Evil Clown It

پُراسرار مسخرا

میرا چھوٹا بھائی سات سال کی عمر میں ہالوین کی شب لا پتہ ہوا۔ یہ 1971 کی بات ہے اور اس سانحے نے میری ماں کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا جو ہم دونوں کی تنہا پرورش کر رہی تھیں۔ 1974 میں بالاخر اس صدمے نے میری ماں کی جان لے لی اور مجھے میری آنٹی اور انکل اپنے گھر لے آئے جو ریاست نارتھ کیرولینا کے مرکزی شہر رالی میں واقع تھا۔ پولیس کبھی اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکی کہ اس رات ڈینی کمرے کی کھڑکی سے خود نکل کر گیا تھا یا کوئی کھڑکی کے نیچے لگے شاہ بلوط کے درخت پر چڑھ کر ڈینی کو اغوا کرنے کے لیے ہمارے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ خواہ بات کچھ بھی ہو ڈینی کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ میں حقیقت سے واقف تھا پھر بھی میں نے کسی سے ایک لفظ نہیں کہا۔ آج تک لوگ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ میں ڈینی کے بارے میں لا علم ہوں۔ مگر میں آج اس راز سے پردہ اٹھا رہا ہوں۔ کینسر کا نا دیدہ وجود میرے رگ و پے میں سما چکا ہے اور میں اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنے سینے کا یہ بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کسی دن میرے بچے اس تحریر کو پڑھیں۔ اگر ایسا ہوا تو انہیں اندازہ ہو گا کہ میں نے ان کی اس طرح پرورش کیوں کی۔ ممکن ہے وہ اس بات پر یقین نہ کریں اور میری اس تحریر کا سرا میرے دماغ میں پلتے کینسر کے پھوڑوں سے جوڑ دیں۔ مگر اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ڈینی اور میں ایک دوسرے سے انہتائی قریب تھے۔ ہم دونوں میں صرف ایک سال کا فرق تھا اور ہم ہر کام ایک دوسرے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ موسم گرما میں ہم دن بھر اور بعض اوقات رات میں بھی دریا سے مچھلیاں پکڑتے تھے اور اسکول میں ہم دونوں کبھی بھی ایک دوسرے کی مخالف ٹیموں کا حصہ نہیں بنتے تھے۔ چناں حسب معمول اکتوبر کے آخری جمعے کو ہم اسکول کے میلے میں گئے جو ہر سال وہاں خزاں کی آمد سے قبل لگتا تھا۔ اس میلے میں طرح طرح کی چیزیں ہوتی تھیں اور والدین رضاکارانہ طور پر منتظمین کا کردار ادا کرتے تھے۔ میلے میں ایک بہت اونچی پھسلنے والی سلائیڈ بھی لگا کرتی تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ بچوں کے لحاظ سے محفوظ تھی یا نہیں مگر یہ میرا سب سے پسندیدہ کھیل تھا۔ ہم نے اس روز بھوت بنگلے کے ٹکٹ لیے تھے۔ یہ بھوت بنگلہ مسز گارڈنر کی کلاس روم میں بنایا گیا تھا جہاں لائٹیں بند کر کے خوف ناک آوازیں سنانے کا انتظٓام کیا گیا تھا۔ ہمیں اس کی حقیقت پتہ تھی مگر پھر بھی وہاں جا کر بہت مزا آتا تھا۔ بچپن اسی کو تو کہتے ہیں۔ ابھی ہم دونوں وہاں جا ہی رہے تھے کہ ڈینی نے میری آستین کھینچتےہوئے کہا کہ چلو مسخرے کے پاس چلتے ہیں۔ اس میلے میں ہمیشہ کچھ ٹیچر اور والدین جیب کترواں مسخرے کا روپ دھارے پھرتے تھے۔ میرا خیال ہے آج کوئی بھی اس اسکول اس کھیل کی اجازت دے گا مگر اس وقت لوگ بہت سادہ لوح تھے اور خال ہی کوئی ضرر رساں واقعہ رونما ہوتا تھا۔ اس مسخرے کے لباس میں بے شمار جیبیں لگی ہوتی تھیں جس میں سستی ٹافیاں اور پلاسٹک کے بے قیمت کھلونے ہوتے تھے۔ ایک ٹکٹ کے عوض بچے اس مسخرے کی کوئی بھی ایک جیب ’کاٹ‘ سکتے تھے اور یہ ان کی قسمت ہوتی تھی کہ اس جیب سے کیا نکلتا ہے۔ ہم اس شب جس مسخرے کے پاس گئے اس نے گنجے سر کا کیپ پہنا اور مسخروں والا عام میک اپ کیا ہوا تھا مگر یہ مسخرا نہ جانے کیوں مجھے جمی بارٹن کے باپ کی طرح لگ رہا تھا جو مقامی گرجا میں پادری تھا اور بچوں کے ساتھ ہمیشہ بہت نرم دلی سے پیش آتا تھا۔ اس مسخرے کا لباس بہت دل چسپ اور سبز، سرخ اور نیلے رنگوں پر مشتمل تھا جب کہ کپڑوں پر جا بچا سلور پولکا ڈاٹ بنے ہوئے تھے۔ لباس کے اوپر بے شمار جیبیں تھیں جن میں طرح طرح کی چیزیں بھری ہوئی تھیں۔ مسخرے نے جب ہمیں اپنی جانب تکتے دیکھا تو اس نے ہمارے چہروں تک اپنا چہرہ جھکایا اور مسکراتے ہوئے انگلی سے ہمیں اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ ’جیب کاٹو بچو جیب کاٹو! صرف ایک ٹکٹ کے بدلے جیب کاٹو ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ڈینی اور میں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ڈینی نے میرے پیٹ میں کہنی چبھو کر پہلے مجھے اس مسخرے کے پاس جانے کا اشارہ کیا۔ مجھے نہیں پتہ ہم دونوں کیوں نروس ہو رہے تھے – ہم دونوں ہی مسٹر بارٹن کو اچھی طرح جانتے تھے – مگر پھر بھی ہمارے دل گھبرا سے رہے تھے۔ بہرحال میں نے اپنے رول سے ایک ٹکٹ پھاڑا اور کلائون کو دے دیا۔ ’بہادر؍ فیصلہ ساز؍ مجھے یہ لڑکا بہت پسند آیا۔ آگے بڑھو اور ایک جیب کاٹ لو۔‘ اس کے لباس میں بے شمار جیبیں لگی ہوئی تھیں مگر کچھ لمحوں بعد مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی جیب کا انتخاب نہیں کر رہا بلکہ جیب میرا انتخاب کر رہی ہے اور اس دوران مسخرے کے لباس پر چھپے پولکا ڈاٹس حرکت کرتے اور لہراتے ہوئے سے محسوس ہو رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ سوچ پاتا میرا ہاتھ خود بہ خود اٹھا اور مسخرے کے سینے کے پاس لگی جیب کے اندر چلا گیا۔ جب میں نے ہاتھ باہر نکالا تو دیکھا کہ یہ ایک چشمہ تھا جس میں شیشوں کی جگہ چمک دار شفاف پلاسٹک لگا ہوا تھا۔ پچھلے سال میں پورے تین ڈالر اسی طرح کے چشمے پر برباد کر چکا تھا۔ مسخرے نے جب میرے ہاتھ میں یہ چشمہ دیکھا تو بولا: ’آہ ہا ایکس رے گلاسز۔‘ اس نے مصنوعی طور پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہاتھ فضا میں بلند کیے۔ ’انہیں ابھی نہیں پہننا۔ میں نہیں چاہتا کہ تم میرے انڈر وئر کا رنگ جان پائو۔‘ پھر اس نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنا چہرہ بالکل میرے چہرے کے نزدیک کیا اور موت کی طرح سرد لہجے میں سرگوشی کی: ’انہیں گھر جا کر پہننا؍ جیفری۔ یہاں نہیں۔‘ اس کی سانسوں سے سڑے ہوئے پتوں اور گلے ہوئے گوشت کی بساند آ رہی تھی۔ پھر وہ سیدھا کھڑا ہوا اور ڈینی کی طرف مڑا۔ ’ڈیوی کیا تم میں جیب کاٹنے کا حوصلہ ہے؟ ڈینی نے مجھے ترچھی نظر سے دیکھا اور میں نے محض کندھے اچکا دیے۔ اس نے سر ہلایا اور بالآخر مسخرے کی ایک جیب میں ہاتھ ڈال دیا۔ جب اس نے ہاتھ جیب میں ڈالا تو وہ ہلکا سا چیخ پڑا اور پھر فوراً اپنا ہاتھ اس طرح باہر کھینچ لیا جیسے اس نے جیب کے اندر کسی دہکتے ہوئے انگارے کو چھو لیا ہو۔ ڈینی کے ہاتھ میں پلاسٹک کی مکڑی تھی جس کا رنگ نیلا تھا اور یہ ایک سلور ڈالر کے برابر تھی۔ ڈینی خوف سے اپنی جگہ ساکت ہو گیا تھا اور مکڑی کی پلاسٹک کی ٹانگیں تھرک رہی تھیں۔ ’اس نے مجھ کاٹا ہے۔‘ ڈینی نے کہا۔ ڈینی کی آواز خوف زدہ اور دھیمی تھی جیسے اسے خدشہ ہو کہ اگر اس نے زور سے بولا تو وہ مکڑی دوبارہ کاٹ لے گی مگر مسخرہ اس بات پر ہنس پڑا اور مکڑی کو اپنی چٹکی میں پکڑ کر اٹھا لیا۔ ’یہ کس طرح کاٹ سکتی ہے؟ یہ تو ربڑ کی ایک بے جان مکڑی ہے ڈینی۔‘ مسخرا زور سے چلایا اور مکڑی کو آگے پیچھے جھلانے لگا۔ میں اس بات پر کنفیوز ہو گیا تھا۔ مجھے لگا جیسے مکڑی واقعی حرکت کر رہی ہو مگر یہ ایک نقلی مکڑی ہی تھی۔ ’تم اسے لو گے؟‘ ڈینی نے جواب میں نفی میں سر ہلایا۔ ’جیسے تمہاری مرضی۔‘ مسخرے نے کہا اور پھر اس مکڑی کو اپنی جیب میں ڈال لیا۔ ’پھر ملتے ہیں بچو! مزے سے موج میلہ کرو ۔ ۔ ۔ ‘ مسخرہ یہ کہنے کے بعد دوسرے بچوں کی طرف نہیں گیا بلکہ سیدھا چلتا ہوا میلے کے دروازے سے باہر نکل گیا۔ ہم نے اس سڑک پر جاتے دیکھا اور پھر وہ ایک موڑ مڑ کر ہماری نظروں سے غائب ہو گیا۔ ڈینی نے کہا: ’میں نے مسز بیلارڈ کو اتنا عجیب برتائو کرتے کبھی نہیں دیکھا اور میرے ہاتھ میں واقعی تکلیف ہو رہی ہے! دیکھو میرا ہاتھ سرخ ہو رہا ہے! مجھے کسی چیز نے ضرور کاٹا ہے!‘ میں نے جواب میں حیران ہو کر کہا: ’کیا کہہ رہے ہو ڈینی۔ یہ مسٹر بارٹن تھے اور تمہیں کسی چیز نے نہیں کاٹا۔ تم اپنا ہاتھ کافی دیر سے بری طرح کھجا رہے ہو۔‘ ’کیوں کہ میرے ہاتھ میں بہت کھجلی ہو رہی ہے۔ اور وہ مسخرا مسز بیلارڈ تھیں۔ وہ کلاس کی مام ہیں اور ہر بچے کی برتھ ڈے پر کیک بنا کر لاتی ہیں۔ اینی ان کی بیٹی ہے۔‘ میں نے ڈینی کے ہاتھ کو غور سے دیکھا مگر وہاں کسی کے کاٹے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اچھا چلو بھوت بنگلہ چلتے ہیں میں نے کہا۔ ہم دونوں بھائیوں نے وہ تمام دن میلے میں گزارا اور ٹافیاں کھا کھا کر اپنے معدوں کا برا حال کر لیا۔ ما ابھی بھی ہسپتال میں تھیں اور ان کی شفٹ رات دیر گئے ختم ہونا تھی اس لیے میں نے اور ڈینی نے اس وقت تک ٹی وی دیکھا جب تک ہماری آنکھیں نیند سے بالکل بند نہیں ہونے لگیں۔ ہم دونوں کا کمرا دوسری منزل پر تھا جہاں ہم دونوں کے الگ الگ بیڈ تھے۔ جب ڈینی رات کے کپڑے پہن رہا تھا تو میں نے اسے تکلیف سے منہ بسورتے دیکھا۔ ’کیا ہوا ڈینی؟ میں نے پوچھا۔ ’میں نے کہا۔ ’جب میں نے مسخرے کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہاں میرے ہاتھ پر کسی چیز نے کاٹا تھا۔‘ ’مجھے دکھائو۔‘ ڈینی نے میری جانب اپنا ہاتھ بڑھایا جو اگر چہ سرخ ہو رہا تھا مگر اس کے با وجود وہاں کاٹے جانے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ ’اپنے ایکس رے گلاسز لگا کر دیکھو۔‘ ’کیا؟ میں نے کہا۔ ’ایکس رے گلاسز! وہ جو تم نے مسز بیلارڈ (مسخرے) کی جیب سے نکالے تھے۔‘ ’احمق لڑکے وہ مسٹر بارٹن تھے اور وہ گلاسز بالکل نقلی ہیں ان میں کچھ نظر نہیں آتا۔‘ میں نے ڈینی سے کہا۔ ’پھر بھی پہن کر دیکھو نا۔‘ میں نے لا چارگی سے اپنی آنکھیں گھمائیں اور انہیں کوڑے کے ڈبے سے نکالنے نیچے گیا۔ جب میں کمرے میں واپس آیا تو ڈینی نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسے دیکھنے کا اشارہ کیا۔ جب میں نے وہ گلاسز لگائے تو پہلی بار میں مجھے کچھ نظر نہیں آیا۔ مگر تھوڑی دیر بعد میرے سونگھنے اور چھو کر محسوس کرنے کی حسوں میں ہزار گنا اضافہ ہو گیا۔ مجھے بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔ یہ چشمہ بصارت بڑھانے کے لیے نہیں تھا بلکہ اسے پہن کر سونگھنے اور حرکت اور ارتعاشات کو محسوس کرنے کی صلاحیت بے پناہ بڑھ گئی تھی۔ میں دیکھے بغیر صرف صدائے بازگشت کے ذریعے کمرے کی دیواروں کو محسوس کر سکتا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ کاکروچ کی خوش بو کہاں سے آ رہی ہے۔ ڈینی کمرے کی تاریکی میں ایک سورج کی طرح چمک رہا تھا اور میں اس کے پاس سے آنے والی ہر خوش بو کا الگ الگ نام بتا سکتا تھا۔ اس کا ہاتھ بری طرح لرز رہا تھا اور مجھے اب اس میں سے ایسی بساند آ رہی تھی جو سڑے ہوئے کان میں سے اٹھتی ہے۔ یہ سب میرے لیے نا قابل برداشت تھا اور میں نے فوری طور پر چشمہ اپنے چہرے سے اتار کر پھینک دیا اور ایسا کرتے ہوئے مجھے تھوڑی سی تکلیف ہوئی۔ ’تم نے کیا دیکھا؟ کیا میرے ہاتھ پر سوزش ہو رہی ہے؟ کیا تم نے اسے دیکھا؟‘ ’میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ گلاسز بالکل ہی بے کار ہیں۔ جائو جا کر سو جائو۔‘ اگلی صبح ما ہسپتال سے واپس آنے کے بعد سوئی ہوئی تھی چناں چہ ہم دونوں بھائیوں نے ناشتے میں دلیہ کھایا اور مچھلیاں پکڑنے دریا کی طرف چل دیے۔ اس روز اتوار تھا اور جب بھی بارش رکی ہوتی تھی ہم دونوں لازمی مچھلیاں پکڑنے جاتے تھے۔ اس روز ڈینی ما کے اٹھنے کا انتظار کرنا چاہ رہا تھا تا کہ انہیں اپنا ہاتھ دکھا سکے۔ اس کا ہاتھ اب تھوڑا سا سوجا ہوا تھا مگر بغور دیکھنے بنا کوئی کچھ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ مگر میرے اصرار پر وہ میرے ساتھ چلا آیا۔ میں نے اسے مچھلیاں پکڑنے والی چھڑی دی اور اس نے اسے دریا میں پھینک دیا۔ ’جیفری تمہارے پاس وہ گلاسز ہیں؟ ہو سکتا ہے تم ان کی مدد سے پانی میں چھپی مچھلیاں دیکھ سکو!‘ میرے پاس وہ گلاسز تھے۔ مجھے نہیں پتہ کیوں مگر گھر سے نکلتے وقت میں نے انہیں اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ ’میں نے کہا نہیں وہ بالکل بے کار ہیں۔‘ ’نہیں تم نے کچھ دیکھا تھا۔ مجھے پتہ ہے تم کچھ چھپا رہے ہو۔ مجھے بتائو تمہیں کیا نظر آیا تھا؟‘ ’ڈینی رہنے بھی دو۔‘ ’مجھے پتہ ہے میرا ہاتھ ٹھیک نہیں ہے۔ کم از کم تمہیں اس کے بارے میں مجھے ضرور بتانا چاہیے۔‘ ’اوکے۔ مجھے کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا؍ مگر میری ناک میں بساند چڑھی تھی۔ یہ بہت عجیب سی بات ہے۔ تمہارے ہاتھ سے ایسی بد بو آ رہی تھی جیسے اس میں بہت بری سوزش ہو گئی ہو۔‘ ’مجھے پتہ تھا کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔‘ ’اچھا انہیں پہن کر دیکھو تمہیں دریا میں کیا نظر آ رہا ہے۔‘ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر وہ گلاسز پہن لیے مگر انہیں لگاتے ہی گویا دنیا تبدیل ہو گئی۔ میں جنگل میں اڑتے ہر کیڑے کے پروں کو محسوس کر سکتا تھا۔ میں پتوں اور درختوں میں چھپی ہر مکڑی کا سونگھ کر پتہ لگا سکتا تھا اور پانی کے نیچے لہریں لیتی مچھلیوں کو واضح طور پر محسوس کر سکتا تھا۔ ’ہاں اس جگہ بہت ساری مچھلیاں ہیں۔‘ میں نے ڈینی سے کہا۔ ’زبردست؍‘ اس نے کہا اور پانی میں ڈور پھینک دی۔ اس وقت اس کے ہاتھ سے بہت بری بد بو آ ر ہی تھی جیسے گوشت سڑ رہا ہو۔ میں نے گلاسز دوبارہ لگائے اور اس بار اس چشمے نے میری کنپٹی سے تھوڑا سا گوشت چھیل دیا جس سے میں آہستہ سے کراہا؍ مگر ڈینی نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا اور وہ میری طرف دیکھے بنا زور سے ہنسا؍ ’جیف دیکھو میں نے ایک مچھلی پکڑ لی ہے۔‘ ہم نے وہ تمام دن دریا کنارے گزارا اور واپسی پر ہمارے ہاتھوں میں چھ بہترین مچھلیاں تھیں۔ ان دنوں ہمارے لیے گوشت خریدنا بہت مہنگا تھا چناں چہ ما ان مچھلیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور پھر ان سے بہترین ڈنر تیار کیا۔ ما ہسپتال میں نرس تھیں اور ان کی تنخواہ نہ ہونے کے برابر تھی۔ گھر آنے کے بعد میرے سارے بدن میں خارش شروع ہو گئی جیسے میرا پائوں کسی زہریلے پودے پر پڑ گیا ہو چناں چہ میں نے نہانے کے لیے باتھ روم کا رخ کیا۔ جب میں نے اپنے جسم کا معائنہ کیا تو میں نے دیکھا کہ یہ کھجلی نہیں تھی بلکہ میری کھال پر چھوٹے چھوٹے سیاہ بال اگ رہے تھے۔ یہ بال آج بھی میرے جسم پر موجود ہیں۔ مجھے ساری زندگی ان بالوں کو چھپانے کے لیے فل آستین والی قمیضیں پہننا پڑیں اور شارٹ پہننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جب میں بھرپور جوان تو مجھے دن میں کم از کم دو بار اپنا سارا جسم شیو کرنا پڑتا تھا۔ یہ بال سخت اور کانٹوں کی طرح چبھن دار تھے۔ اگر میں انہیں شیو نہیں کرتا تھا تو یہ ایک انچ تک لمبے ہو جاتے تھے اور اگر کوئی ان پر ہاتھ پھیرتا تو اس کے ہاتھ سے خون نکل آتا تھا۔ چناں چہ کسی لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلق کا سوال ہی نہیں تھا اور میری بیوی کی خدا مغفرت کرے جس نے شاید اس وجہ سے میرا ساتھ نبھایا کیوں کہ اسے پیدائشی طور پر جنس سے کراہت ہوتی تھی؍ مگر اب کینسر کا کم از کم ایک اچھا پہلو یہ ضرور ہے کہ اس نے ان بالوں کی نشو نما کو بالکل ختم کر دیا ہے۔ بہر حال اس وقت میں بری طرح گھبرا گیا مگر میں اپنی ما کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے میں نے باتھ روم سے باہر آ کر کسی سے کچھ نہیں کہا۔ ’جیف؍ کیا مسز بیلارڈ نے ڈینی کے ہاتھ میں کوئی چیز چبھوئی تھی؟‘؍ ما نے پوچھا۔ ’مجھے نہیں پتہ ڈینی اس مسخرے کو مسز بیلارڈ کیوں کہہ رہا ہے۔ وہ مسٹر بارٹن تھے مگر ہاں ڈینی کو ایسا لگا جیسے ان کی مسخروں والی جیب میں کسی چیز نے اس کے ہاتھ پر کاٹا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے اسے سوزش ہو گئی ہے؟‘ ’ہو سکتا ہے۔ اس کا ہاتھ بہت گرم ہو رہا ہے مگر یہاں کاٹے جانے کا کوئی نشان نہیں ہے۔ اگر یہ پیر تک ایسے ہی سوجا رہا تو ہمیں ڈاکٹر جیمس کے پاس جانا پڑے گا؍ مگر میرے خیال میں ہمیں اس وقت ایمرجینسی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ ڈینی نے ما کی بات سن کر سر ہلا دیا۔ مجھے پتہ تھا ہم ایمرجینسی سروس کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔ ایک سال پہلے میں درخت کی ایک جڑ میں الجھ کر اپنا سر پھوڑ بیٹھا تھا۔ میں وہاں سے جیسے تیسے گھر واپس آیا اور ما نے خود میرے زخم پر ٹانکے لگائے تا کہ ہمیں اسپتال کا بل ادا نہ کرنا پڑے جو ہماری استطاعت سے بالکل باہر تھا۔ (آج بھی امریکا میں لوگوں کی اکثریت کا یہ ہی حال ہے: مترجم) ما نے کہا جب تک میں مچھلیوں سے مزے دار ڈنر تیار کرتی ہوں تم دونوں بھائی باہر جا کر ہالوین تہوار منانے اور ٹافیاں اکٹھی کرنے کی تیار کرو۔ چناں چہ ہم دونوں بھائی خوش خوش ایک بار پھر دریا کنارے چلے آئے۔ ہم ہالوین کے لیے مہنگے بہروپی لباس (کاسٹیوم) نہیں خرید سکتے تھے اس لیے ڈینی نے چادر اوڑھ کر بھوت بننے کا فیصلہ کیا اور میں نے ایک بے گھر پاگل آدمی کے روپ دھارنے کا ۔ ۔ ۔ ہمارے پاس پھٹے پرانے کپڑوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ ہم نے اس دوران مچھلیاں پکڑنے کی بھی کوشش کی مگر ایک بھی مچھلی ہمارے ہاتھ نہیں لگی اور ہم اپنے اپنے کاسٹیوم تیار کرنے کے لیے جلد گھر لوٹ آئے۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو ما نے چھوٹے ہی مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے یقین ہے وہ مسخرہ مسز بیلارڈ ہی تھیں۔ ’میں نے انہیں فون کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ وہ میلے میں ٹکٹ بیچ رہی تھیں اور اس دن انہوں نے جیب کترواں مسخرے کا روپ نہیں دھارا تھا۔‘ ’کیوں کہ وہ مسٹر بارٹن تھے؍‘ میں نے کہا۔ ’جیف میں نے انہیں بھی فون کیا تھا اور انہوں نے بتایا کہ وہ میلے والے روز شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔‘ ڈیوی اس بات پر کندھے اچکا کر رہ گیا اور ما بھی اپنا سر ہلاتے ہوئے کھانا پکانے لگیں اور اس وقت بات آئی گئی ہو کر رہی گئی۔ ہالیون کی شب بہت مزا آیا اور ہم نے ڈھیر ساری ٹافیاں اور مٹھائیاں اکٹھی کریں مگر ڈینی کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ وہ گھر واپس جانا چاہتا ہے اور مجھے پتہ تھا کہ واقعی اس کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہے ورنہ ہالوین کی شب اسے گھر لے جانا نا ممکنات میں سے تھا۔ ’کیا تمہارے ہاتھ میں تکلیف ہو رہی ہے؟ میں نے پوچھا۔ اس نے منہ بنائے ہوئے جواب دیا؍ ’نہیں سارا بدن دکھ رہا ہے۔‘ اس کے بعد وہ خاموش رہنا چاہتا تھا اس لیے میں نے اس کے کندھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور اسے گھر واپس لے آیا۔ ما ہم دونوں کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ انہوں نے فوراً ڈینی کا ٹمپریچر لیا جو تھوڑا سا زیادہ تھا۔ اس کے بعد ما نے اس کا ہاتھ چیک کیا مگر اب اس کا ہاتھ بالکل صاف تھا اور وہاں کوئی سوجن یا زخم وغیرہ نہیں تھا اس لیے میں نے سوچا شاید اس کا سبب کوئی وائرس ہے۔ ما نے ڈینی کو تھوڑا سا کھانا کھلایا اور پھر سونے کے لیے بستر پر بھیج دیا۔ میں بھی اس کے ساتھ ہی کمرے میں چلا گیا کیوں کہ میں نہ جانے کیوں اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ ڈینی نے نصف شب کے قریب مجھے نیند سے جگا دیا۔ ’جیف مجھے کچھ ہو رہا ہے۔‘ میں نے فوراً لائٹ جلائی اور دیکھا کہ وہ بستر پر بیٹھا کانپ رہا ہے۔ ’ڈینی کیا ہوا؟‘ ’میرے جسم میں کچھ گھس گیا ہے۔ جیف چشمہ لگا کر دیکھو فوراً۔‘ میں نے سوچے سمجھے بغیر میز پر پڑے وہ ایکس ریز گلاسز لگا لیے۔ میری ناک میں فوراً ان (کیڑوں؟) کی بو آئی۔ وہ ڈینی کی کھال کے نیچے مچل رہے تھے اور پورے جسم میں دوڑ رہے تھے۔ میں نے چیخنا چاہا مگر میری چیخ میرے گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔ آج وہ رات مجھے ایک خواب کی طرح یاد ہے۔ میں نے دیکھا وہ ننھے ننھے – کیڑے؟ – اس کے جسم سے اس طرح نکل رہے تھے جیسے ہزاورں مہاسے ایک ساتھ پھوٹ رہے ہوں۔ ان کی جسامت ایک پن کے سر کے برابر تھی مگر ان کی تعداد کا کوئی شمار نہیں تھا۔ ڈینی کے حلق سے کوئی آواز نہیں نکلی اور میں کوئی حرکت نہیں کر پایا – اور بلآخر انہوں نے پوری طرح ڈینی کے بدن کو ککون کی طرح استعمال کر لیا جیسے ریشم کے کیڑے ایک خول میں پرورش پانے کے بعد ایک ساتھ باہر نکل آتے ہیں۔ جب یہ عمل مکمل ہو گیا تو وہ تمام کے تمام دوبارہ ڈینی کے جسم میں ۔ ۔ ۔ پیٹ بھرنے کے لیے گھس گئے۔ تصویر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ میرے اختیار میں نہیں تھا۔ میں نے ایک معمول کی طرح ڈینی کو اپنے کاندھے پر ڈالا؍ رینگتا ہوا کھڑکی سے باہر نکلا اور ایک مکڑی کی طرح ۔ ۔ ۔ چاروں ہاتھ پیروں سے دیوار پر چلتے ہوئے نیچے زمین پر اتر آیا۔ ستاروں کی روشنی میں؍ میں درختوں کے درمیان چھپی ایک پگ ڈنڈی پر چلنے لگا جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ جب میں شاہ بلوط کے درختوں کے ایک نہایت ہی قدیم جھنڈ کے مرکز میں پہنچا تو وہاں میرے پائوں خود بہ خود ٹہر گئے۔ درختوں کے بیچ میں وہ ہی مسخرا کھڑا تھا۔ میں اب ایکسرے گلاسز کی مدد سے محسوس کر سکتا تھا کہ اس کے دو ہاتھ اور دو پائوں اور بھی ہیں جو کپڑوں کے نیچے چھپے تھرک رہے ہیں۔ اس نے ایک گھٹیا سے ماسک پہنا ہوا تھا اور میں نے محسوس کیا کہ اس کی رگوں میں سرخ خون کی جگہ گاڑھا اور لیس دار نیلا مائع گردش کر رہا ہے۔ یہ مائع اس کی آٹھوں آنکھوں؍ دھڑ کے ساتھ جڑے سر؍ پیٹ اور چھو کر محسوس کرنے والی مونچھوں میں بہہ رہا تھا۔ اس نے مجھ سے اپنا اصل روپ چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تصویر میں نے اپنے بھائی کا باقی ماندہ جسم اس کے حوالے کیا اور وہ اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر واپسی کے لیے درختوں کے اس جھنڈ کی جانب مڑا جو میں نے وہاں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس رات کے بعد آج تک دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ کچھ قدم اٹھانے کے بعد مسخرا رکا اور میری طرف مڑ کر بولا: ’تم ساتھ نہیں آ رہے؟ ابھی تمہارے بھائی میں کھانے کے لیے بہت گوشت باقی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھنا چاہتے کہ میرے بچے بڑے ہو کر کیسے لگیں گے؟ تم چاہو تو تم بھی اس طرح اپنی فیملی بنا سکتے ہو۔‘ میں اگر چہ ’بھوک‘ سے بے چین ہو رہا تھا مگر شاید میری بھائی کی فطری محبت نے میرے قدم جکڑ لیے۔ میں وہاں کھڑا ساکت نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس نے مجھے معمول بنا کر میرے بھائی کو میرے ہاتھوں وہاں منگوا لیا تھا مگر اس کے با وجود وہ مجھے اس کا گوشت کھانے کے لیے اپنا تابع نہیں بنا سکا۔ ’نہیں؟‘ وہ کافی دیر تک مجھے گھورتا رہا۔‘ ’خیر کوئی بات نہیں۔ اب یہ چشمہ ہمیشہ کے لیے تمہارا ہے۔ تم یہاں آئو گے مگر اس وقت جب تم پوری طرح تیار ہو گے۔ تم نے راستہ دیکھ لیا ہے۔‘ اس کے بعد وہ مڑ کر تاریکی میں غائب ہو گیا۔ اس بڑے مکڑے کے غائب ہونے کے بعد میرے حواس بحال ہوئے اور میں بری طرح دوڑتا اور درختوں میں گرتا پڑتا اپنے گھر واپس آیا اور صبح تک بستر پر پڑا روتا رہا اور بس روتا رہا۔ اگلے روز وہ چشمہ غائب تھا مگر مجھے پتہ تھا کہ وہ غائب نہیں ہوا ہے۔ مجھے اب کبھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر میں دنیا کو سونگھ کر اور چھو کر زیادہ بہتر انداز میں محسوس کر سکتا تھا۔ ڈینی کی عدم موجودگی میرے لیے ایسی تھی جیسے میرے جگر کا ایک ٹکڑا الگ ہو گیا ہو۔ میں آج بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔ کبھی کبھی مجھے اپنے پاس اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے مگر میں اسے اپنا وہم سمجھ کر جھٹلا دیتا ہوں۔ مگر مجھے کبھی بھی اس کی بو نہیں آتی۔ میرا خیال ہے وہ جہاں بھی ہے اس نے مجھے دل سے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد زندگی میرے لیے کچھ آسان نہیں تھی۔ میں ساری زندگی اپنے جسم کا شیو کرتا رہا۔ جب کوئی آس پاس نہیں ہوتا تھا تو میں فریج سے کچا گوشت نکال کر کھاتا تھا اور نالیوں سے پکڑے ہوئے لال بیگ اور چوہے میرے لیے کسی نعمت سے نہیں تھے۔ اس گوشت سے میرے اندر ابھرنے والے عجیب سے تقاضوں کو سکون ملتا تھا۔ پڑھنا میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا مگر پھر بھی نہ جانے کسی نہ کسی طرح میں نے گریجویشن کر ہی لیا اور مجھے ایک تعمیراتی ادارے میں ملازمت بھی مل گئی۔ مجھے پتہ ہے میرے بچے مجھے غیر جذباتی گردانتے ہیں مگر لیام اور بیتھ یہ میری محبت کی انتہا تھی کہ میں نے تمہیں کبھی اپنے قریب نہیں آنے دیا؛ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب تمہاری ماں کا کار کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔ میرے لیے تمہارے جسم پر انگلیاں پھیر کر تمہیں محسوس کرنا کافی تھا؍ مگر اس دوران مجھے اپنے تقاضوں پر بری طرح قابو پانا پڑتا تھا۔ تم دونوں میری اولاد نہیں ہو کیوں کہ میری بیوی کو جنس سے کراہیت ہوتی تھی اس لیے ہم نے تم دونوں کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ میرے لیے دنیا کی کسی بھی لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا ممکن نہیں تھا ورنہ نتیجہ اس کی درد ناک موت پر منتج ہوتا۔ میرا خیال ہے میری بیوی اس بات کو اچھی طرح سمجھتی تھی اور پھر اسے اس تعلق سے کوئی لگائو بھی نہیں تھا مگر میں اس کی خاموش محبت کا معترف ہوں۔ مگر میرے لیے ہر دن ایک قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ تم لوگوں کی جسم کی مہک مجھے پاگل کر رہی ہوتی ہے۔ البتہ 47 سال بعد بھی میں ابھی تک ایک انسان ہوں اور یہ بات میرے لیے قابل فخر ہے۔ میں نے آج تک کسی انسان کو نہیں کھایا اور شاید یہ ہی وجہ کہ میں کبھی بھی اس مسخرے کی طرح نہیں ہو سکا – وہ اپنی تمام تر طاقت کے با وجود مجھے اپنے جیسا عفریت نہیں بنا پایا۔ مجھ میں اب مزید لکھنے کی طاقت نہیں اور نرس ابھی ابھی مجھ سے کہہ کر گئی ہے کہ میری فیملی آ رہی ہے۔ شاید یہ میری ان سے آخری ملاقات ہے۔ شاید میں ڈینی کو ایک بار اور دیکھوں گا۔ شاید چند گھنٹوں کے اندر۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا؟ اگر موت کے بعد دوسری زندگی نہیں ہے؟ تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے اس سب کے با وجود ایک اچھی زندگی گزاری ہے۔ میری قسمت میں محبت تھی اور دنیا میں اس سے بڑی کوئی اور نعمت نہیں۔ اگر کچھ نہیں تو کم از کم آخر میں ایک انسان کی موت مرنا میرے لیے کافی ہے۔ لعنت ہو تجھ پر اے منحوس مسخرے ۔ ۔ ۔ تو میرے اندر چھپے انسان کو شکست نہیں دے سکا۔

ختم شد