’تہذیب یافتہ‘ مغرب اور ’انسانی چڑیا گھروں‘ کا دھبہ

بیلجیم نے 1958ء میں ایک عالمی میلے کے لیے کانگو کے لوگوں کو براہ راست نمائش کے لیے استعمال کیا تھا۔ اسے ’دنیا کا آخری انسانی چڑیا گھر‘ کہا جاتا ہے۔

اس وقت بیلجیم نے 200 روز تک جاری رہنے والی رنگا رنگ تقاریب کا اہتمام کیا تھا جس کا مقصد دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس معا شرے میں ثقافتی، سماجی اور تکنیکی شعبوں میں ہونے والی ترقی کو اجاگر کرنا اور دنیا کو اپنی تیز رفتار ‘ایڈوانسمنٹ‘ سے مرعوب کرنا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سن 1958 میں بیلجیم میں اتنے بڑے پیمانے پر اور اس انداز کی تقریبات کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ بیلجیم کی قوم کی اجتماعی یادداشت میں کچھ ایسی سنہری یادوں کے نقوش چھوڑ دیے جائیں جن پر آنے والی نسلیں بھی فخر کر سکیں۔

بیلجیم کی تاریخ پر کلنک کا ٹیکا

جس وقت یورپی ملک بیلجیم اپنی ثقافت اور معاشرتی اقدار اور تاریخ پر فخر کا مظاہرہ کرتے ہوئے رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کر رہا تھا، اُس وقت ایک حقیقت کو ایسے نظر انداز کیا گیا جیسے کہ اُس کا وجود ہی نہیں تھا۔ ”سیاہ فام مرد، عورتوں اور بچوں کی ان کے آبائی ماحول کے ساتھ نمائش۔‘‘

یہ کوئی فلم یا سائنس فکشن پر مشتمل کہانی نہیں ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اہتمام ‘تہذیب یافتہ‘ سفید فام یورپی باشندوں نے اپنے ہم نسل، ہم زبان اور ہم وطن افراد کی تفریح اور تعلیم کے لیے کیا تھا۔ یہ تھا ‘دنیا کا آخری انسانی چڑیا گھر‘۔

بلجیئن کانگو کی نو آبادیاتی تاریخ

وسطی افریقہ میں کانگو وہ علاقہ ہے جو 1908ء سے لے کر 1960ء تک بیلجیم کی کالونی رہا ہے۔ نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا پانے کے چار سال بعد 1964ء میں اسے موجودہ نام یعنی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو دیا گیا۔

1958ء تک بیلجیم کی کانگو پر حکمرانی تھی۔ معدنیات سے مالا مال وسطی افریقی ریاست نہ صرف معاشی طور پر بہت حد تک فائدہ مند تھی  بلکہ اس نے اس چھوٹے سے  یورپی ملک  بیلجیم کو مالا مال کیا۔

کانگو کے روایتی گھروں کی دیواروں پر زیادہ تر ایسے نقوش بنے ہوتے ہیں۔

ایکسپو ’58 کو بیلجیم کے سیاست دانوں نے اس کارنامے کو جلا بخشنے کے ایک موقعے کے طور پر دیکھا اور اس بات پر مہر لگا دی کہ بیلجیم کانگو کے ساتھ خصوصی رشتہ استوار رکھے ہوئے ہے۔
ایکسپو ’58  کی نمائش کے مرکزی حصے میں سات پویلینز کی مدد سے آٹھ ہیکٹر اراضی کانگو، اس کے فنون ، نقل و حمل اور زراعت سمیت دیگر ممالک میں کان کنی کے موضوعات کے لیے وقف کی گئی تھی۔ اسے ‘کانگوراما‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

تین ہیکٹر پر پھیلے ٹروپیکل  باغات میں کانگو کے مرد، خواتین اور بچوں کو بانس کے چاروں طرف باڑ کے پیچھے ‘روایتی‘ لباس میں رات دن دکھایا جاتا تھا۔

مغربی معاشروں میں انسانی چڑیا گھر

انسانی چڑیا گھر کا وجود کسی بھی  مغربی ملک کے لیے نیا نہیں تھا اور اس صدی کے شروع میں لندن، پیرس، اوسلو اور ہیمبرگ میں باقاعدگی سے اس کی نمائش منعقد کی جاتی تھی۔ 

سن 1906 میں ایک کانگولیسی نوجوان کو، جس کے دانت بہت تیز تھے، نیو یارک کے برونکس چڑیا گھر میں بندر کے پنجرے نما گھر میں رہنے کی جگہ دی گئی تھی۔

