Dozens Of Weird Sarcophagi Unearthed In Egypt

مصر میں تین ہزار سال قدیم پُراسرار ترین تابوت دریافت

مصر میں ماہرین آثار قدیمہ کو فراعین کے دور کے ایسے درجنوں تابوت ملے ہیں، جو آج بھی بہت اچھی حالت میں ہیں۔ جنوبی مصر میں تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی حنوط شدہ لاشوں والے یہ تیس تابوت الاقصر میں کھدائی کے دوران ملے۔

ہزاروں سال پرانے ان تابوتوں میں بند حنوط شدہ لاشیں بھی اب تک تقریباﹰ اپنی اصلی حالت میں ہیں

ماہرین ان قدیمی نوادرات کی دریافت کو جدید آرکیالوجی کے لیے انتہائی سنسی خیز واقعات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ یہ سب تابوت لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور ان پر مختلف روغنوں سے رنگا رنگ نقس و نگار بھی بنے ہوئے ہیں۔

یہ تابوت جنوبی مصر میں آثار قدیمہ کے خزانوں کا عظیم مدفن سمجھے جانے والے علاقے الاقصر میں العساسیف نامی قدیمی قبرستان سے ملے

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ان میں سے پہلا تابوت زمین سے صرف ایک میٹر کی گہرائی میں دریافت ہوا اور اس کے بعد جب مزید کھدائی کی گئی، تو قریب ہی ایک قطار کی صورت میں وہیں پر مزید انتیس دیگر تابوت بھی رکھے ہوئے ملے۔

العساسیف کا قدیمی قبرستان

قاہرہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق لکڑی کے یہ تابوت جنوبی مصر میں آثار قدیمہ کے خزانوں کا عظیم مدفن سمجھے جانے والے علاقے الاقصر میں العساسیف نامی اس قدیمی قبرستان سے ملے، جہاں سے پہلے بھی بہت سے نوادرات نکالے جا چکے ہیں۔

قدیم مصر میں اس قبرستان میں اہم سماجی اور مذہبی شخصیات کو دفن کیا جاتا تھا۔ یہ 30 تابوت وہاں تین ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل دفن کیے گئے تھے اور ان کی حالت آج بھی غیر معمولی حد تک اچھی بتائی گئی ہے۔

ہزاروں سال پرانے لکڑی کے یہ تیس تابوت اور ان میں بند حنوط شدہ انسانی لاشیں اب تک تقریباﹰ اپنی اصلی حالت میں ہیں۔ ماہرین ان قدیمی نوادرات کی دریافت کو جدید آرکیالوجی کے لیے انتہائی سنسی خیز واقعات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ مصر میں گزشتہ تقریباﹰ سوا سو سال کے دوران یہ اپنی نوعیت کی عظیم ترین دریافت ہے۔

مصر میں آثار قدیمہ سے متعلقہ امور کے ملکی وزیر ڈاکٹر خالد العنانی نے صحافیوں کو بتایا، ”مصر میں انیسویں صدی عیسوی کے اختتام کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں ازمنہ قدیم کے اور انسانی جسموں کی باقیات والے اتنے زیادہ تابوت اکٹھے ملے ہیں، جو آج بھی حیران کن حد تک اچھی حالت میں ہیں۔‘‘

بچوں اور مذہبی شخصیات کے تابوت

مصری حکام کے مطابق ابتدائی جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ تابوت تب انتقال کر جانے والے بچوں اور سماجی طور پر مذہبی رہنماؤں یا کاہنوں کا کردار ادا کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

ان تابوتوں اور ان میں رکھی گئی حنوط شدہ انسانی لاشوں کا تعلق فرعونوں کے دور کے 22 ویں حکمران خاندان سے ہے، جس کا اقتدار تین ہزار سال سے بھی پہلے شروع ہو گیا تھا۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اتنا زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود لکڑی کے ان تابوتوں پر سیاہ، سرخ اور زرد رنگوں سے بنے اژدھوں، پرندوں اور طرح طرح کے پھولوں والے نقش و نگار آج بھی واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں۔

ان تابوتوں کی دریافت کے بعد ان کی فوری طور پر بہت ہی ہلکی پھلکی مرمت کرنا پڑی

نواح میں انسانی آبادی نہ ہونے کا فائدہ

آثار قدیمہ کی دیکھ بھال اور مرمت کے مصری ماہر صالح عبدالجلیل نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ ان تابوتوں کی دریافت کے بعد ان کی فوری طور پر بہت ہی ہلکی پھلکی مرمت کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا، ”غالب امکان یہ ہے کہ ازمنہ قدیم کے یہ درجنوں تابوت اس لیے آج بھی بہت اچھی حالت میں ہیں کہ العساسیف نامی قدیمی قبرستان کے گرد و نواح میں شاید ہی کبھی کوئی انسانی آبادی رہی ہو۔‘‘

آثار قدیمہ کے مصری وزیر ڈاکٹر خالد العنانی نے بتایا کہ ان نودریافت شدہ نوادرات کو اگلے برس دوبارہ کھولے جانے والے اور زیادہ بڑے بنا دیے گئے ‘ایجِپشن میوزیم‘ میں نمائش کے لیے رکھ دیا جائے گا۔

آثار قدیمہ کے ماہرین کو ایسے تیس تابوت ملے ہیں اور یہ تقریباﹰ سوا سو سال بعد اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور بیش قیمت دریافت ہے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی انتہائی قیمتی دریافتیں مصری تاریخ اور قدیم تہذیب کے خزانوں کے طور پر مصر اور ساری دنیا کے لیے ناقابل بیان اہمیت کی حامل ہیں۔

مصر میں دریائے نیل کے کنارے ‘بادشاہوں کی وادی‘ کہلانے والے علاقے میں ان نوادرات کی موجودگی کا علم ہونے کے بعد انہیں زمین سے نکالنے کا کام تقریباﹰ دو ماہ قبل شروع کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 1881ء اور 1898ء میں بھی مصر میں الاقصر کے مقام سے ہزاروں سال پرانے ایسے کئی تابوت ملے تھے، جن میں قدیم بادشاہوں کی حنوط شدہ لاشیں بند تھیں۔

اس کے علاوہ اسی علاقے سے 1891ء میں ماہرین آثار قدیمہ کو کئی ایسے تابوت بھی ملے تھے، جن میں ازمنہ فراعین کی سرکردہ مذہبی شخصیات یا کاہنوں کی حنوط شدہ لاشیں موجود تھیں۔