Drunk Indians Stand by Government to Fight Financial Crisis
جامِ جہاں نما - مئی 9, 2020

شرابی بھارتی برے وقت میں حکومت کا ’واحد‘ سہارا

انڈیا میں مارچ کے آخر سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران جب 42 روز بند رہنے کے بعد چار مئی کو شراب کی دکانیں دوبارہ کھلیں تو پورے ملک میں سنسان سڑکوں پر عوام کا رش دیکھنے میں آیا۔

کئی جگہوں پر شراب نوش دکان کھلنے سے کئی گھنٹے پہلے ہی قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے اور اس سے قبل ملک میں شراب کی دکانوں کے باہر ایسی بھیڑ کبھی نہیں دیکھی گئی۔

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کی حکومت کو پہلے دن شراب کی فروخت سے سو کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ دوسرے روز کرناٹک کی حکومت کو تقریباً دو سو کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں موصول ہوئے۔ دلی میں دکان کھلتے ہی لوگ اتنی بڑی تعداد میں باہر آئے کہ سماجی فاصلے کے ضابطے پر عمل نہ ہوا اور پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

دلی حکومت نے شراب فروخت کرنے والی دکانوں کے باہر شہریوں کا رش ختم کرنے کے لیے جمعے سے ای ٹوکن جاری کرنے کا اعلان کیا لیکن شراب کے حصول کے لیے ای ٹوکن جاری کرنے والی ویب سائٹ کھلتے ہی کریش کر گئی۔

آخر لوگ شراب کے لیے اتنے بے چین کیوں ہیں؟

انڈیا میں شراب فروخت کرنے والی دکانوں کے باہر عوام کی بھیڑ کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ شراب کی دکانیں لاک ڈاؤن کے باعث گذشتہ سوا ماہ سے بند تھیں۔

غیر متوقع لاک ڈاؤن کے سبب شراب نوشی کرنے والے افراد گھروں میں سوا مہینے سے بند تھے اور کوئی سماجی سرگرمی نہ ہونے کے باعث شراب کی طلب میں شدت سے اضافہ ہوا ہے۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ سوا ارب کی آبادی والا یہ ملک اب شراب کی کھپت والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔


’شراب نوشوں نے بھی اس مشکل گھڑی میں حکومت کو مایوس نہیں کیا ہے‘


انڈیا کی اکثریتی نوجوان آبادی میں وِسکی اور رُم جیسی ہارڈ ڈرنکس کے ساتھ وائن اور بیئر جیسی الکوحل بھی مقبول ہے۔

انڈیا کے معاشرے میں متوسط اور قدرے امیر طبقہ شراب نوشی کو ’اعتدال پسندی اور شخصی آزادی‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران شراب پر پابندی کو بہت سے لوگ ’ریاستی جبر‘ سے تعبیر کر رہے ہیں اور اب شراب حاصل ہونے کو وہ ’کھوئی ہوئی آزادی کی واپسی‘ کی علامت سمجھتے ہیں۔

کورونا کی وبا ابھی مزید کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ تجربہ کار شراب نوشوں کا ایک مفروضہ یہ ہے کہ اس صورت میں شراب کی کشید میں رکاوٹ آ سکتی ہے اور چند ہفتوں میں شراب کی سپلائی رک سکتی ہے۔

اس خدشے کے پیش نظر بہت سے لوگ مستقبل کے لیے بھی شراب کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

ریاستی حکومتیں شراب کی دکانیں کھولنے کے لیے بے چین

ملک میں کئی افراد یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک کورونا کے خلاف نبرد آزما ہے اور کروڑوں لوگوں کو کھانے پینے کی مشکلات کا سامنا ہے، شراب کی دکانیں کھولنا ایک سنگین مذاق ہے۔

لیکن شراب کی فروخت کے لیے صارفین سے زیادہ ریاستی حکومتیں شراب کی دکانیں کھولنے کے لیے بے چین ہیں۔

شراب کی تیاری اور فروخت ریاستوں کی نقد اور ٹھوس آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں اقتصادی سرگرمیاں پوری طرح معطل ہیں اور ریاستوں کے پاس اپنے ملازمین کی تنخواہیں دینے تک کے پیسے نہیں ہیں، شراب کی فروخت سے انھیں اربوں کی کمائی ہو رہی ہے۔

موقع کو غنیمت جان کر دلی کی ریاستی حکومت نے شراب پر اضافی 70 فیصد کورونا ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ کرناٹک نے بھی 17 فیصد اضافی ٹیکس لگا دیا ہے۔ آندھرا پردیش نے دلی کے طرز پر عمل کرتے ہوئے 75 فیصد اضافی ٹیکس لگایا ہے۔ کم وبیش سبھی ریاستوں نے شراب پر اضافی ٹیکس عائد کر دیے ہیں۔ اس سے ان ریاستوں کو ہزاروں کروڑ کی اضافی آمدنی ہوگی۔

ریزرو بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019-20 کے مالی سال میں دلی اور پانڈیجری سمیت ملک کی 31 ریاستوں کو شراب کی فروخت سے ایک لاکھ 75 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔

اس آمدنی میں سالانہ 16 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا تھا۔ شراب پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے سے تمل ناڈو کو 37 ہزار کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی اور کیرالہ نے 18 ہزار کروڑ روپے کمائے تھے۔

گذشتہ مالی سال میں دلی کو چھہ ہزار کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں موصول ہوئے یعنی ریاست کو ہر مہینے شراب کی فروخت سے پانچ سو کروڑ روپے کی آمدنی ہو رہی تھی۔

شراب سے اتر پردیش کو سالانہ آمدنی 31517 کروڑ روپے ہوئی تھی۔

کرناٹک کی انکم بیس ہزار کروڑ روپے اور مہاراشٹر کی 17477 کروڑ روپے تھی جبکہ تلنگانہ جیسی چھوٹی ریاست کی آمدنی بھی گیارہ ہزار کروڑ تھی۔

انڈیا میں مرکزی اور ریاستی ٹیکسوں اور پٹرولیم پر ایکسائز ڈیوٹی کے بعد شراب ریاستوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کورونا کی وبا کے اس دور میں جب سبھی معاشی اور تجارتی سرگرمیاں بند ہیں اور موٹر گاڑیاں نہ چلنے کے سبب پٹرول کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہے، شراب ریاستوں کی آمدنی کا واحد سہارا ہے۔

شراب نوشوں نے بھی اس مشکل گھڑی میں حکومت کو مایوس نہیں کیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں میں شراب کے صارفین نے کئی ہزار کروڑ روپے خرچ کر کے انڈیا کی معیشت کو کھولنے کا آغاز کر دیا ہے۔