Dry Rain

خشک بارش

کیٹی نے کچن سے باہر جھانکا۔ اس کے ہاتھ میں گلاب کی ایک ٹہنی تھی۔ ’میرا بھی یہ ہی خیال ہے۔‘ اس نے کہا۔ جواب میں میں نے چڑ کر کہا کہ بے وقوف لڑکی یہ بارش ہی ہے ورنہ یہ لگا تار ٹپ ٹپ کی آواز کس چیز کی ہے۔ ’میرا خیال تھا کہ آج رات موسم صاف رہے گا‘ کیٹی نے فرائنگ پین میں چمچہ چلاتے ہوئے کہا۔ ’مگر اب لگتا ہے ہم باہر صحن میں ڈنر نہیں کر سکیں گے۔‘ یہ بہت اچھا ہوا میں نے سوچا کیوں کہ میں باہر صحن میں ڈنر کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ پڑوسیوں کا کتا ہمیشہ ہمیں دیکھ کر بھونکتا تھا اور اس کے دانت ضرورت سے کچھ زیادہ ہی لمبے تھے۔ ’کیا تم موسم کا حال چیک کر سکتے ہوں؟ اگر بارش جلد رکنے کا امکان ہے تو ہم باہر ڈنر کر سکیں گے۔‘ کیٹی نے کہا۔ ’اوکے ہنی ۔ ۔ ۔ ‘ میں نے جیب سے اپنا اسمارٹ فون نکالتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور پھر اپنی انگلیوں سے مطلوبہ آئی کون کلک کیا اور موسم کا حال بتانے والی سائٹ کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا مگر اسکرین پر موسم کے بارے میں جو اطلاع درج تھی اسے دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔ ۔ ۔ 16 ڈگری سینٹی گریڈ۔ آسمان پر کہیں کہیں بادل ۔ ۔ ۔

’اس کے مطابق بارش نہیں ہو رہی۔ ہو سکتا ہے بادل صرف ہمارے علاقے میں برس رہے ہیں۔‘ میں نے با آواز بلند کہا۔ ’ٹھیک ہے پھر ہم اندر ہی ڈنر کرتے ہیں۔ بس کھانا تیار ہونے ہی والا ہے۔‘ شکر ہے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا۔ پھر میں کیٹی کے پاس کچن میں گیا اور اپنی کتاب جس کا میں کافی دیر سے مطالعہ کر رہا تھا کائونٹر پر رکھ دی۔ باہر سے بارش کی لگا تار آواز آ رہی تھی۔ میں کھانے کی میز کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور خالی نظروں سے شیشے کے باہر تکنے لگا۔ ’میں مارکیٹ سے عمدہ ترین پنیر لے کر آئی ہوں۔‘ کیٹی نے کہا۔ اس دوران کچن میں برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ اور باہر سے بارش کے علاوہ کوئی دوسری آواز نہیں تھی۔ ’یہ دراصل اٹلی کا پنیر ہے جہاں گائیں جنگلی پھول چرتی ہیں اور ۔ ۔ ۔‘ ’ٹہرو۔‘ میں نے کہا۔

میری آنکھیں کھڑکی کے شیشے سے پار باہر جمی ہوئی تھیں۔ باہر صحن میں بہت ہلکی روشنی تھی جو کچن سے وہاں پڑ رہی تھی مگر پھر بھی مجھے لگ رہا تھا کہ ۔ ۔ ۔ فرش گیلا نہیں تھا۔ ’جیمز ۔ ۔ ۔ ؟ میں نے تیزی سے دروازہ کھولا اور باہر ہاتھ نکال کر بارش کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ میرے ہاتھ پر ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔ ’بارش نہیں ہو رہی۔‘ میں نے کیٹی سے کہا۔ ’مگر آواز تو آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ ‘ ’تم خود آ کر دیکھ لو۔‘ میں یہ کہتا ہوا باہر تاریکی میں بڑھ گیا۔ جب کیٹی نے باہر نکل کر دیکھا تو اس کا چہرہ اتر گیا۔ ’واقعی بارش تو نہیں ہو رہی مگر پھر یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ ’مجھے نہیں پتہ۔‘ میں نے ایک طرف کو مڑتے ہوئے اسے جواب دیا۔ مگر بارش کی آواز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ میں عقبی صحن میں مزید آگے بڑھا۔ وہاں لگی گھاس بالکل خشک تھی۔ کیٹی بھی میرے پیچھے پیچھے چلی آئی۔ اس کے ہاتھ میں ابھی بھی کھانا پکانے کا چمچہ تھا جسے اس نے کسی ہتھیار کی طرح پکڑا ہوا تھا۔ ’یہاں بارش کی آواز کچھ کم ہے۔‘ بارش کی ٹپا ٹپ میں اس کی آواز ابھری۔ ’مطلب۔ ۔ ۔‘ ’میرا خیال ہے یہ آواز گھر کے اندر سے آ رہی ہے۔‘ کیٹی نے مجھے جواب دیا۔ میں گھر کی طرف مڑا اور پلٹ کر ایک بار پھر عقبی صحن میں نکل آیا۔ ’ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو۔‘ میں نے الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے کہا۔

تمہارے خیال میں یہ آواز کس چیز کی ہے لزا نے لرزتی ہوئی آواز میں سوال کیا۔ ’مجھے نہیں پتہ مگر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاں یہ آواز زیادہ تیز ہے۔‘ میں صحن میں بائیں طرف مڑا جہاں گھر کے پیچھے رکھے گملوں میں گلاب کے پودے لگے ہوئے تھے مگر یک لخت لزا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

وہ بھاگتی ہوئی پودوں کے پاس گئی اور میں نے آج سے پہلے اسے کبھی اتنا تیز دوڑتے نہیں دیکھا تھا۔ حیرت سے پھیلی آنکھوں کے ساتھ اس نے مٹی میں اپنا ہاتھ گھسیڑ دیا۔ مٹی کے سیاہ ڈیلے اڑ کر اس کے کپڑوں اور میرے جوتوں پر آ گرے۔ اور پھر اس نے مٹی کو ہاتھ میں لے کر اوپر اٹھایا – چھوٹا سا سیاہ چوکور ۔ ۔ ۔

میرا دل دھڑکنے لگا۔ وہ ایک اسپیکر تھا اور پھر کہیں سے ایک روشنی چمکی مگر یہ آسمانی بجلی کی روشنی نہیں تھی مگر کسی ایسی چیز سے ابھری تھی جو گھر کی دیوار میں ایک طرف لگی ہوئی تھی۔ یہ روشنی انتہائی چمک دار اور سفید تھی جس میں ہم دونوں کے دہشت زدہ چہرے نمایاں ہو گئے اور پھر کچھ سیکنڈ بعد اسپیکر سے بارش کی گھڑگھڑاہٹ سنائی دی ۔ ۔ ۔

 


دوسرا حصہ جلد آ رہا ہے