fake medicine and coronavirus

کورونا وباء، جعلی ادویات کا ’دھندا‘ عروج پر پہنچ گیا

کورونا وائرس جہاں ایک طرف پوری دنیا کے لیے مہلک ترین ثابت ہو رہا ہے وہاں ایسے حالات میں ایسے بدترین مفاد پرست مجرموں کی بھی کمی نہیں جو اس دوران جعلی ادویات کے مکروہ دھندے کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس سے منسلک جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔  عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان ادویات کے ’سنگین مضر اثرات‘ ہو سکتے ہیں۔  ایک ماہر نے ’غیر معیاری اور جعلی مصنوعات کی متوازی وبا‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بی بی سی نیوز کی ایک تفتیش میں افریقہ میں فروخت ہونے والی جعلی ادویات کے بارے میں پتا چلا ہے، جہاں جعل ساز مارکیٹ میں پیدا ہونے والے خلا کا استحصال کر رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا بھر میں لوگ بنیادی ادویات کا ذخیرہ کر رہے ہیں تاہم بڑی تعداد میں طبی سامان تیار کرنے والے دو ممالک چین اور بھارت میں لاک ڈاؤن اور ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے جعلی ادویات کی گردش خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