EVP in Urdu

نانی کی دوسری دنیا سے خیریت کی تین ’مسڈ کالیں‘

مجھے طوفان سے بہت ڈر لگتا ہے مگر اس سے زیادہ وحشت مجھے اسپتالوں میں ہوتی ہے۔ میری نانی شدید بیمار تھیں اور ہمیں اس دن انہیں دیکھنے اسپتال جانا تھا مگر اس روز ایک انتہائی شدید طوفان کی آمد کی کئی دنوں سے پیش گوئی کی جا رہی تھی تا ہم میں نے اسپتال جانے کے بجائے گھر پر ٹہرنے کا فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ کی بھی دیر نہیں کی۔ ماما نے اسپتال جانے سے پہلے آخری بار مجھ سے پوچھا کہ کیا واقعی میں متوقع طوفان کی آمد کے با جود گھر پر رک رہی ہوں۔ پاپا باہر گاڑی میں بیٹھے ماما کا انتظار کر رہے تھے۔ ’جی بالکل میں گھر پر رکوں گی‘ میں نے جواب دیا۔ میری عمر اس وقت صرف تیرہ سال تھی اور میرے گھر پر رکنے کا ایک مقصد اپنے دل سے طوفان کا خوف نکالنے کی کوشش کرنا بھی تھا۔ میں اب کوئی ننھی بچی نہیں تھی کہ گھر میں اکیلے نہیں رک پاتی اور پھر میرے ساتھ ہمارا پالتو کتا اجگر بھی تھا چناں مجھے کم از کم تنہائی کا خوف نہیں تھا۔ ان دنوں موبائل فون عام نہیں ہوئے تھے اور ماما اور پاپا کے پاس بیپرز ہوا کرتے تھے چناں انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو میں انہیں بیپر پر پیغام بھجوا دوں۔ ماما نے اپنے ہاتھ میں تھامی بڑی فوٹو البم کو سینے سے لگاتے ہوئے ایک بار پھر مجھ سے کہا ’تم فکر نہیں کرنا۔ ہم بس چند گھنٹوں میں واپس آ جائیں گے‘۔ ماما کے عقب میں گیراج کا دروازہ چرچراتا ہوا کھلا اور پاپا نے کار اسٹارٹ کی جو اس بات کا اشارہ تھی کہ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ’میں اگلی دفعہ آپ کے ساتھ ضرور جائوں گی۔ نانی کو میری طرف سے ہائے بولیے گا‘ میں نے جواب میں کہا۔ ماما نے میرے سر کا بوسہ لیا اور ایک بار پھر مجھے دیکھ کر یہ یقین کرنے کی کوشش کی کہ میں واقعی گھر پر رکنے کے لیے تیار ہوں یا نہیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں کار میں بیٹھ کر اسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس دوران میں ان بھاری سیاہ بادلوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی تھی جنہوں نے اب ہلکا ہلکا گرجنا شروع کر دیا تھا۔ پاپا کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد میں نے اپنے کتے کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور مطالعہ کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ابھی مجھے مطالعہ کرتے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ طوفان اپنی تمام تر غضب ناکی کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔ طوفان کی پہلی گرج سنتے ہی اجگر میرے قدموں سے لپٹ گیا اور اس کے بعد جیسے ہی طوفان میں شدت آئی اس نے اتنی بری طرح خوف سے لرزنا شروع کیا کہ میرا پورا بستر مرتعش ہونے لگا۔ میں نے اسے قریب کیا اور اسے پچکارنے کی کوشش کی مگر یہ ایک الگ بات ہے کہ بادل کی ہر گرج اور بجلی کی چمک کے ساتھ میں خود بھی بستر پر اچھل رہی تھی۔ میں نے اپنا دھیان بٹانے کے لیے با آواز بلند پڑھنا شروع کر دیا۔ اس طرح پڑھنے سے تھوڑی دیر کے لیے میرا ڈر ختم ہو گیا۔ لا شعوری طور پر میں کہانی میں اس طرح کھو گئی کہ ہوائوں کی چنگھاڑتی آوازیں اور تیز بارش کا بھیانک شور پس منظر میں چلا گیا۔ مگر اجگر مسلسل کانپ رہا تھا۔ اس نے میرے پیروں میں اپنا منہ چھپایا ہوا تھا مگر اب وہ اسی وقت بری طرح اچھلتا تھا جب بادلوں میں کوئی بہت ہی بلند گرج پیدا ہوتی تھی۔ یک لخت بجلی بری طرح چمکی اور اس کے بعد ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا۔ وہ ایک بہت ہی خوف ناک چنگھاڑ تھی۔ میں بے ساختہ چیخ پڑی اور کمرے سے نکل بھاگی۔ میرے پیچھے اجگر خوف زدہ آوازیں نکالتا دوڑا۔ خوف کے مارے میرے ہاتھ سے کتاب گر گئی تھی مگر میں اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ’مجھے بہت بھوک بھی تو لگ رہی ہے‘ میں نے اپنے آپ سے یہ جملہ کہا اور دوڑتے ہوئے کچن میں گھس گئی۔ اس دوران ٹیوب لائٹوں کے جس جس بٹن پر میرا ہاتھ پڑا میں نے اسے جلا دیا۔ اس طرح میری تنہائی کا احساس کم ہوا اور طوفان سے میرے خوف میں بھی خاصی کمی آئی۔ اجگر ابھی بھی میرے پیروں میں گھسا ہوا تھا اور میں پینٹری میں رکھے فریج سے چیزیں نکالتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ مجھے اس وقت اپنے کھانے کے لیے کیا بنانا چاہیے۔ ابھی میں فریج کے پاس سے کچن میں داخل ہو ہی رہی تھی کہ فریج کے برابر دیوار پر لگا فون بج اٹھا۔ اچانک بجنے والی فون کی گھنٹی سے میں بری طرح چونک گئی۔ فون کی گھنٹی صرف ایک بار بجی اور اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا۔ میں نے اپنے حلق سے تھوک نگلا اور اجگر کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے کہا کوئی بات نہیں اجگر یہ صرف ہمارے فون کی بیل تھی۔ اجگر نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئی اپنی دم ہلائی۔ مجھے پتہ تھا وہ پنیر کا ایک ٹکڑا کھانے کی فکر میں تھا اور وہ پنیر کا اتنا شوقین تھا کہ بھیانک سے بھیانک طوفان بھی پنیر اور اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ شاید کسی نے غلطی سے ہمارا فون نمبر ملا دیا ہو گا اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس نے پہلی بیل کے بعد فوراً لائن منقطع کر دی ہو گی۔ میں نے اپنے کھانے کے لیے چپس اور پنیر کی ایک پلیٹ تیار کی جس میں سے تھوڑا سا میں نے اجگر کے آگے ڈال کر اپنی پلیٹ مائکرو ویو میں رکھ دی۔ جب پنیر اچھی طرح پگھل گیا تو میں پلیٹ اٹھا کر لائونج میں چلی گئی جہاں ٹی وی رکھا تھا۔ میں بلند آواز میں کارٹون دیکھنا چاہتی تھی تا کہ کسی حد تک طوفان کی آوازیں دب جائیں۔ ابھی ہمیں وہاں بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی اور اجگر میرے برابر میں بیٹھا ندیدی نظروں سے مجھے کھاتے تک رہا تھا کہ یک لخت وہاں میز پر رکھے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس بار میں خوف زدہ نہیں ہوئی اور اس کا ریسیور اٹھا کر کان سے لگا لیا۔ مگر اسے پہلے کہ میں ہیلو کہہ پاتی لائن کٹ چکی تھی اور ریسور میں ڈائل ٹون سنائی دے رہی تھی۔ میں نے الجھے ہوئے انداز میں ٹیلے فون کو دیکھا مگر خاموشی سے اس کا ریسیور واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ میں نے سوچا ممکن ہے طوفان ٹیلے فون کے تاروں یا نظام میں خرابی پیدا کر رہا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ایک بار پاپا نے بتایا تھا کہ خراب موسم میں ٹیلے فون کی لائنیں کام کرنا چھوڑ سکتی ہیں یا خراب ہو جاتی ہیں۔ ’اس میں بھلا خوف زدہ ہونے کی کیا بات ہے‘ میں نے اجگر سے کہا۔ وہ اٹھ کر میری گود میں آڑا ترچھا لیٹ گیا اور اس کی آنکھیں میرے چپس پر گڑی ہوئی تھیں۔ میں دل کی بہت نرم تھی اس لیے میں نے ہنستے ہوئے ایک چپس کا ٹکڑا اس کے منہ میں دے دیا۔ اس دوران ہوا کا ایک غصیلا جھونکا گھر کی کھڑکیوں سے ٹکرا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ابھی ہم نے ٹی وی کا ایک پروگرام نصف کے قریب ہی دیکھا ہو گا کہ فون پھر بج اٹھا۔ مگر اس بار میں ساکت بیٹھی رہی۔ فون صرف ایک گھنٹی کے بعد خاموش ہو چکا تھا۔ میں نے اس بات کو پہلے کی طرح نظر انداز کرنے کی کوشش کی مگر میری گردن پر رواں کھڑا ہونا شروع ہو گیا تھا جسے میں نے بے دردی سے رگڑ دیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اب بچی نہیں ہوں اور یہ صرف فون کی گھنٹی کے سوا بھلا اور کیا تھا۔ میں نے دوبارہ ٹی پر توجہ مرتکز کرنے کی کوشش کی مگر میری نظریں بار بار پلٹ کر ٹیلے فون کی طرف جا رہی تھیں۔ جب فون دس منٹ بعد ایک بار پھر بجا تو اس مرتبہ کمرے میں جلنے والی لائٹیں تھرتھرانے لگیں۔ ۔ ۔ مگر صرف ایک گھنٹی کے بعد فون پھر خاموش ہو چکا تھا۔ گھر کے باہر طوفان پوری شدت سے دیواروں سے ٹکرا رہا تھا اور کمرے کی ٹیوب لائٹ بالکل بجھنے کے قریب ہو کر پھر پوری طرح جل اٹھی۔ اس بار میرے سینے میں دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور میں خوف زدہ ہو کر باتھ روم کی طرف دوڑی جو لائونج کی دوسری طرف تھا۔ میں فارغ ہو کر اپنے ہاتھ دھو ہی رہی تھی کہ یکا یک لائٹیں بجھ گئیں اور باتھ روم مکمل تاریک ہو گیا۔ میری حالت رونے والی ہو رہی تھی مگر میں نے کسی نہ کسی طرح تولیہ کو اندھیرے میں تلاش کیا اور اپنے ہاتھ پونچھ کر باتھ روم سے باہر نکل آئی۔ کچن کی دراز میں فلیش لائٹ رکھی ہوئی تھی مگر مجھے وہاں تک جانے کے لیے لائونج سے گزرنا تھا۔ میں ابھی باتھ روم کا دروازہ بند ہی کر رہی تھی کہ فون پھر بج اٹھا۔ اس بار پھر صرف گھنٹی بجی جس کی آواز تاریکی میں ڈوبے پورے گھر میں پھیل گئی۔ خوف نے میرے قدموں کو جکڑ لیا تھا۔ میں جانتی تھی میرا خوف زدہ ہونا بچوں جیسی بات ہے مگر فون کی چیختی ہوئی گھنٹی نے میری آنکھوں سے آنسوئوں کو بہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ فون کیوں بجے جا رہا تھا؟ یہ کس کا فون تھا؟ فون کرنے والا آخر چاہ کیا رہا تھا؟ ’شاید کسی کو پتہ ہے میں اس وقت گھر پر اکیلی ہوں اور وہ موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے‘ میرے اندر چھپی لڑکی یک لخت بیدار ہو گئی۔ اجگر کمرے میں بیٹھا چھوٹی چھوٹی آوازیں نکال رہا تھا۔ مجھے لگا شاید وہ بھی میری طرح خوف سے رو رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ مجھے فوراً اس کے پاس جانا چاہیے۔ میں نے اپنے ہونٹ پر دانت جمائے، سر جھکایا اور راکٹ کی طرح دوڑتی لائونج سے کچن میں چلی گئی۔ میں نے تیزی سے دراز کھینچی اور اس میں رکھی فلیش لائٹ نکال لی۔ میں نے اسے جلایا اور اس کا رخ لائونج کی طرف کر دیا۔ یک لخت بجلی چمکی اور بادلوں کی زور دار گھڑگھڑاہٹ سنائی دی۔ میں نے خود پر جبر کر کے اپنے سسکیوں کو روکا اور لرزتی کانپتی آواز میں اجگر کو آواز دی۔ وہ کمرے میں میز کے پاس الٹا لیٹا بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کی نظریں میز پر رکھے فون پر جمی تھیں اور مجھے ایک لمحے میں اندازہ ہو گیا کہ اس بار اس کے خوف کا سبب طوفان نہیں بلکہ ٹیلے فون ہے ۔ ۔ ۔ یک لخت پھر بجلی کڑکی اور ساتھ ہی فون کی گھنٹی ایک بار پھر بج کر خاموش ہو گئی۔ ’اجگر ۔ ۔ ۔ ‘ میں اتنی بری طرح چلائی گویا کوئی عفریت فون سے نکل کر اسے اندر گھسیٹ لے گا۔ مگر وہ مسلسل فون کو گھور رہا تھا۔ اس کے کان آگے کو کھڑے تھے اور اس نے ایک عجیب سی آواز نکالی۔ میں بھاگتی ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور اجگر کو گود میں اٹھانے کے لیے جھکی ہی تھی کہ میں گھر کے بیرونی دروازے پر آہٹ سنی۔ ۔ ۔ میں نے فوراً فلیش لائٹ جلائی۔ ۔ ۔ کوئی دروازے کا لاک کھول رہا تھا۔ دروازہ یک لخت کھل گیا اور میں نے چیخنا شروع کر دیا۔ ’سوزن، سوزن، چپ ہو جائو‘ مجھے یہ بات سمجھنے میں تھوڑی دیر لگی کہ دروازے تاریکی میں کھڑے اور پانی میں شرابور سائے میرے ماں باپ ہی تھے۔ انہیں داخلی دروازے سے اس لیے آنا پڑا تھا کیوں کہ طوفان کی وجہ سے بجلی گئی ہوئی تھی اور گیراج کا خود کار دروازہ کھولنا ممکن نہیں تھا۔ اجگر اور فلیش لائٹ میرے ہاتھوں سے پھسل گئی اور میں دوڑتی ہوئی جا کر پاپا سے لپٹ گئی۔ ’آخر بات کیا ہے؟ کیا ہوا؟ پاپا نے مجھ سے پوچھا۔ میں انہیں طوفان اور ٹیلے فون کے بارے میں بتانا چاہ رہی تھی مگر الفاظ میرے حلق میں اٹک گئے۔ ماما اور پاپا کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی سی تھیں اور ماما کے چہرے پر وہ تاثرات تھے جو میں نے زندگی میں صرف ایک بار اس وقت دیکھے تھے جب تین سال پہلے نانا کی کار کا حادثہ ہوا تھا۔ میرے رگ و پے میں ایک مکروہ سا احساس اتر آیا اور تھوڑی دیر کے لیے فون کی وہ پراسرار گھنٹیاں میرے ذہن سے نکل گئیں۔ ’نانی ۔ ۔ ۔؟ میں نے کسی نہ کسی طرح سوال کیا۔ ان دونوں نے مجھے خود سے لپٹا لیا جس کے بعد مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ’نانی بہت دنوں سے شدید بیمار تھیں‘ پاپا نے کہا۔ ’ہمارا خیال تھا ابھی وہ کچھ عرصہ اور ہمارے ساتھ رہیں گی مگر آج اچانک ہی ان کی حالت بگڑ گئی اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو ہم ان کے پاس ہی تھے۔‘ میں ماما کو تسلی دینا چاہتی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ میری بات سے ماما کا غم ذرا سا کم ہو جائے مگر زبان گویا حرکت کرنا ہی بھول گئی تھی اور میں نے بس ان سے لپٹ کر دروازے میں کھڑے کھڑے رونا شروع کر دیا۔ میرے عقب میں فون کی گھنٹی پھر ایک بار بجی۔ میرا جسم تن گیا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ ماما بھی بری طرح چونک اٹھی تھیں۔ میں نے ان کی طرف دیکھا مگر وہ میرے سر پیچھے ٹنگے فون کو تک رہی تھیں۔ ’یہ کافی دیر سے اسی طرح بار بار بج رہا ہے‘ میں اب خوف زدہ نہیں تھی بلکہ جو بھی یہ شرارت کر رہا تھا مجھے اس پر غصہ آ رہا تھا۔ مگر ماما کی رگوں سے جیسے خون خشک ہو گیا تھا۔ ’یہ کہتے ہو سکتا ہے؟ پاپا نے مجھ سے پوچھا۔ وہ ماما کو سہارا دے کر اندر لائے اور اپنے عقب میں دروازہ بند کر دیا۔ ’جی پاپا مگر ۔ ۔ ۔ ‘ ’مگر صرف ایک بار۔ ۔ ۔‘ ماما نے بے یقینی کے عالم میں کہا۔ ’ماما آپ کو کیسے پتہ چلا؟ میں نے چلا کر پوچھا میری آنکھیں پھٹ کر باہر نکلنے کے قریب ہو گئی تھیں۔ ماما لائونج سے گزریں اور فون کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں۔ مگر ان کی آنکھیں مستقل فون پر جمی ہوئی تھیں۔ ’جب میں اپنے والدین کے گھر سے اپنے گھر منتقل ہوئی تو میرا گھر ان کے گھر سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ میں ہر دوسرے ہفتے اپنے ماں باپ سے ملنے ان کے گھر جایا کرتی تھی اور میں جب بھی وہاں سے واپس آتی تمہاری نانی مجھ سے تاکیداً کہتیں کہ جب میں گھر حفاظت سے پہنچ جائوں تو انہیں فون کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کر دوں۔ میں ایک طویل عرصے تک ایسا کرتی رہی اور پھر میری تمہارے پاپا سے ملاقات ہوئی۔ ۔ ۔‘ ماما کی آواز لڑکھڑا سی گئی اور انہوں نے ٹیلے فون کے ریسیور پر اپنی انگلیاں پھیریں۔ ’مگر میں صرف ایک بیل دیا کرتی تھی تا کہ تمہارے نانا اور نانی کو پتہ چل جائے کہ میں خیریت سے اپنے گھر پہنچ گئی ہوں۔ تمہاری نانی بھی جواب میں مجھے صرف ایک بیل دیتی تھیں اور اس طرح ہم سب بغیر کسی خرچ کے مطمئن ہو جاتے تھے۔ ماں کہا کرتی تھی کہ میری جوابی کال کا مطلب ہے کہ مجھے تمہاری خیریت مل گئی اور یہ کہ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔‘ پاپا ماما کے برابر میں بیٹھ گئے اور ان کے شانوں پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ ماما نے ایک گہری سانس لی مگر اس میں ایک سرد سے کپکپاہٹ تھی۔ ۔ ۔ ’کیا یہ نانی کا فون تھا ۔ ۔ ۔ ؟ میں نے دھیرے لہجے میں پوچھا۔ ’ایسا کیسے ہو سکتا ہے بیٹا‘ پاپا نے نرمی سے جواب دیا۔ ابھی یہ الفاظ پاپا کے ہونٹوں میں ہی تھے کہ فون پھر بج اٹھا۔ صرف ایک گھنٹی۔ یہ وہی اشارہ تھا جو ماما سالوں سے اپنے ماں باپ کو اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھیں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کہ وہ حفاظت سے اپنے گھر پہنچ گئی ہیں۔ ماما اور پاپا نے نظروں کا تبادلہ کیا۔ ’ایبی‘ پاپا نے ماما کو پکارا مگر وہ اٹھ کر فون کی طرف چلی گئیں۔ ’ماں نے اپنی طرف سے بیل دے دی ہے اور اب انہیں بیل دینے کی باری میری ہے‘ ماما نے ایک کم زور سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ بحث کرنے کے بجائے پاپا نے ماما کا ہاتھ تھاما اور اسے ہلکا سا دبا کر چھوڑ دیا تا کہ وہ آخری مرتبہ اپنی ماں کا نمبر ملا سکیں۔ ماما نے ریسیور اٹھایا اور نانی کا نمبر ملا کر صرف ایک بیل دی۔ ایک طویل بیل جو اس بات کا اظہار تھی کہ ہمیں ان کی خیریت مل گئی اور یہ کہ ہم سب ان سے محبت کرتے ہیں۔ ماما نے خاموشی سے ریسیور اپنی جگہ رکھ دیا۔ ہمارے فون پر دوبارہ کبھی صرف ایک گھنٹی نہیں بجی۔ نانی نے ہمیں آگاہ کر دیا تھا کہ وہ بھی خیریت سے اپنے ابدی گھر پہنچ گئی ہیں۔

الکیٹرانک وائس فینومینا

ختم شد