Evil Whispers a Horror Story in Urdu

شیطانی سرگوشیاں‌

میں نے اس آواز سے کہا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے ۔ ۔ ۔  اور اس نے ایسا ہی کیا ۔ ۔ ۔ ! گزشتہ ہفتے تک میرا خیال تھا کہ میرا نفسیاتی مرض (شیزوفرینیا) موروثی ہے۔  ان دنوں میری کیفیت ایسی تھی کہ میرے لیے گھر میں ہی رہنا مناسب تھا۔ میں کافی دنوں سے جاب کے دوران شدید دبائو سے گزرا تھا؍ جس کے نتیجے میں؍ میں ایک نا قابل فہم خوف کا شکار ہو گیا تھا – – – مگر اس سے خراب بات یہ ہوئی تھی کہ میرے کانوں میں سنائی دینے والی آوازوں کی شدت بڑھ گئی تھی۔  میں نے تیز آواز میں موسیقی کے ذریعے اپنے ذہن میں ابھرنے والی اس آواز کو دبانے کی کوشش کی؍ مگر یہ کسی صورت میرا پیچھا چھوڑن کے لیے تیار نہیں تھی۔  میں نے اس آواز کو ’سیمی‘ نام دیا ہوا ہے۔  سیمی نے مجھ سے کہا تمہیں پتہ ہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں؟  ’شٹ اپ سیمی؍ میں تمہیں نہیں سن رہا۔‘  نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ میں تمہارے سر کے اندر ہوں؟ اور میں تو صرف تمہیں خبر دار کر رہا ہوں۔ وہ بہت جلد تمہیں ٹھکانے لگانے آ رہے ہیں۔  ’یہ بات تم گزشتہ 5 سالوں سے کہہ رہے ہو۔‘ میں نے کہا اور اپنے اس بڑھتے ہوئے خوف کو دبانے کی کوشش کی کہ ہو سکتا ہے اس بار سیمی کی تنبیہ درست ہو۔ ۔ ۔   میں گزشتہ پانچ سالوں سے تمہیں سچ ہی بتا رہا ہوں۔ جان؍ میری عمر تم سے لاکھوں سال زیادہ ہے اور میرے نزدیک 5 سال صرف 5 منٹ کے برابر ہیں۔  میرے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ میں نے بیئر کی ایک بوتل نکالنے کے لیے فریج کا دروازہ کھولا۔ میرا خیال تھا کہ مجھے اس سے تھوڑا ذہنی سکون ملے گا۔  سیمی نے کہا ’تمہیں ڈاکٹر نے شراب نوشی سے منع کیا ہے۔ اس سے تمہارے علاج میں خلل پڑتا ہے۔‘  ’مجھے معلوم ہے سیمی۔‘ میں نے کہا اور ساتھ ہی آ دھی بوتل غٹ غٹ اپنے حلق میں انڈیل لی۔ جب میرے اعصاب میں ایک سرد سا ارتعاش شروع ہوا تو مجھے تھوڑا سا آرام ملا۔  میں ڈاکٹر تھامس کو یہ بات بتائوں گا۔  میں نے اپنے آپ سے کہا کہ سیمی مجھ سے کھیل رہا ہے۔ الکوحل نے وقتی طور پر میرے اعصاب کو مضبوط کر دیا تھا۔ میں نے سیمی سے چلا کر کہا ’جائو جائو ضرور بتائو۔ بلکہ ایسا کرو اس وقت جا کر کسی اور کا دماغ کھائو۔ میں تم سے تنگ آ چکا ہوں۔‘  تم مجھے یاد کرو گے۔ ۔ ۔  ’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ ‘میں نے سیمی کے ترکی بہ ترکی جواب کا انتظار کیا؍ مگر وہ چپ رہا۔ میرے ذہن میں خاموشی تھی۔ میں نے سوچا کہ اگر ڈاکٹر تھامس کو پتہ چل گیا کہ میں پھر سیمی سے باتیں کر رہا ہوں تو وہ آگ بگولہ ہو جائے گا؛ مگر میرے پاس سیمی سے پیچھا چھڑانے کا سب سے آسان راستہ یہ ہی تھا؛ کیوں کہ میں کسی صورت اپنی ادویات میں اضافہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔  میں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ ضروری نہیں؍ مگر مجھے پھر بھی کرنا پڑے گا؛ چناں چہ میں اپنے کمرے میں گیا اور کھڑکیوں پر پردے گرا دیے۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے وہ مجھے دیکھ رہے ہوں۔  اس کے با وجود میں نے اپنے آپ کو غیر معقول طرز عمل کا مظاہرہ کرنے پر کوسا اور پھر کوچ پر لیٹ گیا۔ میرے ذہن پر شراب کا خمار طاری تھا اور میں یہ وقت ٹی وی پر کارٹون دیکھ کر گزرانا چاہ رہا تھا۔  