Duga Radar in Urdu

پراسرار ترین سوویت راز پر سی این این کی رپورٹ


Duga Radar in Urdu

 

یوکرین کے دارالحکومت کیف کے شمال میں پھیلے جنگلات جہاں آج تک کم ہی لوگ پہنچ سکے ہیں سیر و تفریح کا پر سکون مگر پر اسرار ترین مقام ہیں۔ یہاں نزدیک ہی وہ جگہ ہے جہاں 1986ء میں چرنوبل ایٹمی پلانٹ کا بد ترین سانحہ پیش آنے کے بعد تمام یورپ کسی نہ کسی درجے میں‌ میں تاب کاری سے متاثر ہوا تھا۔ اس مقام پر 2011ء کے بعد سیاحوں کی آمدورفت میں قدرے اضافہ ہوا ہے جس کا سبب سرد جنگ کے دور میں روس کا تعمیر کردہ ایک پراسرار ترین ‘راز’ ہے جسے گھنے جنگلات نے اپنی آغوش میں چھپایا ہوا ہے۔ آج اس راز کو دنیا ’ڈوگا ریڈار‘ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اگرچہ ریڈار کی اس وسیع و عریض عمارت کو میلوں دور سے دیکھا جا سکتا ہے مگر سویت یونین کے دور میں یہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا اور آج بھی سرد دھند میں سر اٹھائے اس پراسرار عمارت پر پہلی نظر پڑتے ہی نہ جانے کیوں دل خوف سے ایک بار ضرور کانپ اٹھتے ہیں اور وجود انسانی کو ایک عجیب نوعیت کی ہیبت تھرتھرا کر رکھ دیتی ہے۔ میلوں دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے گویا فولاد سے بنا کوئی عفریت ایک دیوار کی طرح دیکھنے والی نگاہ کی طرف قدم اٹھا رہا ہو در آں حال یہ کہ قریب سے دیکھنے پر اس خستہ حال عمارت کی اصل وسعت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سینکڑوں بڑے بڑے اینٹینے اور ٹربائن نہ جانے کس مقصد کے لیے لگائے گئے تھے۔ سویت یونین کی اشتراکی حکومت کے دورمیں ڈوگا ریڈار جسے اردو میں ’برقی قوس‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ملک کی طاقت ترین عسکری تنصیبات میں ایک تھا۔ اس عمارت کی بلندی 492 فیٹ ہے جو تقریباً 700 میٹر تک پھیلی ہوئی ہے مگر چرنوبل سانحے کے بعد آج اسے دیکھ کر کسی تباہ حال صنعتی ڈھانچے کا گمان ہوتا ہے۔ اس عمارت کے احاطے میں بے شمار ناکارہ گاڑیاں، فولادی ڈرم اور نا قابل فہم برقی آلات بکھرے پڑے ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چرنوبل سانحے کے بعد اسے کتنی عجلت میں خالی کیا گیا تھا۔


’. . . ڈوگار ریڈار کی تعمیر کے راز سے آج تک کوئی واقف نہیں . . .‘


کئی عشروں تک ڈوگا ریڈار کسی نرگس کی طرح اپنی بے نوری پر ماتم کناں فنا کی دلدل میں دھیرے دھیرے اترتا رہا مگر 2013ء میں چرنوبل حادثے کی جگہ کا دورہ کرنے والوں کو یکایک اس مقام تک جانے کی اجازت دے دی گئی مگر آج بھی اس مقام کی موجودگی سے واقف لوگ تک اس پر دوبارہ نظر ڈالنے کے بعد اس کے طول و عرض کے سامنے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ سویت یونین کے خاتمے کے کئی عشروں بعد بھی اس مقام سے وابستہ داستانیں کسی جواب کے بجائے اذہان میں مزید نئے سوالات کو جنم دیتی ہیں کیوں تاحال اس پراسرار عسکری تنصیب کا مقصد ہر کس و نا کس کی سمجھ سے باہر ہے۔


’. . . ڈوگا ریڈار کو زمین کے کرہ روانیہ سے موصول ہونے والے برقی اشاروں کو واپس دھکیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا . . .‘


Duga Radar in Urdu

 

اس ریڈار کی تعمیر 1972ء میں اس وقت شروع ہوئی جب روسی سائنس دان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے خطرے سے نمٹنے کی تدابیر میں مصروف تھے اور ان کے ذہن میں ایک ایسا عظیم ریڈار تیار کرنے کا خیال آیا جو برقی اشاروں کو زمین کے کرہ روانیہ سے پرے دھکیل کر انہیں زمین کی خمیدگی سے آگے جھانکنے کی صلاحیت فراہم کر سکے مگر روسی سائنس دان زمین کے کرہ روانیہ کی حقیقت کو سمجھنے میں نا کام رہے اور یہ عکسری تنصیب اپنے آغاز سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو گئی۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈوگا ریڈار صرف برقی اشاروں کو موصول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جب کہ برقی اشارے روانہ کرنے کے لیے اس مقام سے 60 کلومیٹر دور لبیک ون نامی قصبے میں ایک عمارت تعمیر کی گئی تھی جو آج ڈوگا ریڈار ہی کی طرح ویران پڑی ہے۔ سوویت دور میں ان دونوں تنصبیات کی سیکورٹی کا یہ عالم تھا کہ یہاں پرندہ تک پر نہیں مار سکتا تھا۔


’. . . ڈوگا ریڈار کو نہایت گھنے جنگلات میں نگاہوں سے پوشیدہ رکھ کر بنایا گیا تھا جب کہ اس کی موجودگی کو چھپانے کے لیے جا بہ جا گم راہ کن اشارے لگائے تھے . . .‘


