Euclid | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | چودھواں باب | اقلیدس | نئی قسط

 زیرِنظر کتاب میں جن شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے ان میں چند ایک ہی وہ دائمی اور لازوال شہرت پا سکے ہیں جو یونانی مہندس اقلیدس کو نصیب ہوئی۔ اگرچہ اپنے دورِحیات میں نپولین، سکندرِاعظم اور مارٹن لوتھر وغیرہ اقلیدس سے زیادہ مشہور ہوئے، مگر اقلیدس کی شہرت کا دوام یقینی طور پر اِن مشہور شخصیات کی شہرت کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے تاہم حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اقلیدس کی تمام تر شہرت کے باوجود ہم اُس کی زندگی کے بارے میں بہت کم واقف ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ 300 ق م میں مصر میں اسکندریہ میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو تعلیم دینے میں مشغول تھا لیکن اس کے با وجود اقلیدس کی تاریخِ پیدائش و موت کی بابت ہماری معلومات ہنوز تشنہ ہیں۔ شہر کا نام تو ایک طرف ہمیں اُس برِاعظم تک کا نام معلوم نہیں جہاں اُس کی پیدائش ہوئی۔ اقلیدس نے متعدد کتابیں تحریر کیں مگر اُن میں چند ہی باقی بچ پائیں اور تاریخ میں اقلیدس کا نام بڑی حد تک جیومیٹری پر اس کی اہم ترین کتاب – دی ایلی مینٹس – کے باعث زندہ ہے تاہم اِس کتاب کی اہمیت کا سبب اِس میں پیش کردہ کوئی انفرادی منطقی ریاضیاتی کلیہ نہیں ہے کیوں کہ یہاں درج تقریباً تمام تھیورمز سے دنیا اقلیدس سے پہلے واقف تھی اور دراصل اقلیدس کا اہم کام یہ ہے کہ اُس نے اِس کتاب میں موجود تمام تر مواد کی ترتیب و تنظیم کے بعد اُسے ایک بالکل نئی شکل دی۔ اِس سلسلے میں اول مقولات اور مفروضات کا مناسب انتخاب ہے۔ یہ ایک بہت مشکل کام تھا کیوں کہ اسے بروئے کار لانے کے لیے غیرمعمولی فیصلہ سازی اور بصیرت درکار تھی، مگر اقلیدس نے نہایت احتیاط سے اِن مفروضات کی درجہ بندی کی اور ہر ایک کو منطقی طور پر اُس سے سابقہ مسئلے کے بعد رکھا۔ اسی طرح جہاں جہاں ضرورت پیش آئی اقلیدس نے وہاں ناموجود معلومات اور شواہد فراہم کیے۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اس کتاب میں، جو بنیادی طور پر سادہ اور ٹھوس جیومیٹری کے ارتقاء سے متعلق ہے، الجبرا اور نظریۂ اعداد پر بھی تفصیلی مواد فراہم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو دو ہزار سال سے زائد تک نصاب میں پڑھایا گیا ہے اور بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ تاریخ عالم کی سب سے کام یاب نصابی کتاب تھی۔ اس کتاب کو اقلیدس نے اُس پیمانے پر تیار کیا ہے کہ اِس کی اشاعت کے بعد جیومیٹری کی سابقہ کتابیں اپنی اہمیت کھو کر تاریخ کے دھندلکوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئیں۔ ابتدائی طور پر یونانی زبان میں تحریر کردہ ’ایلی مینٹس‘ کا آج دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کا پہلا چَھپا ہوا ایڈیشن 1482ء میں گٹن برگ کے چھاپے خانے کی ایجاد کے محض 30 سال بعد سامنے آیا اور تب سے لے کر آج تک اِس کتاب کے ایک ہزار سے زائد مختلف ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ علم المنطق کی فطری تعلیم دینے میں ’ایلی مینٹس‘ کا مقام ارسطو کی منطق پر مقالات سے زیادہ پُراثر ہے۔ یہ کتاب مکمل استخراجی ڈھانچے کی ایک غیرمعمولی مثال ہے جس نے اپنے آغاز سے ہی مفکرین کے ذہنوں کو مسحور کر رکھا ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اقلیدس کی کتاب کا جدید سائنس کے عروج میں بہت اہم کردار ہے۔ سائنس درست ترین مشاہدات کے مجموعے اور قطعی اصول سازی کے سوا کیا ہے؟ جدید سائنس کی عظیم تر کام یابیوں کا راز ایک طرف تجربات اور صرف تجربات پر یقین رکھنے میں تو دوسری طرف محتاط تجزیوں اور استخراجی دلائل نکالنے میں پنہاں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ سائنس کا فروغ یورپ کے بجائے چین یا جاپان میں کیوں نہیں ہوا مگر یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ایسا محض اتفاقی طور پر نہیں ہوا ہے اور بلاشبہ اِس ضمن میں نیوٹن، گلیلیو، کوپرنیکس اور کیپلر جیسی نابغۂ روزگار شخصیات کا کردار اہم ترین ہے تاہم اِس حقیقت کے کچھ نہ اسباب ضرور ہیں کہ اِن شخصیات نے مشرق کے بجائے یورپ میں آنکھ کیوں کھولی۔ تاہم یہ یونانیوں کا علمِ ریاضی اور عقلیت پسندی ہی تھی جس نے یورپ میں سائنس کے فروغ میں تاریخی طور پر بنیادی کردار ادا کیا۔ یورپی اقوام کے نزدیک یہ تصور نہایت فطری تھا کہ کائنات میں صرف چند بنیادی اصول ہیں جن کے ذریعے دیگر ہر شے کا استخراجی علم حاصل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان کے پاس اقلیدس کی مثال پہلے سے موجود تھی۔ عمومی طور پر یورپیوں نے اقلیدس کے علمِ جیومیٹری کو محض ایک مجّرد نظام تصور نہیں کیا بلکہ ان کا ماننا تھا کہ اقلیدس کے مفروضات اور اسی باعث ریاضیاتی کلیات حقیقی دنیا میں اصل حیثیت رکھتے تھے۔ اکثر یورپی مفکرین کے اذہان اقلیدس کی روایات میں گندھے ہوئے تھے۔ درحقیقت اُن تمام نے اقلیدس کی کتاب کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کیا تھا اور یہ ہی وہ کتاب تھی جس پر اُن کے علمِ ریاضی کا دارومدار تھا۔ بطورِخاص آئزک نیوٹن پر اقلیدس کے اثرات واضح ترین ہیں کیوں کہ نیوٹن نے اپنی عظیم کتاب ’پرنسپا‘ کو اقلیدس سے مشابہ جیومیٹری میں لکھا ہے اور تب سے متعدد دیگر یورپی سائنس دان بھی نیوٹن ہی کی طرح ثابت کرتے آ رہے ہیں کہ کس طرح اُن کے تمام نتائج کا منطقی طور پر ابتدائی مفروضات کی ایک کم مقدار سے استخراج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہی طرز عمل برٹرینڈرسل اور الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ جیسے ممتاز ریاضی دانوں او اسپنوزا جیسے فلسفی کا بھی رہا ہے۔ اِس ضمن میں چین کے ساتھ موازنہ بہت دل چسپ ہے۔ صدیوں تک چین کی ٹیکنالوجی یورپ سے کہیں زیادہ جدید تھی مگر چین کو کبھی بھی اقلیدس جیسا ریاضی دان نہیں ملا جس کے باعث اہلِ چین ریاضی کے نظریاتی ڈھانچے سے مغرب کی طرح فیض یاب نہیں ہو سکے۔ گوکہ چینی اطلاقی جیومیٹری سے اچھی طرح واقف تھے مگر وہ کبھی بھی اپنے علمِ جیومیٹری کی استخراجی نظام میں تشکیل نو نہیں کر پائے۔ اقلیدس کے کام کا چینی زبان میں سولہویں صدی تک ترجمہ نہیں ہو پایا اور تعلیم یافتہ چینیوں کو جیومیٹری کا استخراجی نظام سمجھنے میں صدیاں لگ گئیں اور جب تک ایسا نہیں ہوا اہلِ چین نے سائنس کے میدان میں کوئی خاطرخواہ کام انجام نہیں دیا۔ جاپان کے بارے میں بھی یہ ہی کہا جا سکتا ہے کیوں کہ وہاں اقلیدس کے کام کا اٹھارویں صدی تک بھی ترجمہ نہیں ہو سکا تھا اور ترجمہ ہونے کے کئی سالوں بعد بھی اہلِ جاپان اِس کتاب کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ اگرچہ آج جاپان میں بہترین سائنس دان موجود ہیں مگر وہاں اقلیدس کا کام سامنے آنے سے پہلے ایک بھی قابلِ ذکر سائنس دان نہیں تھا۔ تعجب خیز امر ہے کہ کیا اہلِ یورپ اقلیدس کے بغیر جدید سائنس کی تخلیق کر سکتے تھے؟ آج ریاضی دان سمجھ چکے ہیں کہ صرف اقلیدس کی جیومیٹری ہی ایک خود مکتفی قابلِ اختراع ہندسی نظام نہیں ہے اور گزشتہ 150 سالوں میں بڑے پیمانے پر غیراقلیدسی جیومیٹری تشکیل دی جا چکی ہے۔ جب سے آئن اسٹائن کا عمومی نظریۂ اضافیت قبول کیا گیا ہے سائنس دان اندازہ کر چکے ہیں کہ اقلیدس کی جیومیٹری اصل دنیا میں ہمیشہ سچ ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر بلیک ہول اور نیوٹران ستاروں کے نزدیک جہاں جاذبی قوتیں انتہائی شدید ہوتی ہیں وہاں اقلیدس کی جیومیٹری دنیا کی درست ترین تصویر پیش نہیں کر پاتی تاہم استنثائی مثالیں مخصوص ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں اقلیدس کی جیومیٹری حقیقت کا بڑی حد تک درست خاکہ پیش کرتی ہے۔ کسی بھی صورت میں موجودہ سائنسی ترقی اقلیدس کی ذہانت و عقلی برتری کو نیچا نہیں دکھاتی اور نہ ہی آج کے سائنسی ارتقاء کا سفر ریاضی کی ترقی اور منطقی ڈھانچے کی تیاری میں اقلیدس سے راہ بدل کر گزرتا ہے جس کا کردار جدید سائنس کی ترقی میں لازمی ہے۔