مجھے ابھی ٹی وی پر نظریں جمائے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ میرے فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر ڈاکٹر تھامس کا نام چمک رہا تھا۔ چوں کہ میں نہیں چاہ رہا تھا کہ ڈاکٹر تھامس کو میری شراب نوشی کا پتہ چلے؍ اس لیے میں نے فون نہیں اٹھایا اور اس کال کو وائس میل پر جانے دیا۔  مگر کچھ دیر بعد فون پھر بجا۔  میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کال پک کر لی۔  ’ہیلو۔‘ میں نے کہا۔  ’جان ۔ ۔ ۔ ؟ ڈاکٹر تھامس کی آواز سنائی دی؍ مگر آواز سے وہ کافی متفکر محوس ہو رہا تھا۔  ’ڈاکٹر تھامس خیریت تو ہے؟ میں نے جواب میں کہا۔  ’کیا تمہیں سیمی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں؟ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا۔  ’تھوڑی بہت ڈاکٹر تھامس؍ مگر پریشانی کی بات نہیں، میں انہیں آرام سے کنٹرول کر سکتا ہوں۔‘  ’کیا تم سیمی سے بات چیت کرتے رہے ہو ۔ ۔ ۔  سچ بتائو؟  ڈاکٹر تھامس کو اس بات کا علم کیسے ہوا؟ ایک بار پھر میرے اعصاب پر وہ نا معلوم خوف طاری ہونے لگا؍ مگر میں نے سوچا کہ سیمی نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔  ’سوری ڈاکٹر تھامس مجھے پتہ ہے کہ یہ بات میری صحت کے لیے نقصان دہ ہے؍ مگر مجھے سیمی سے بات کر کے تھوڑا بہت آرام ملتا ہے۔‘  ’نہیں ایسی بات نہیں۔‘ ڈاکٹر تھامس نے کہا۔ کیا تمہیں یاد ہے کہ تم نے آخری بار سیمی سے کیا کہا تھا؟ اچھی طرح سوچ کر بتائو کیوں کہ یہ بات بہت اہم ہے۔  وہ یہ بات کیوں پوچھ رہا ہے؟  ’اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ تمہیں بتانے جا رہا ہے کہ میں نے پھر ۔ ۔ ۔ ‘ ’شراب پی ہے ۔ ۔ ۔ ‘ ڈاکٹر تھامس نے میرا جملہ مکمل کرتے ہوئے کہا۔  ’جی ہاں۔‘ ڈاکٹر نے یہ بات یقیناً میری آواز میں سنی ہو گی۔ کیا میں پی کر بالکل ہی بہک گیا تھا؟  ’میں نے سیمی سے کہا کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے میرا پیچھا چھوڑ کر کسی اور کا دماغ کھائے‘ میں نے جواب دیا۔  جواب میں خاموشی سنائی دی۔  ڈاکٹر تھامس؟ ڈاکٹر تھامس نے اچانک کہا ’مجھے نہیں پتہ کہ چکر کیا ہے۔‘ اس کی آواز پتلی تھی جس میں تنائو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔  ’منطقی طور پر میرا خیال ہے کہ یہ کوئی مشترکہ دماغی مرض ہے؍ مگر ۔ ۔ ۔ ‘  ’مگر کیا ڈاکٹر؟  ’سیمی نے مجھ سے سے بات کی ہے۔‘ میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ مجھے لگا ڈاکٹر تھامس مجھ سے مذاق کر رہا ہے۔  ’کیا واقعی؟ میں نے کہا۔  ’مجھے نہیں پتہ کہ اصل بات کیا ہے؍ مگر سیمی نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں بتا دوں ۔ ۔ ۔ ‘ میری ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھیں۔  ’کیا ۔ ۔ ۔ ؟  ’شاید میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘ ڈاکٹر نے کہا۔  ’ٹھیک ہے ڈاکٹر۔‘ میں نے کہا۔  مگر مجھے اس کی بات پر یقین نہیں تھا؍ اور اچانک فون سے سیمی کی آواز ابھری۔  سیمی نے مجھے سے کہا ’میں نے ڈاکٹر تھامس سے کہا تھا کہ وہ تمہیں بتا دے کہ وہ لوگ تمہیں ٹھکانے لگانے آ چکے ہیں۔‘  کال یک لخت منقطع ہو گئی؍ مگر ڈور بیل نے چیخنا شروع کر دیا۔  


اگر زندہ رہنے کی خواہش ہے تو جدید سائنس پر ایک حد تک ہی یقین کرنا چاہیے 


 

ختم شد