Duga Radar in Urdu

 

اپنے ’دشمنوں‘ کو بھٹکانے کے لیے جگہ جگہ غلط اشارے نصب کرنا سویت حکومت کا معمول تھا۔ چناں چہ سویت یونین کے نقشے پر اس عسکری تنصیب کو بچوں کا کیمپ ظاہر کیا جاتا رہا۔ اس تنصیب کے قریب ہی ایک نہایت پراسرار بس اسٹاپ بھی ہے جہاں ایک بھالو کی شبیہ بنی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چرنوبل سانحے کے بعد جب پہلے امریکی صحافی فل ڈونا کو متاثرہ مقام تک رسائی دی گئی تو اس نے افق پر اتنی عظیم عمارت کے آثار دیکھ کر اپنے روسی گائڈ سے اس کے بارے میں سوال کیا مگر حیرت انگیز طور پر روسی گائڈ نے جواب میں ڈوگا ریڈار کو ایک زیر تعمیر ہوٹل کہہ کر جان چھڑا لی۔ مستند ذرائع کے مطابق جب ڈوگا ریڈار درست حالت میں تھا تو یہاں سے شارٹ ویو ریڈیو سگنلز کئی ہزار کلو میٹر کی دوری تک روانہ کیے جاتے تھے جس کے لیے روسی ماہرین ’بالائے افق‘ نامی سائنسی طریقہ استعمال کر رہے تھے تا کہ طویل عرصے تک مار کرنے والے میزائلوں سے خارج ہونے والے دھویں کے ذریعے ان کا وقت سے پہلے سراغ لگایا جا سکے۔ چناں چہ 1976 میں دنیا نے پہلی بار ریڈیو پر ہدہد پرندے کی آواز سے مشابہ لگا تار سگنلز کو سنا جو اس مقام سے بھیجے جا رہے تھے۔ ان سگنلز کے نشر ہوتے ہی سازشی نظریات عروج پر پہنچ گئے اور مغربی میڈیا نے ڈوگا ریڈار کے ذریعے انسانی ذہنوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کی خبریں جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کرنا شروع کر دیں۔ اس دور میں روس کے ایٹمی ہتھیار تمام دنیا کے اعصاب پر سوار تھے لہٰذا بیش تر لوگوں نے یقین کرنا شروع کر دیا کہ سویت یونین ان شارٹ ویو سگنلز کے ذریعے نہ صرف انسانی رویوں کو تبدیل بلکہ دماغی خلیات کو تباہ تک کر سکتا ہے اور جب سویت یونین نے ڈوگا ریڈار کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے اسے مسلسل بچوں کا کیمپ قرار دیا تو یہ بات جلتی پر تیل کے مصداق ثابت ہوئی۔

 


’. . . اگرچہ ڈوگا ریڈار کو امریکی باشندوں کی برین واشنگ کے لیے استعمال کرنے کا تصور محال ہے مگر آج بھی اس تنصیب کی تعمیر کا اصل مقصد اور اس کے کام کرنے کے طریقے کی تفاصیل ہنوز اسرار کے دھندلکوں میں پوشیدہ ہیں . . .‘


ایک قیاس یہ بھی ہے کہ اس پراسرار عسکری تنصیب کو چرنوبل ایٹمی پلانٹ کے قریب اس لیے تعمیر کیا گیا تھا تا کہ اسے درکار بھاری مقدار میں درکار بجلی با سہولیت مہیا کی جا سکے۔ مگر ہنوز سوال برقرار رہتا ہے کہ  آخر کیوں ۔ ۔ ۔ ؟ اس نظریے پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ڈوگا ریڈار پر چرنوبل پلانٹ کی نسبت دگنی لاگت آئی تھی جب کہ سویت حکومت اس کی عسکری نا کامی کی بابت قبل از وقت واقف تھی۔ 26 اپریل 1986ء کو ہونے والا چرنوبل سانحہ ڈوگا دور کا اختتام ثابت ہوا اور اس تنصیب کو تاب کاری سے آلودہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے بند کر کے خالی کرا لیا گیا۔

Duga Radar in Urdu


’. . . ڈوگا ریڈار کی ٹاپ سیکریٹ حیثیت کے پیش نظر سویت حکومت نے اس سے متعلق تمام تر دستاویزات یا تو تباہ کر دیں یا انہیں ماسکو میں کہیں چھپا دیا گیا جو آج بھی دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ ریڈار کے زیادہ تر پارٹس یا تو ماسکو منتقل کر دیے گئے جب کہ باقی ماندہ چیزیں لوگ وہاں سے لوٹ کر لے گئے . . .‘


سویت یونین کے خاتمے اور چرنوبل سانحے کے بعد اس مقام پر کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی جس کے نتیجے میں یہ جگہ کم از کم دو عشروں تک انسانی نگاہوں سے چھپی رہی۔ چرنوبل سانحے کے نتیجے میں ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوئیں جب کہ پورا براعظم تاب کاری کی گرد میں دھندلا گیا – ایک ایسی گرد کی دھند میں جو موت اور تباہی کے لیے دعوت عام تھی۔ مگر آج مغربی اور مشرقی دنیاؤں میں تناؤ کے باوجود چرنوبل حادثے اور سرد جنگ کی یادوں کے اسیر لوگ کثیر تعداد میں دور دراز ملکوں سے ڈوگا ریڈار کو دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرنا ختم نہیں کرتے۔