evil tooth fairy horror in urdu

کیرولین کے دانت تیزی سے اگے جا رہے تھے

 جب کیرولائن کچن میں آئی میں اس وقت ڈنر تیار کر رہی تھی۔ ’ممی، میرا دانت عجیب سا ہو رہا ہے۔‘ میں نے اس کا منہ کھولا اور اس سے کہا کہ وہ اس دانت پر انگلی رکھے جو اسے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔ اس نے نیچے کے سامنے والے ایک دانت پر انگلی رکھ دی۔ میں نے اسے اپنی انگلی کی نوک سے سے چھوا۔ وہ ہلکا سا ہلتا ہوا لگا۔ ’کوئی بات نہیں کیری۔ تمہیں یاد ہے نا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ جب تم بڑی ہو جائو گی تو تمہارے نئے دانت نکلیں گے۔ اب تمہارا یہ دودھ کا دانت ٹوٹ جائے گا اور دانت کی پری تمہیں اس کے بدلے ایک ڈالر دے گی۔‘ ٹوتھ فیری ’اب میں بڑی ہو گئی ہوں۔‘ کیری نے اعلان کرنے کے انداز میں کہا۔ میں نے کیری سے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اسے اپنی زبان سے ہلا سکتی ہے۔ میں نے ایک رسالے میں پڑھا تھا کہ اس طرح کرنے سے دانت بغیر تکلیف دیے جلد نکل جاتا ہے۔ کیری نے تھوڑی دیر تک ہلتے ہوئے دانت کو اپنی زبان سے چھوا اور پھر اچھلتی ہوئی لیونگ روم میں چلی گئی۔ کچھ دنوں بعد وہ ایک سیب کا ٹکڑا چبا رہی تھی کہ اچانک اس نے ہاتھ سے اسے گرا دیا اور سانس روک لی۔ میں نے ایک نظر مڑ کر دیکھا۔ پلیٹ پر خون کے کچھ قطرے پڑے ہوئے تھے۔ ’کیا تمہارا دانت نکل گیا؟ میں نے کیری سے پوچھا۔ اس نے جواب میں سر ہلایا اور اس کے منہ سے چمچہ بھر خون باہر کو بہہ نکلا۔ ’مبارک ہو۔‘ میں نے کہا ’آج شب دانت کی پری تمہارے پاس آئے گی۔‘ وہ مسکرائی اور پھر سیب کھانا شروع کر دیا۔ اگلی صبح کیری نے مجھے بتایا کہ دانت پری نے اسے کروڑ پتی بنا دیا ہے۔ وقت گزرتا گیا اور کیری کے دودھ کے دوسرے دانت بھی ٹوٹتے گئے۔ اس دوران میں کیری کے دانتوں کا چھ ماہی معائنہ کرانے کے لیے اسے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے اس کے دانت صاف کیے اور انہیں بالکل صحت مند قرار دیا، مگر ڈاکٹر نے کہا کہ جب نئے دانت نکلیں گے تو کیری کے مسوڑھوں میں کھجلی یا سوجن ہو سکتی ہے اور یہ کہ اگر اسے زیادہ درد ہو تو میں اسے ٹائی لینول دے سکتی ہوں۔ اپنے خاندان والوں کے ساتھ یوم تشکر منانے کے بعد میں اور کیری کار میں گھر واپس آ رہے تھے۔ کیری کا موڈ خراب تھا کیوں کے اس کے پاپا اس موقعے پر گھر نہیں آ سکے تھے۔ کیری کے پاپا اور اس کی گرل فرینڈ نے اسکائپ پر تہوار سے ایک دن پہلے کیری سے اس بارے میں معذرت کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی طبیعت بہتر نہیں ہے؛ مگر مجھے معلوم تھا کہ یہ نری بکواس ہے، اور کیری کو بھی اپنی عمر کے مطابق اس بات کا اندازہ تھا۔


[دراصل کیری کی ماں اور باپ کے درمیان طلاق ہو چکی ہے اور باپ اب اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہ رہا ہے: مترجم]


