Extraterrestrial Hill

مکروہ پہاڑ جو ہماری دنیا کا نہیں‌ تھا

 ہماری کپمنی کو ریاست کینٹکی کے جنوبی مشرقی علاقے میں واقع فالین فیلڈ مائونٹین کے ارضیاتی سروے کا کام دیا گیا تھا۔ یہ پہاڑ کیمبرلینڈ اور الگینی پہاڑوں اور کیمبرلینڈ پلیٹو کے وسط میں ہے۔ یہ پہاڑ ایک گول جھیل کی طرح کی گہرائی کے بالکل درمیان میں کھڑا ہے اور حیرت انگیز طور پر اس جگہ کی زمین باقی علاقے کی زمین سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری کمپنی نے حکومت سے فریکنگ سروے کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ اس عمل میں مخلتف قسم کے کیمائی محلول زبردست دبائو کے ساتھ انجکشنوں کے ذریعے پہاڑی زمین میں داخل کیے جاتے ہیں۔ ہماری خدمات حاصل کرنے والی پٹرولیم کمپنی یہ جاننے کے لیے بے چین تھی کہ اس علاقے سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم پیر کی صبح اس طرف روانہ ہوئے۔ موسم کے بارے میں پیش گوئی تھی کہ یہ معتدل رہے گا اور ہم چاروں تیزی سے جلد از جلد فاصلہ طے کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے راستے میں ایک اسٹور سے ضرورت کی آخری چیزیں لیں۔ ہمارا راستہ کوئی خاص دشوار نہیں تھا مگر ہم ہرلحاظ سے مکمل طور پر تیار رہنا چاہتے تھے۔ ابھی ہم اس اسٹور میں کھڑے چیزیں دیکھ ہی رہے تھے کہ وہاں ایک ملازم نے ہمارے ماہر ارضیات جیک لیمانٹ سے بحث شروع کر دی۔ دراصل وہ ملازم اس بات کے خلاف تھا کہ اس پہاڑ کا ارضیاتی سروے کیا جائے اور سب سے اہم بات یہ تھا کہ اس کا موقف سائنسی نہیں تھا ۔ ۔ ۔  سن چالیس اور پچاس کی دہائی کے درمیان متعدد کمپنیوں نے فالن فیلڈ پہاڑ کے اطراف سے کوئلہ نکالنے کی کوششیں کی تھیں۔ مگر ہر کوشش متعدد کان کنوں کی ہلاکت پر منتج ہوئی تھی۔ اگر چہ اس وقت کے قانون کے مطابق ان ہلاک شدہ کان کنوں کے لیے تو کچھ نہیں کیا جا سکا مگر کمپنیاں خاموشی سے اپنا کام بند کر کے آگے بڑھ گئیں۔ اسٹور کے ملازم کے مطابق اس کا باپ بھی ایسے ہی ایک حادثے میں جان سے گیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ہمارا انجام بھی کچھ مختلف نہیں ہو گا۔ مگر اس کی باتوں سے بے پرواہ ہم نے صبح دس بجے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ موسم توقع کے مطابق خوش گوار تھا۔ شام ساڑھے چھ بجے ہم نے اپنا کیمپ لگایا۔ رافیل نے آگ روشن کی جب کہ ماٹو اور جیک قریبی دریا سے مچھلیاں پکڑنے چلے گئے۔ ایک گھنٹے بعد وہ پانچ، چھ بہترین مچھلیاں پکڑ لائے۔ ہم نے ان کی کھال صاف کی اور پھر ایک شان دار ضیافت اڑائی۔  ہمارے پاس دو خیمے تھے اور میرے ساتھ خیمے میں رافیل نے سونا تھا۔ ہم نو بجے کے قریب گہری نیند میں کھو گئے مگر صبح دو بجے ہماری آنکھ ایک پر اسرار آواز سے کھل گئی۔ یہ ایک ایسی آواز تھی جیسے کوئی چھوٹا طیارہ اڑان بھر رہا ہو۔ رافیل نے مجھے بتایا کہ یہاں سے چند سو میل دور ایک فوجی بیس ہے اور ممکنہ طور پر وہ کوئی انجن وغیرہ ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ میں نے سر ہلایا اور پھر گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ صبح ساڑھے سات بجے ہم دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ ہم نے دوران سفر ہی ناشتہ کیا۔ مگر اب راستہ چٹانی پتھروں کے باعث دشوار گزار ہو گیا تھا۔ ہم پہاڑوں کے قریب پہنچ گئے تھے۔ پہاڑ اگر چہ بالکل ستواں نہیں تھے مگر پھر بھی ان پر چڑھنا خاصا دشوار کام تھا کیوں ہمارے پاس خاصا ساز و سامان بھی تھا۔ پہاڑوں پر چڑھنے میں اپنی تمام تر مہارت کے با وجود ہم کوئی غیر ضروری خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔ دوپہر کے وقت ہم نے اس پر اسرار آواز کو ایک بار پھر سنا۔ اس بار یہ آواز کافی بلند تھی اور پرندے خوف سے آوازیں نکالتے دور اڑ گئے۔ ہم نے چاروں طرف گھوم کر اس آواز کا سبب جاننے کی کوشش کی۔ رافیل نے ایک بار پھر اپنی ملٹری بیس کی توجیہ کو پیش کیا مگر اب اس کے لہجے میں یقین کی کمی تھی۔ ہم آج سارا دن اس مفروضہ بیس کی مخالف سمت میں چلتے رہے تھے اور فطری طور پر اس آواز کی شدت کو کم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ ہم آگے بڑھتے رہے اور ٹہر ٹہر کر اس آواز کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے۔ جیک نے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کمپنی سے رابطہ بھی کیا۔ مگر کمپنی والوں نے اس بارے میں قطعی لا علمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا اس علاقے میں کوئی فیکٹری وغیرہ بھی نہیں ہے۔ فالین فیلڈ پہاڑ کے دامن میں کوئلہ نکالنے والی متروک مشینیں وغیرہ کھڑی تھیں۔ ان میں سے کسی کو بھی 1950 کے بعد سے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ تا ہم 1990 میں حکومت نے ان کانوں کے خطرناک اور گہرے حصوں کو بند کروا دیا تھا۔ چناں چہ اگر آواز ان متروکہ کانوں سے آ رہی تھی تو کمپنی کو اس سلسلے میں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ہماری پریشانی میں تھوڑا اور اضافہ ہو گیا تھا۔ دن کے اختتام پر جب ہم خیمے لگا رہے تھے مجھے یاد آیا کہ ہمیں وہ پر اسرار آواز سنے کم از کم 3 گھنٹے ہو گئے تھے۔ مگر ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ جیک نے کمپنی کو کال کیا اور وہاں سے ہمیں یہ بری خبر موصول ہوئی کہ ہمارے آگے ایک سرد طوفانی بارش کھڑی تھی جس نے اگلے 48 گھنٹوں تک لگا تار برسنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا سفر جاری رکھیں مگر ساتھ ہی محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی۔ اس تمام رات بارش ہمارے خیموں پر برستی رہی اور ہم بری طرح شرابور ہو گئے۔ اس دوران دریا چڑھ گئے تھے اور مٹی گیلی ہو گئی۔ بارش کے باعث زیادہ فاصلے تک دیکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ مگر ہم چلتے رہے۔ اس روز ہم نے اس پر اسرار آواز کو نہیں سنا۔ ہمارے سفر کو پورے 24 گھنٹے ہو گئے تھے۔ دوپہر کے وقت بارش کی شدت میں زبر دست اضافہ ہو گیا چناں چہ ہم نے کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔ ہر چیز مٹی اور پانی میں لتھڑی ہوئی تھی اور ہم چاروں ٹھنڈ سے کانپ رہے تھے۔ ہم خیمے میں ایک دوسرے سے چمٹ کر بیٹھ گئے اور ماٹو کی لائی ہوئی وہسکی کے تھوڑے تھوڑے گھونٹ بھرے جس سے سردی قدرے کم ہوتی محسوس ہوئی۔ تاریکی چھا جانے کے بعد جیک اور ماٹو نے سونے کا اعلان کیا اور وہ اپنے خیمے کی طرف چلے گئے۔ رافیل بھی اپنے سونے کے بستر میں گھس گیا اور چند ہی منٹوں بعد خیمے میں اس کے خراٹے گونج رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے بھی نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ مگر میرے خواب خوف ناک تھے اور مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ پر اسرار آواز مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔ ۔ ۔ ۔  فالین فیلڈ پہاڑ کی طرف ۔ ۔ ۔  صبح ہو چکی تھی مگر میں ابھی نیند میں ہی تھا کہ رافیل دوڑتا ہوا خیمے میں داخل ہوا اور اس نے چلا کر کہا کہ ماٹو اور جیک غائب ہو گئے ہیں۔ میں نے آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا کہ ہوا کیا ہے۔ اس نے کہا ’ماٹو اور جیک دونوں غائب ہیں۔ ان کا خیمہ پھٹا ہوا ہے۔ وہ جنگل کی طرف گئے ہیں مگر وہ اپنے عقب میں اپنے نشان چھوڑتے گئے ہیں‘۔ اب پوری بات میری سمجھ میں آئی تھی۔ میں نے پھر بھی اس سے بے اختیار پوچھا کہ ماجرا کیا ہے۔ ’چلو چلیں‘ رافیل نے کہا اور سامان باندھنا شروع کر دیا۔ میں نے سلیپنگ بیگ سے باہر نکل کر کپڑے پہنے۔ رافیل نے خیمہ اکھاڑا اور تھوڑی دیر بعد ہم راستے میں چھوڑے ہوئے سونے کے بستر، کپڑوں اور کھانے کے سامان کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ میں نے رافیل سے پوچھا کہ کیا اس نے کمپنی کو اس بارے میں اطلاع دی۔ اس نے کہا نہیں کیوں کہ سیٹلائٹ فون جیک کے پاس تھا۔ ہم ایک گھنٹے تک خاموشی سے چلتے رہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی جنگل میں اس طرح چھوڑے ہوئے نشانوں کے سہارے کسی کو ڈھونڈنے کا تجربہ نہیں تھا اور وہ بھی برستی بارش میں۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں جیک کا چھوڑا ہوا سیٹلائٹ فون ملا مگر اس میں پانی بھرا ہوا تھا اور یہ بے کار ہو چکا تھا۔ یہ ایک درخت کے کنارے پانی کے چھوٹے سے تالاب میں پڑا ہوا تھا۔ جلد ہی ہمیں ان کی قیمضیں، پینٹیں اور جوتے بھی ملے۔ شام کی تین بج رہے تھے اور تابڑ توڑ بارش ہمارے سروں پر برس رہی تھی۔  ’ہم کان کنی کی تنصیبات سے کتنی دور ہیں‘ میں نے رافیل سے پوچھا۔ ’شاید چند گھنٹے دور‘ اس نے کہا۔ چناں چہ تین گھنٹوں بعد جب سورج مغرب کی گود میں جھک رہا تھا ہم دونوں ایک وسیع و عریض مگر متروک عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ عمارت نہایت ابتر حالت میں تھی اور کان کنی کی تنصیبات میں سے ایک تھی۔ رافیل نے اشارے سے بتایا کہ ایک کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس نے کہا کہ ہمیں اندر داخل ہو کر اپنا خیمہ نصب کرنا چاہیے۔ برستی بارش میں یہ رات گزارنے کی اچھی جگہ تھی۔ مجھے یہ زنگ خوردہ عمارت ایک آسیب کی طرح لگ رہی تھی مگر ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ سورج ڈوب رہا تھا اور بارش نے گویا آئندہ نہ برسنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ ہم کھڑکی کے راستے اندر داخل ہوئے، جہاں مکمل طور پر تاریکی تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشوں پر دھواں جما ہوا تھا اور ہر طرف زنگ خوردہ گلتی ہوئی مشینیں ہیولوں کی طرح محسوس ہو رہی تھیں۔ یہ سارا ساز و سامان کان کنی سے متعلق تھا۔ ہوا ساکت تھی اور عمارت کی چھت پر گرتی بارش کی آوازیں گولیوں کے دھماکوں کی طرح لگ رہی تھیں۔ ’وہ دونوں یہاں نہیں ہیں‘ رافیل نے کہا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے رافیل سے کہا ہمیں آج رات یہیں گزارنی ہو گی۔ ہم نے اپنے بھیگے ہوئے سلیپنگ بیگ بچھائے اور سونے کی کوشش کرنے لگے۔ شروع میں کچھ گھنٹوں تک میں بالکل نہیں سو سکا۔ میرے ذہن میں ماٹو اور جیک کی شکلیں گھوم رہی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا وہ کسی جگہ پھنسے ہمیں مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ مجھے لگا شاید وہ مر چکے ہیں اور بھیڑیے ان کے مردہ تنوں سے گوشت نوچ رہے ہیں۔ صبح تین بجے جب بارش رکی تو میری آنکھ لگ گئی۔ نیند میں ایک بار پھر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے فالین فیلڈ پہاڑ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہو۔ ایسا لگتا تھا جیسے میری محبوبہ ناز سے میرا ہاتھ تھامے مجھے کمرے کی طرف لے جا رہی ہو۔ انتہائی نرم کھنچائو مگر انتہائی شہوت انگیز بھی۔ ۔ ۔ مجھے لگا جیسے وہ پر اسرا آواز میرے کانوں میں پیار بھری سر گوشیاں کر رہی ہو۔ مگر اب اس آواز میں ماٹو، جیک اور رافیل کی آوازیں بھی شامل تھیں۔ ایسا لگتا تھا وہ تینوں مجھے بلا رہے ہوں۔ میری آنکھ صبح سوا چھ بجے کھلی۔ رافیل میرے ساتھ نہیں تھا۔ اس کے کپڑے گٹھری کی شکل میں زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ کمرے کی ایک کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور جب میں نے قریب جا کر دیکھا تو اس پر تازہ خون لگا ہوا تھا۔ میں جانتا تھا اب اس کام کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی تھی جو ہمارے سپرد کیا گیا تھا۔ مجھے اپنے ساتھیوں کو تلاش کرنا تھا۔ گو کہ مجھے ذرا بھی خبر نہیں تھی کہ ہوا کیا ہے مگر میں کسی بھی صورت میں اپنے ساتھیوں کو بے یارومدد گار نہیں چھوڑ سکتا تھا۔  مجھے سب سے پہلے یہاں سے صحیح سلامت نکلنا تھا۔ کمپنی کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ یہاں کسی صورت میں مزید لوگوں کو نہیں بھیجے۔ اور شاید اگر تقدیر کوئی معجزہ دکھا دے تو ہم چاروں صحیح سلامت اپنے اپنے گھروں کو لوٹ سکتے تھے۔ مگر فی الحال یہ بات ایک مذاق سے کم نہیں تھی۔ میں نے جو کچھ بچا تھا اٹھایا اور چل پڑا۔ اس تنصیب کے بالکل آ گے اس عظیم گڑھے کی ڈھلان شروع ہو رہی تھی جس کے وسط میں فالین فیلڈ کا پہاڑ سر اٹھائے صدیوں سے کھڑا تھا۔ ڈھلان بہت زیادہ ترچھی نہیں تھی مگر یہ کافی طویل تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ پہاڑ ایک قلعہ ہو اس کے چاروں طرف ایک نہایت گہری خندق کھدی ہوئی ہو۔ میری خوش قسمتی کہ گڑھے میں بہت زیادہ پانی نہیں تھا ورنہ یہ ایک بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لیتا۔ یقیناً کہیں نہ کہیں پانی کے اخراج کا کوئی نہ کوئی قدرتی راستہ ضرور ہو گا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دوران وہ آواز سنائی نہیں دی تھی اور جہاں تک سر گوشیوں کو تعلق ہے تو ظاہر ہے وہ محض ایک خواب ہی تھا۔ مجھے فالین فیلڈ بیسن کی زمین تک پہنچنے میں تین گھنٹے لگے۔ مجھے بار بار پانی کی وجہ سے اپنا راستہ بدلنا پڑ رہا تھا اور گیلی مٹی الگ قدموں کو پکڑ رہی تھی۔ چند بار میں نے زمین پر چھوٹے چھوٹے گڑھے دیکھے جو ممکنہ طور پر میرے ساتھیوں کے قدموں کے نشانات تھے۔ مگر ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیوں کہ وہ کسی بھی سمت کی جانب اشارہ نہیں کرے رہے تھے۔ مگر مجھے پتہ تھا کہ اگر وہ تینوں زندہ ہیں تو انہوں نے ہر صورت میں اس پہاڑ ہی کا رخ کیا ہو گا۔ مجھے اس کیفیت کا پتہ تھا جب کوئی نا دیدہ ہاتھ مجھے اس پہاڑ کی جانب دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا مگر مجھے لگا کہ ان تینوں کو اس نا دیدہ ہاتھ نے نرمی سے نہیں بلکہ بہت بے رحمی سے اپنی طرح گھسیٹا تھا۔ صبح دس بجے کے قریب میں اس پہاڑ کے پاس پہنچ گیا۔ اس پہاڑ پر درخت جھنڈ کی شکل میں اگے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا چلو کچھ دیر کے لیے چٹانی پتھروں سے تو نجات ملی۔ پہاڑ کی ڈھلان پر چڑھنا زیادہ دشوار ثابت نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہوتا تو میرے خالی ہاتھ ساتھی اس پر کبھی نہیں چڑھ سکتے تھے۔ مگر یہ میرے فہم سے بالا تھی کہ انہیں آخر کیسا کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اور اس بات نے مجھے شدید دہشت زدہ کر دیا تھا۔ مجھے اس درختوں بھری ڈھلان پر چڑھنے میں دو گھنٹے لگے۔ میں نے چڑھائی میں مدد کے لیے اپنی اس مقصد کے لیے بنائی گئی کلہاڑی استعمال کرنا شروع کر دی۔ میں نے سوچا وہ تینوں اس پر کیسے چڑھے ہوں گے۔ ان کے پاس یہ کلہاڑیاں نہیں تھیں۔ آدھے گھنٹے بعد میری نظر خون کی ایک سرخ لکیر پر پڑی۔ میں نے قریب ہو کر دیکھا۔ چٹان کی دراڑ سے ایک کٹی ہوئی انگلی باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ مجھے شدید متلی محسوس ہوئی اور میں چکرا کر گرنے ہی والا تھا۔ میں نے چند گہری گہری سانسیں لیں اور اپنی ہمت کو آواز دیتے ہوئے انگلی کو باہر کھینچ لیا۔ یہ زیادہ پرانی نہیں تھی اور یہ بلا شبہ ایک انسانی انگلی ہی تھی۔ خون کی یہ دھار پہاڑ کے اوپر سے آ رہی تھی۔ انگلی میرے ہاتھ سے گر پڑی۔ یک لخت آسمان اس پر اسرا آواز کی شدت سے پھٹ پڑا اور چٹانیں لرزنے لگیں۔ میں گھبرا کر ایک درخت سے لپٹ گیا مگر آواز کچھ سیکنڈ بعد ختم ہو گئی۔ میں بس وہاں سے واپس بھاگنا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ان تینوں کو بھول جائوں۔ ظاہر ہے وہ مجھے چھوڑ کر گئے تھے میں نہیں۔ میرے ذہن میں یہ آوازیں گونج رہی تھیں مگر میں چڑھتا چلا گیا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی مقناطیس مجھے اپنی طرف کشاں کشاں کھینچ لیے جا رہا ہو۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ دوسرے لوگ یہاں کس طرح کھنچے چلے آئے ہوں گے۔ میں اوپر ہی اوپر چڑھتا چلا گیا۔ ۔ ۔ میرا جسم سورج کی گرمی سے بھن رہا تھا۔ مگر گرمی اس شدت کی تھی جو اس جگہ فطری طور پر نہیں ہونی چاہیے تھی۔ میں نے ایک ایک کر کے اپنے کپڑے اتار کر پھینکنے شروع کر دیے حتیٰ کہ میں صرف ایک زیر جامے میں ملبوس رہ گیا۔ ہو سکتا ہے یہ میری نظروں کا دھوکا ہو مگر میں قسم کھا سکتا ہوں کہ اس پہاڑ کی دراڑوں اور سوراخوں سے بھاپ نکل رہی تھی۔ بالآخر گرتا پڑتا میں اس پہاڑ کی چوٹی کے پاس پہنچ ہی گیا۔ اس پہاڑ کی بلندی چار ہزار فٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ نیچے مڑ کر گہرائی میں دیکھنے سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس کی چوٹی قریب ہی تھی۔ مجھے سے تھوڑے فاصلے پر پہاڑ میں ایک دہانہ کھلا ہوا تھا۔ میں نے کچھ دیر اپنی سانسوں کو بحال کیا اور پھر اس غار کے اندر داخل ہو گیا۔ مجھے اس کی گہرائی کا کچھ اندازہ نہیں تھا مگر یہ زمین سے چھت تک پانچ فٹ بلند تھی۔ اندر جا کر مجھے پتہ چلا کہ یہ غار کچھ زیاہ طویل نہیں تھی اور تقریباً سو گز پیچھے ایک چٹانی دیوار کھڑی تھی۔ میں اٹھا اور قدم آگے بڑھائے۔ میں اگر چہ کچھ بھی نہیں پہنے ہوا تھا مگر ایسا لگتا تھا جیسے میری کھال جل رہی ہو۔ اس پر اسرار آواز سے ایک بار پھر پہاڑ لرز اٹھا۔ اس بار میں نے بھاپ کی بو تک کو محسوس کیا جو دراڑوں سے نکل رہی تھی۔ میں نے دیکھا ان دراڑوں میں چیزیں ٹھنسی ہوئی تھیں۔ زیادہ تر مردہ جانور۔ ۔ ۔ پرندے، گلہریاں اور چھوٹے بندر۔ ۔ ۔ یہ سب گل سڑ رہے تھے۔ میرے ذہن نے مجھے بار بار وہاں سے بھاگنے کا پیغام دیا مگر میرے جسم نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ غار کے پچھلے حصے میں میری نظر تین ہیولوں پر پڑی۔ میں ان کی جانب بڑھا۔ کچھ لمحوں بعد میں رافیل، جیک اور ماٹو کی لاشوں کے سامنے کھڑا تھا۔ ان کی انگلیاں خون میں لتھڑی ہوئی تھیں جب کہ ان کے پیروں کی انگلیاں مکمل طور پر ختم ہو چکی تھیں۔ ۔ ۔ ظاہر ہی کھردرے پہاڑ پر بغیر کسی سہارے کے چڑھنا کوئی آسان نہیں تھا۔ مگر جس چیز نے مجھے شدید دہشت زدہ کر دیا وہ ان کے مسوڑھوں میں غیر موجود دانت تھے۔ اس بار میں نے الٹی کر ہی دی۔ وہ آواز پھر سنائی دی مگر اس بار یہ زیادہ گہری اور گونج دار محسوس ہو رہی تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے تینوں ساتھیوں کے نیچے زمین پھٹی اور وہ دو فٹ تک نیچے دھنس گئے۔ نیچے سے بھاپ خارج ہوئی اور غار میں جلے ہوئے گوشت کی بو بھیل گئی۔ میں پلٹ کر بھاگا اور اپنی داہنی طرف غار کی دیوار کو پکڑ لیا۔ یہ صرف ایک لمحے ہی کی بات ہو گی مگر مجھے لگا جیسے دیوار میرے ہاتھ کی نیچے زندہ ہو کر حرکت کر رہی ہو۔ میں حیرت زدہ ہو کر گھوما۔ جو چیز بھی مجے اب تک کھینچتی رہی تھی اب اس نے مجھے آزاد کر دیا تھا اور میں جس طرف چاہتا حرکت کر سکتا تھا۔ شاید وہ طاقت مجھے اسی جگہ تک لانا چاہ رہی تھی اور اب اس کا کام ختم ہو گیا تھا۔ میں نے خوف سے اس جگہ نظر ڈالی جو چٹان میں حرکت کر رہا تھا۔  آٹھ چمک دار بیضوی سوراخ چٹانی دیوار میں ترتیب سے کھلے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ان میں سے ہر ایک دو فٹ بلند اور ایک فٹ چوڑا تھا۔ ۔ ۔ ان میں اور کوئی خاصیت نہیں تھی۔ میرے ساتھیوں کی لاشوں سے اٹھنے والی بھاپ اب گاڑھی ہو گئی تھی اور میرا دم گھٹنے لگا تھا۔ تاریکی میں یہ دیکھنا مشکل تھا کہ دیوار پر میرے ہاتھ کے نیچے کیا ہوا تھا۔ میں جب ان بیضوی سوراخوں میں سے ایک کے قریب جھکا اور میرا چہرہ ان سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھا کہ یکایک اس میں حرکت ہوئی۔ سیاہ تاریک پردہ دونوں اطراف میں اندر کو سمٹ گیا۔ ہماری آنکھ کے پپوٹوں کی طرح کیوں کہ جو چیز میری آنکھوں کے سامنے تھی وہ ایک عظیم آنکھ تھی جو مجھے تک رہی تھی۔ ۔ ۔ میں نے ترچھی نظر سے دیکھا کہ باقی سات آنکھیں بھی اسی طرح کھل چکی تھیں۔ میں بری طرح چیخا اور اپنی کلہاڑی ایک آنکھ میں پیوست کر دی۔ آنکھ سے گاڑھا گاڑھا زرد مواد نکل کر فرش پر بہنے لگا۔ ہر طرف سے وہ پر اسرار آواز ایک چیخ کی طرح گونجی اور اس نے پورے پہاڑ کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے زمین پھٹی جا رہی ہو۔ میں نے غار کے دہانے کی جانب زقند بھری۔ تمام دیواروں پر مزید آنکھیں یکے بعد دیگرے کھل رہی تھیں۔ وہ آنکھیں میری حرکات کا پیچھا کر رہی تھیں۔ میں نے دوڑتے ہوئے چند اور آنکھوں میں اپنی کلہاڑی کو پیوست کیا۔ میری پوری کوشش تھی کہ میں کہیں گر نا پڑوں کیوں کہ پورا پہاڑ بری طرح لرز رہا تھا۔ میں نے گھبراہٹ میں پیچھے مڑ کر دیکھا۔ غار کا پورا پچھلا حصہ زمین میں دھنس چکا تھا جہاں سے آنکھوں کا پچاس فٹ اونچا اور تیس فٹ چوڑا ایک جھنڈ طلوع ہو رہا تھا۔ وہ آنکھیں مجھے بری طرح گھور رہی تھیں۔ میرے اطراف میں غار کے مزید چٹانی پتھر بھی تبدیل ہونے لگے  مگر اس بار وہ صرف آنکھوں میں نہیں بدل رہے تھے بلکہ اب یہ عظیم الجثہ ہاتھ بھی بن رہے تھے۔ ۔ ۔ یہ بات میری عقل سے ماورا تھی کہ اپنی عظیم جسامت ک با وجود وہ اتنی تیزی سے کس طرح ہر طرف تھرک رہے تھے۔ مگر اس وقت عقل پر خوف غالب تھا۔ یہ ایک غیر ارضی اور غیر انسانی خوف تھا۔ میں غار کے دہانے پر پہنچا اور میرا خیال تھا کہ میں یہاں سے نیچے اتر جائوں گا مگر باہر پہاڑ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا۔ یہ زمین میں دھنس رہا تھا۔ مگر میں اب بھی دوڑ کر نیچے اتر سکتا تھا۔ میں نے نیچے دوڑتے وقت اپنے تصور میں دیکھا کہ نا ممکن عفریت میرا پیچھا کر رہے ہیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی انتہائی عظیم عفریت دہاڑیں مارتا ہوا زمین سے باہر نکلنے کے لیے بے چین ہو۔ میرا خوف مجھے ان چیزوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہا تھا جن کا وجود اس دنیا میں ممکن نہیں۔ پہاڑ عجیب طرح دہاڑ رہا تھا اور اس دہاڑ میں نا قابل فہم الفاظ، جملے اور منتر پنہاں تھے اور مجھے اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ میرے دوڑتے ہوئے قدم بھربھری زمین میں دھنس رہے تھے اور پیچھے پہاڑ سے عجیب طرح کی سرسراہٹیں سنائی دے رہی تھیں۔  میں پہاڑ کی اس طرف پہنچا جہاں پیڑوں کے جھنڈ اگے ہوئے تھے۔ میں نے ایک قلابازی سی کھائی اور ایک دھماکے سے نیچے زمین پر آ گرا۔ خوش قسمتی سے وہاں موجود چھوٹے پودوں کے جھنڈ نے مجھے کوئی چوٹ نہیں آنے دی اور میں زمین سے ٹکرا کر مرنے سے بچ گیا۔ میری آنکھوں نے سوائے چکر کھاتے آسمان کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا مگر وہ پر اسرار آواز بدستور میرے کانوں کے پردے پھاڑے ڈال رہی تھی۔ اس کے بعد میرے ذہن پر تاریکی چھا گئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو میرا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا اور پہاڑوں پر شام جھک رہی تھی۔ میں نے گیلی مٹی میں اٹھنے کی کوشش کی اور آہستہ آہستہ گزرے ہوئے واقعات مجھے یاد آنے لگے۔ گیلی زمین میں کسی کیڑے کی طرح مچلتے ہوئے میرے ہاتھ کسی پیڑ کی جڑ پر پڑے اور میں اس کے سہارے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ صرف میری سیدھی ٹانگ پوری طرح صحیح سلامت تھی۔ میں ایک پیڑ کی ٹہنی پکڑ کر اس کے سہارے کھڑا ہوا اور جو میری آنکھوں نے دیکھا اس پر میرا ذہن یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ فالن فیلڈ پہاڑ مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا۔ اس کی جگہ ایک بہت بڑا سوراخ تھا۔ بیسن میں موجود پانی اس عظیم ترین گڑھے میں گر رہا تھا۔ اس گڑھے کی گہرائی نا قابل شمار تھی اور وہاں درخت یا چٹانوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔  مجھے نہیں معلوم کہ میں کس طرح اور کتنے وقت میں نزدیکی قصبے تک پہنچنے میں کام یاب ہوا۔ مجھے جو کچھ یاد ہے وہ صرف ایک مسلسل درد کے احساس اور غنودگی کے سوا اور کچھ نہیں۔ میں قصبے کے باہر ایک سڑک پر بے ہوش حالت میں پایا گیا تھا اور میری آنکھ جب اسپتال میں کھلی تو مجھے پتہ چلا کہ اس بات کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ میں ایک ہفتے بعد کام پر لوٹٓا۔ میرا خیال تھا کہ وہاں مجھے اس بارے میں مکمل معلومات مل جائیں گی کیوں اب تک لوگ ایک پورے پہاڑ کے یک لخت غائب ہونے کی نا قابل یقین خبر سے آگاہ ہو چکے ہوں گے۔ مگر میری کمپنی نے اس نا قابل فہم واقعے پر بہترین طریقے سے پردہ ڈال دیا تھا۔ انہوں نے مجھے اچھی طرح اخفائے راز کی ہدایات (ڈی بریفنگ) دیں اور پھر مجھے ہیڈ کوارٹر ٹرانفسر کر دیا۔   عوام کو صرف اتنا بتایا گیا کہ تجرباتی فریکنگ کے نتیجے میں آنے والے زلزلے سے فالن فیلڈ پہاڑ کو ’کچھ‘ نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف میڈیا کی چاندی ہو گئی جس نے حسب معمول غیر ضروری طور پر اس ’حادثے‘ کو بہترین موقع گردانتے ہوئے رکازی ایندھن تلاش کرنے والی کمپنی کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور لوگوں کو جو کچھ دکھایا گیا وہ انہوں نے خوشی سے ہضم بھی کر لیا۔ اگر چہ کمپنی کو بھاری مالی نقصان ہوا مگر میرے علاوہ کمپنی کے چند اعلیٰ افسران ہی اس ’حادثے‘ کی حقیقت سے با خبر تھے۔  ایک سال بعد جب حالات معمول پر آ گئے تو میں نے اپنے افسران کو آمادہ کیا کہ وہ مجھے اس بارے میں تحقیق کرنے دیں۔ مگر مجھے کچھ زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں پڑی کیوں کہ کمپنی بھی اس حقیقت کا راز جاننے کے لیے بری طرح بے چین تھی۔ مگر انہوں نے مجھے سختی سے ہدایت کی اب ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں تحقیقی ماہرین کے ساتھ گیا اور اس پہاڑ کے سروے کے پرانے ریکارڈ نکالے۔ کسی بھی سروے کے مطابق اس پہاڑ کے نیچے یا اس کے اندر کوئی بھی نامیاتی شے موجود نہیں تھی – کوئی بھی ایسی زندہ چیز نہیں جس سے اس پر اسرار واقعے پر کوئی روشنی پڑتی۔ مہینوں گزر گئے مگر کچھ بھی سامنے نہیں آ سکا۔ تجزیوں کے مطابق فالن فیلڈ پہاڑ اور اطراف کے دیگر پہاڑوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ مگر جب ایک سینئر ماہر انگرڈ کو جس کے پاس کان کن کمپنیوں کے ساتھ کرنے کا عمر بھر تجربہ تھا اچانک یاد آیا کہ ایک بار ان کمپنیوں نے فالن فیلڈ کے دامن میں موجود بیسن کا بھی معدنیاتی تجزیہ کیا تھا تو جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بیسن میں پائے گئے چٹانی پتھر جس مادے سے بنے تھے وہ دیگر پتھروں سے بالکل مختلف تھا۔ ان پتھروں میں لوہا کثرت سے تھا اور اس میں اس مادے کے آثار بھی موجود تھے جسے انگرڈ نے ’زغالی سنگِ شہابِ ثاقب‘ کا نام دیا جس کا مطلب ہے آسمان سے گرنے والا وہ پتھر جس میں کاربن کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے۔ جب اس نے یہ بات بتائی تو میں نے دیکھا کہ دیگر محققین کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ مگر اس کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اس لیے میں نے وضاحت چاہی۔ انگرڈ نے دھیمی مگر پر تفکر آواز میں کہا اس سے مراد ہے یہاں ہزاروں سال پہلے خلا سے کوئی بہت بڑا پتھر گرا تھا۔ ۔ ۔  مجھے پوری بات سمجھنے میں صرف ایک منٹ لگا۔ ہم آج تک اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے رہے تھے کہ آخر فالن فیلڈ پہاڑ ایک عظیم گڑھے کے وسط میں کیوں ہے۔ ۔ ۔ ؟ یہ بات ارضیاتی سائنس کے بالکل خلاف تھی مگر ہم نے اسے محض ایک ’انامولی‘ یا ’فی الوقت نا قابل فہم سائنسی بے قاعدگی‘ کا نام دے کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر اب ایک ہی لمحے میں زنجیر کی تمام کڑیاں مل گئی تھیں۔ فالن فیلڈ مائونٹین زمین سے باہر نہیں ابھرا تھا۔ ۔ ۔ فالن فیلڈ بیسن خلا سے عظیم الجثہ چٹان گرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا گڑھا یا کریٹر تھا۔ ۔ ۔ اور مائونٹین جو کچھ بھی تھا وہ اس دنیا کی چیز نہیں تھی ۔ ۔ ۔  

ختم شد