Does the Moon Influences Man? Read in Urdu

کیا چاند کی کشش کے انسان پر بھی اثرات ہوتے ہیں؟

ہم آج اچھی طرح جانتے ہیں کہ چاند کی کشش درختوں، پرندوں، سمندری جانوروں اور جنگلی حیات پر اثر ڈالتی ہے تو آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم انسانوں پر اس کی کشش کوئی اثر نہ ڈالے تاہم اس بارے میں مستند سائنسی ڈیٹا ابھی بہت محدود، ملاجلا اور قابلِ اعتبار نہیں ہے اور اگر چاند کی کشش انسانوں پر کسی نہ کسی انداز میں اثرانداز ہوتی بھی ہے تو اس بارے میں سائنس کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔

ایک معروف سائنسی جریدے کے مطابق اگرچہ آج تک کسی نے سوائے ہالی وڈ فلموں میں پورے چاند کی روشنی میں انسانوں کو ’وئروولف‘ – بھِڑمانس؟ – تو بنتے نہیں دیکھا ہے؛ مگر اس کے باوجود یہ خیال اپنی جگہ بالکل درست اور سائنسی ہے کہ اگر پورے چاند کی کشش دنیا کے دوسرے جان داروں پر اثرانداز ہو سکتی ہے تو پھر انسانوں کو اس ذیل میں استثناء آخر کس رو سے حاصل ہے؟

چناں چہ متعدد سائنس دان ایک طویل عرصے سے ’چاند کی کشش کے انسانوں پر اثرات‘ کی دریافت میں سرگرداں ہیں۔ اس تناظر میں کچھ محققین نے پورے چاند کی راتوں میں پیدائش کی شرح، حادثات اور امراضِ قلب سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ دیگر کچھ نے پاگلوں پر پڑنے والے دوروں، انسانوں کے مزاج میں یکایک درآئی درشتگی اور جرائم میں اضافوں کو اپنی ریسرچ کا محور بنایا ہے بلکہ بعض سائنسی طور پر غیرمتعصب سائنس دانوں نے تو حصص بازار کے اتارچڑھاؤ تک پر چاند کے امکانی اثرات کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے تاہم اس ذیل میں مرتب جانے والا زیادہ تر ڈیٹا حتمی نتائج سے محروم اور باہمی تضادات سے پُر ہے۔

مثال کے طور پر کسی ایسی ریسرچ کے جواب میں جس کے مطابق

پورے چاند کی راتوں میں لوگ ٹھیک سے سو نہیں پاتے

ایک بالکل متضاد تحقیق دعویٰ کرتی نظر آتی ہے کہ پورے چاند کے انسانوں کی نیند پر چنداں اثرات نہیں ہوتے مگر پھر اس کے بھی جواب میں کوئی اور ماہر یہ ناقابلِ تردید دلیل پیش کر دیتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ خواتین کی ماہ واری کا اوسط عرصہ – اٹھائیس دن – آخر کل قمری دور یعنی – ساڑھے انتیس دنوں – سے قطعی مطابقت کیوں رکھتا ہے؟

یہاں دیکھیے 


پڑ گئے نہ سوچ میں؟


جی ہاں یونی ورسٹی آف گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں جانداروں اور ان کے ماحول کے باہمی تعلق کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ ڈومینونی بھی اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں کوئی بھی قطعی جواب دینا فی الوقت ممکن نہیں اور اس سوال کے جواب میں کہ اس بات کی آخر وجہ کیا ہے ڈومینونی کا کہنا ہے:


’بات یہ ہے کہ پورے چاند کے انسانوں کے مزاج پر اثرات کو جانچنے والے زیادہ تر تحقیقاتی مطالعے ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں چناں یہاں یہ چیز سمجھنا ضروری ہے کہ باہمی روابط کسی شے کے پیداکردہ سبب اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والے اثرات کو ہرگز ثابت نہیں کرتے؛ مگر اس کے باوجود اگر کسی اثر کا ناقابلِ تردید مشاہدہ ممکن ہو تو پھر اس کی حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ممکن ہو کہ ایسا کسی ایسی وجہ کی بناء پر ہو رہا ہو جس سے ہم فی الوقت واقف نہیں۔‘


اس پیچیدہ سی بات کا سادہ سے الفاظ میں مطلب صرف اتنا ہے کہ وہ علم جسے ہم جدید سائنس کہتے ہیں محض ابھی اپنے عہدِطفولیت میں ہے اور کھیلن کو چاند مانگ رہی ہے۔

خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا کہ بقول شاعر – غالؔب مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات – درحقیت سنجیدہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک اس نوعیت کے مطالعات میں جو ڈیٹا یا معلومات اکٹھا کی گئیں ہیں ان میں محققین سرے سے انسانوں پر چاند کے اثرات کا مطالعہ ہی نہیں کر رہے تھے۔

چناں اب ضرورت ایسے شفاف ترین تجربات کی ہے جن میں واضح مفروضات کے تحت چاند کے انسانوں کے اذہان اور جسم کے افعال کا پوری سائنسی سچائی سے جائزہ لیا جائے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا آج بڑے سے بڑا ماہر بھی اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ آیا کہ فی الواقع زمین کے پہلو سے ٹوٹا یہ پُراسرار سیارچہ ہمیں ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر کرتا ہے یا یہ ساری بات من حیث المجموع صرف ایک افسانہ تھی۔