوں کے مطابق موجودہ چینی حکومت بھی اسی انداز میں ان تجربات کو زوروشور سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

مگر خیال رہے کہ اصل ناول میں ووہان کی جگہ گورکی، روس کا نام دیا گیا تھا۔

کیا ان دونوں کے مابین کوئی تاریخی تعلق ہے؟

گورکی روس کا ایک شہر ہے جو ماسکو کے جنوب میں واقع ہے جس کی آبادی ساڑھے تین ہزار سے زیادہ نہیں۔ مگر یہ وہ ہی مقام ہے جہاں ولادمیر لینن دنیا سے رخصت ہوا اور ممکن ہے کہ ڈین کونٹز نے بغیر کسی خاص وجہ کے اس شہر کا نام استعمال کر لیا ہو جب کہ اس بات کے امکانات بھی موجود ہیں کہ گورکی کو ووہان سے بدلنے کا ’سہرا‘ کونٹز کے سر نہیں بلکہ اس کے ایڈیٹر کے سر ہو جو سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کے بارے میں کوئی اچھا تاثر دینا چاہتا ہو۔

شاید ڈین کونٹز اس ناول کا قریب نصف صدی بعد اگلا حصہ لکھ کر اس راز سے پردہ اٹھا سکیں۔