بدبو دار سانس کا عموماً خراب صحت سے تعلق نہیں

ہم میں سے اکثر افراد صبح سانس کی ناخوشگوار بُوکے ساتھ اٹھتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ آخر کیا ہے ؟ اور کیا سانس کی بدبو سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے ؟

طبی اعتبار سے سانس کی بُو کا انسانی صحت کی خرابی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق منہ میں لعاب پیدا کرنے والے غدود رات میں لعاب پیدا نہیں کرتے جو کہ منہ کو خشک کر دیتا ہے۔

  • طب کی زبان میں منہ سے آنے والی بدبُو کو ہیلی ٹوسس کہتے ہیں۔ یہ منہ کی صفائی کا مناسب طریقے سے خیال نہ رکھنے اور کھانے پینے کی غلط عادات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

اس دوران بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور ان بیکٹیریا کی جانب سے خارج ہونے والا فضلا بدبو کا باعث بنتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق رات سونے سے قبل زبان اور دانتوں کی صفائی منہ میں ناخوشگوار مہک کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

ہریالی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے ضروری

دانتوں کے لیے برش، زبان کی صفائی کے لیے دھات یا پلاسٹک کی پٹی اور دانتوں کے درمیان خلاء کو صاف کرنے کے لیے پلاسٹک یا ریشم کے دھاگے کے ساتھ دانتوں کی صفائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ منہ کی صفائی کے لیے بازار میں دستیاب مختلف طرح کے محلول بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اگر کھانا کھانے کے دوران خوراک کے کچھ ٹکڑے آپ کے دانتوں کے درمیان موجود جگہ میں پھنس جاتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے دانتوں کی صفائی کا اور بھی زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ کچھ بھی کھائیں لیکن بعد میں کُلّی ضرور کریں اور صبح شام دانتوں کو اچھی طرح برش کریں۔

اگر دانتوں کی صفائی کی تمام تر کوششوں اور ٹوٹکوں کے باوجود سانس کی بدبُو کم نہ ہو تو پھر آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ کئی بار سانس کی بدبُو کسی بیماری کا اشارہ بھی ہوتی ہے۔