تہوار کی تصویر سے میں نے اس کا موڈ اچھا کرنے کی کوشش کی۔ ’کیری کیا تم نے جلی کو اپنے نئے ہلنے والے دانت کے بارے میں بتایا؟ میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ دانت پری بہت جلد اس کے گھر کا بھی چکر لگانے والی ہے۔‘ کیری نے سر ہلایا اور کہا ’میں نے اسے اپنا ہلنے والا دانت دکھایا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کے پاپا نے ایک تاگا اس کے دانت کے گرد لپیٹا اور پھر اسے دروازے میں باندھ کر کھینچا جس سے وہ آرام سے باہر آ گیا۔ کیا ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں؟ میں اس کی بات سن کر سہم سی گئی، مگر اس سے کہا کہ اگر تمہارا دانت کافی تکلیف دے گا تو پھر ہم اس طرح اسے نکالنے کے بارے میں سوچیں گے۔ ’اوکے‘ وہ راضی ہو گئی اور پھر بولی ’اس والے دانت میں بہت درد ہو رہا ہے۔‘ ’دوسرے دانتوں سے زیادہ؟ میں نے پوچھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہ والا دانت درد کرے گا۔ مجھے یاد تھا کہ جب میرے سامنے والے دانت نکلے تھے تو مجھے کس قدر تکلیف ہوئی تھی۔ کیری کے دو دانت ہل رہے تھے۔ ’ہاں اور پیچھے والے دانت بھی ۔‘ کیری نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔ ’کیا تمہارے پیچھے والے دانت بھی درد کر رہے ہیں؟ ’ہاں نا ۔ ۔ ۔ ۔‘ کیری نے منہ بسورا۔ مجھے اس بات سے بہت حیرت ہوئی۔ میں نے تو یہ ہی پڑھا تھا کہ عقبی دانت سب سے آخر میں ٹوٹتے ہیں اور کیرولین کی عمر کے مقابلے میں زیادہ بڑی عمر میں ایسا ہوتا ہے۔ ’کیا تم نے نانی کے ہاں کوئی بہت زیادہ میٹھی چیز کھائی ہے؟ میں نے پوچھا۔ ’کسٹرڈ‘ کیرولین نے ایک لمحہ سوچنے کے بعد جواب دیا۔ ’ہاں یہ ہی بات ہے‘ میں نے سوچا۔ میری ماں بہت اچھا پکاتی ہے، مگر وہ میٹھا پکاتے وقت ہمیشہ چینی کم یا زیادہ کر دیتی ہے۔ اس بار کسٹرد بہت چپچپا اور سخت سا تھا اور یقیناً وہ کیری کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوا ہو گا کیوں کہ اس کے دانت پہلے ہی ہل رہے تھے۔ ’ٹھیک ہے میں انہیں گھر جا کر چیک کروں گی۔‘ ’ٹھیک ہے ممی‘ کیری نے اتنا کہا اور پھر کار کی نشست سے ٹیک لگا کر بہت جلد گہری نیند سو گئی۔ راستہ خاموشی سے طے ہوا۔ میں گاڑی اندر لائی اور کیری کو بانہوں میں بھر کر اسے ہلایا تا کہ وہ برش کر لے، مگر اس طرح اٹھائے جانے پر اس کا موڈ سخت خراب ہو گیا تھا۔ ’میرے منہ میں درد ہو رہا ہے‘ اس نے کہا۔ ’میں برش نہیں کر سکتی اور مجھے سونا ہے۔‘ ’صرف پانچ منٹ لگیں گے اور اس کے بعد تم آرام سے سو جانا۔‘ ’نہیں‘ وہ بری طرح چلائی اور مجھے ایک طرف کو دھکیل دیا۔ وہ زینے کی طرف بھاگی اور ہال سے دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ’اوہ کیری‘ میں نے ایک سانس بھرتے ہوئے کہا۔ میں نے گھڑی دیکھی۔ رات کے ساڑھے دس بجے تھے۔ کیری کے سونے کے وقت کو گزرے دو گھنٹے ہو گئے تھے اور مجھے بھی آدھا گھنٹہ زیادہ ہو گیا تھا۔ میں نے مجبور ہر کر گھر کے دروازے بند کیے، لائٹیں بجھائی اور اوپر کا رخ کیا۔ میں اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے کیری کے دروازے پر رکی۔ اس نے لباس تبدیل نہیں کیا تھا اور نیند میں مدہوش بستر پر پڑی تھی۔ میں نے اس کے جوتے اتارے اور اسے چادر اوڑھائی۔ کیری سوتے میں اپنا جبڑا چلا رہی تھی اور لگ رہا تھا کہ اسے ابھی بھی تکلیف ہو رہی ہے۔ ’کیری کیا تمہارے دانتوں میں درد ہو رہا ہے؟ میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی، مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ میں نے اس کا ماتھا چوما، لائٹ بجھائی اور اپنے بستر پر چلی گئی۔ بیس منٹ بعد میں گہری نیند سو چکی تھی۔ ’ممی۔ ۔ ۔ ؟ کیری کی آواز سنتے ہی میں ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ وہ میرے بیڈ کے پاس کھڑی تھی اور ہال سے آتی روشنی اس پر اس طرح پڑ رہی تھی کہ اس پر ایک ہیولے کا گمان ہوتا تھا۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ صبح کے دو (2 AM) بج رہے تھے۔ ’کیری کیا ہوا؟ کیا تم ٹھیک ہو؟ ’نہیں۔‘ میں اٹھ کر بیٹھی اور بیڈ کے سرہانے رکھا لیمپ جلایا۔ کیرولین کی ہونٹوں پر خون کی باریک سے لہر بہہ رہی تھی۔ ’کیری کیا تمہارا ایک اور دانت ٹوٹ گیا؟ ’ایک نہیں چار ۔ ۔ ۔ ‘ ’کیا چار؟ میں نے بھونچکا ہو کر کہا ’کیری اپنا منہ کھولو۔‘ کیری نے ایسا ہی کیا۔ میں اس کا منہ لیمپ کے پاس لے کر آئی۔ اس کے کہنے کے عین مطابق اس کے مسوڑھوں میں چار جگہ خلا تھا۔ دو جگہ نیچے اور دو جگہ اوپر۔ میں نے اپنی ماں کے پکائے کسٹرڈ کا سوچ کر ایک آہ بھری۔ ’میرے منہ میں بہت درد ہو رہا ہے ممی‘ کیری کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ میں نے ٹشو کا ایک ٹکڑا لیا اور جب اس کے مسوڑھے صاف کیے تو وہاں پرانے دانتوں کے تلے سفیدی چمک رہی تھی، مگر اطراف کی جگہ سوجی ہوئی اور سخت تھی۔ میں نے خیال کیا کہ کیری کے مسوڑھے ابھرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ۔ اس وقت اچانک مجھے دانتوں کے ڈاکٹر کا مشورہ یاد آیا اور میں نے اس کی تجویز کردہ دوا نکالی جسے کیری نے خوشی سے پی لیا کیوں کہ وہ اس کے فلیور کی بچپن سے دیوانی تھی۔ ’جو دانت ٹوٹ کر گرے ہیں وہ کہاں ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا۔ ’وہ میں نے کمرے میں رکھ دیے ہیں۔ دانت پری آج رات آ کر انہیں لے جائے گی‘ اس نے جواب دیا۔ ’ہاں۔ مگر تم اب اپنے کمرے میں سونا چاہتی ہو یا یہاں میرے پاس؟ ’ہاں۔ آپ کے پاس‘ ’ٹھیک ہے۔‘ میں نے اس کے ہونٹوں سے خون صاف کیا اور اسے اپنے کمبل میں ڈھک لیا۔ کیری بغیر کچھ کہے نیند میں چلی گئی۔ میں نے بھی یہ سوچ کر اطمینان کا سانس لیا کہ درد روکنے کی دوا نے بہت تیزی سے اپنا کام دکھایا ہے۔ مگر مجھے اب نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں نے سوئی ہوئی کیری کے چہرے پر نظر ڈالی۔ وہ ایک بار پھر پہلے کی طرح اپنے مسوڑھے چبا رہی تھی اور وہ جب بھی دانت پیستی تو ایک ہلکی سی گھسنے کی آواز سنائی دیتی۔ میں نے ایک گہری سانس لی اور سوچا کہ ماں کا پکایا کسٹرڈ اور کیری کے دانت چبانے کی عادت دونوں ہی اس کی تکلیف میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس کے باپ کو بھی سوتے میں دانت پیسنے کی بیماری تھی۔ بیس منٹ بعد میں نے کیری کے چہرے سے نگاہ ہٹائی اور پھر ایک کتاب اٹھائی، مگر ابھی چند صفحے ہی پڑھے ہوں گے کہ میری آنکھیں بوجھل ہونے لگیں اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب گہری نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ سورج نکلنے کے تھوڑی دیر بعد میری آنکھ کھلی اور مجھے بے چینی سے ہونے لگی۔ میں نے یوم تشکر کے تہوار پر پانی سے زیادہ شراب پی تھی اور نیند بھی کم لی تھی۔ میں نے کیرولین کو دیکھنے کے لیے کروٹ بدلی، مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ میں بری طرح چونک گئی کیوں کہ کیری کبھی بھی مجھ سے پہلے سو کر نہیں اٹھتی اور اسے صبح اسکول کے لیے اٹھانا کسی معرکے سے کم نہیں ہوتا۔ ’کیری۔‘ میں نے اسے آواز دی اور بستر سے اتر آئی۔ میں نے سوچا شاید وہ رات میں کسی وقت اپنے کمرے میں جا کر سو گئی ہے۔ کیری اپنے کمرے میں بھی نہیں تھی۔ ۔ ۔ ’کیری کیا تم نیچے ہو؟ میں جب زینے پر آئی تو نیچے کچن سے کیری کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے ایک گہری سانس لی۔ آپ کچھ نہیں کہہ سکتے بچے کس وقت کیا کر جائیں۔ ’تمہارے منہ کی تکلیف کیسی ہے؟ میں نے سیڑھیاں اترتے ہوئے پوچھا۔ ’ٹھیک ہے۔‘ اس نے کہا۔ اس کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے وہ دلیہ کھا رہی ہے اور وہ اس کے منہ میں بھرا ہوا ہے۔ یہ اس کی پرانی عادت تھی اور میں ہمیشہ اسے ایسا کرنے پر ٹوکتی تھی۔ ’ناشتے میں کیا ہے؟ میں نے صدا لگائی۔ مگر جواب میں صرف ہنسی کی آواز سنائی دی۔ جب میں زینے سے اتری تو لگا جیسے وہ کچھ چبا رہی ہے۔ یہ ایک بلند اور نوکیلی سی آواز تھی۔ مجھے لگا جیسے دلیہ باسی ہو کر سخت ہو گیا ہے، مگر یکایک میرے وجود میں فکر مندی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ ’کیری تم کیا کھا رہی ہو؟ میں ہال سے گزر کر کچن میں گئی۔ کیری وہاں ٹیبل کے سرے پر بیٹھی تھی۔ اس کا جبڑا اوپر نیچے حرکت کر رہا تھا اور اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ تھی۔ اس کے دہانے پر گولائی میں سیاہ خون جما ہوا تھا۔ میری سانسیں تھم گئیں اور میں اپنی بیٹی کی طرف بھاگی۔ ’کیرولین اپنا منہ کھولو۔ فوراً اپنا منہ کھولو۔‘ کیری ہنستی اور چباتی رہی۔ ’اب کوئی تکلیف نہیں ہو رہی‘ وہ خوشی سے چلائی۔ ’اور میں جتنا چبا رہی ہوں اتنا ہی اور مل رہا ہے! اس کے منہ میں کوئی سخت چیز بھری ہوئی تھی۔ میں نے کیری کی گال دبوچے اور پوری طاقت سے اس کا منہ کھول دیا۔ اندر نظر پڑتے ہی کراہیت سے مجھے ابکائی آ گئی۔ کیری کے منہ میں چبائے ہوئے خون آلود دانتوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھرے ہوئے تھے۔ ’کیرولین۔‘ میں چلائی اور اس کا منہ نیچے زمین کی طرف جھکایا۔ اس کے منہ سے انیمل اور خون کا ملغوبہ سا نکلا۔ میں نے اس کا منہ اوپر کیا اور پھر اندر دیکھا۔ اس کے سوجے ہوئے مسوڑھوں میں نئے دانت اگ رہے تھے، مگر وہ اتنی تیزی سے بڑھ رہے تھے کہ اس عمل سے پیدا ہونے والی سر سراہٹ میرے کانوں تک آ رہی تھی۔ ’اب درد بالکل ختم ہو گیا ہے۔‘ کیری نے اپنی بات دہرائی اور اپنے مسوڑھے بھینچ لیے۔ اس نے ایک بار پھر دانتوں کو چبانا شروع کر دیا۔ وہ بری طرح ہنس رہی تھی اور کچن میں اس کے دانتوں کے کچل کر ٹوٹنے کی مکروہ آواز گونج رہی تھی۔ میں نے فوراً فون اٹھایا اور 911 ڈائل کیا۔ کیری نے چبائے ہوئے مزید دانت میز پر اگل دیے۔ وہ میرے چہرے پر پھیلی دہشت سے لا پرواہ تھی۔ میرے کانوں میں ایمبولینس کے سائرن کی آواز آئی؛ مگر کیری کے منہ سے ہنوز دانتوں کو چبانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں خوشی سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اس نے ٹینس کی گیند کے برابر ملغوبہ اپنے منہ سے اپنے ہاتھ پر گرایا اور پھر اسے میری طرف بڑھا دیا۔ ’ممی ذرا سوچیے کہ اب ہمیں دانت پری سے کس قدر دولت ملے گی ۔ ۔ ۔‘


اس کہانی کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ حقیقی زندگی میں ایک بچے کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے، جو دانت کی صورت میں اگنے والی رسولی کا شکار ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں کو اس بچے کے منہ سے 232 دانت نکالنے پڑے۔  برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اس بارے میں رپورٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں: مترجم


ختم شد