1897ء کے موسم گرما میں، بادشاہ لیوپولڈ دوم نے برسلز کے مشرق میں تیورین کے مقام پر اپنے نوآبادیاتی محل کے گرد شاہی جھیلوں کے ساتھ نمائش کے لیے 267 کانگولیزی درآمد کیے تھے۔

بیلجیم کی 4 ملین کی آبادی میں سے 1.3 ملین باشندے رسی سے بنائے گئے ایک پُل پر چڑھ کر کانگو کے انسانوں کی نمائش کے  بہترین نظاروں سے محظوظ ہونے آئے تھے۔ 

بیلجیم کا 1897ء کا انسانی چڑیا گھر

اس برس موسم گرما میں سخت سردی تھی اور سات کانگولیزی نمونیہ اور انفلوئنزا کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ ان کی لاشیں مقامی قبرستان میں ایک نشان زدہ اجتماعی قبر میں پھینک دی گئیں۔

لیکن چڑیا گھر اور دیگر نمائشوں کی مقبولیت ایسی تھی کہ بعد میں اس جگہ پر مستقل نمائش کا قیام عمل میں لایا جانا تھا۔ ابتدا میں یہ کانگو کا میوزیم کہلاتا تھا، اب یہ وسطی افریقہ کا رائل میوزیم کہلاتا ہے۔

1958ء کی نمائش پیمانے میں چھوٹی تھی اس میں ایک ‘عام‘ گاؤں قائم کیا گیا تھا، جہاں کانگولیزی باشندوں نے اپنی دستکاری اور بھوسے کی جھونپڑیوں کے ذریعے اپنے ‘ہَٹس‘ سجا رکھے تھے جب کہ کنارے پر کھڑے سفید فام مرد اور خواتین ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان مناظر کے بارے میں صحافیوں نے مختلف جریدوں اور اخباروں میں رپورٹیں تحریر کیں۔
ایک صحافی نے تماشائیوں کے بارے میں لکھا، ”اگر سیاہ فام کانگولیزی باشندوں کی طرف سے  کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوتا تھا تو تماشبین ان کے بانس سے بنے پنجرے نما گھروں کے اندر رقم یا کیلے پھینکتے تھے۔‘‘
ایک اور رپورٹ میں لوگوں کے بارے میں لکھا گیا کہ اکثر شائقین کو کہتے سنا جاتا تھا کہ وہ ‘جانوروں کے باغات میں نیگروز کو دیکھنے آئے ہیں‘۔

کانگولیزیوں کی نمائش میں 598 افراد شامل تھے جن میں 273 مرد، 128 خواتین اور 197 بچے شامل تھے۔ مجموعی طور پر 183 خاندان افریقہ سے  میلے کے لیے لائے گئے تھے۔
وسطی افریقہ کی ایک مورخ ڈاکٹر سارہ فان بیورڈن کے مطابق نوآبادیاتی دفتر تاہم بیلجیم میں ان سینکڑوں سیاہ افریقی باشندوں کے قیام کے نتائج کے بارے میں فکرمند تھا۔

1958ء ایکسپو کے دوران کانگولیزیوں کو تنگ رہائشی عمارت اور گھومنے پھرنے کی سخت پابندیوں میں رکھا گیا اور در حقیقت میلے میں روزانہ ان  کے ساتھ زیادتیاں ہوتیں اور ان کا تمسخر اڑایا جاتا تھا۔

اُسی برس جولائی تک ان کانگولیزی فنکاروں، کاریگروں اور ان کے اہل خانہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اب مزید یہ زندگی نہیں گزاریں گے۔  ان میں سے کچھ اپنے گھر واپس چلے گئے۔ انسانی چڑیا گھر کو، جسے کانگولیزیوں نے پہلے تسلیم کر لیا تھا، بند کردیا گیا  تاہم باقی میلہ جاری رہا۔

اس طرح کے چڑیا گھروں کو دوبارہ کہیں نہ لگانے پر زور دیا جانے لگا۔ جون 1960ء میں کانگو نے اپنی آزادی حاصل کرلی۔ لیکن وسطی افریقہ کے رائل میوزیم ‘آر ایم سی اے‘ کے ڈائریکٹر جنرل گائڈو گریسلز کے مطابق وہ نمائش، جو 1897ء میں لگائی گئی تھی اور جس میں اس چڑیا گھر کو ایک  مرکزی حیثیت حاصل تھی، وہ تعصب کی جیتی جاگتی تصویر تھی جو اب بھی موجود ہے۔ 

وہ کہتے ہیں  کہ اس تعصب کے خلاف جدوجہد ان کی زندگی اوران کے کاموں کا مرکزی مقصد ہے۔