Fifth Dimension Urdu Reddit

پانچویں جہت

مجھے اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں مگر اس دوران ہم دونوں چند بار ہی تہہ خانے میں گئے ہیں۔


مغربی ممالک کے گھروں میں تہہ خانہ لازمی ہوتا ہے جو بیسمنٹ کہلاتا ہے۔ یہاں رہائش بھی ہو سکتی ہے جب کہ اسے اسٹور کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے


یہ گھر وکٹورین طرز پر بنا ہوا ہے اور تہہ خانہ میں بہت زیادہ نمی اور سردی ہوتی ہے۔ جب ہم یہاں منتقل ہوئے تو ہم نے یہاں وائن کی بوتلیں اور کچھ دیگر سامان رکھ دیا، کیوں کہ میری بیوی بہت فخر سے اپنے ملنے جلنے والوں کو بتانا چاہتی تھی کہ ہمارے گھر میں ’وائن سیلر‘ یعنی شراب رکھنے کا تہہ خانہ بھی ہے۔ مگر جب بار بار سیلر میں سامان لینے کے لیے جانا ایک تھکا دینے والا کام ثابت ہوا تو ہم نے یہ سلسلہ موقوف کر دیا۔ چوں کہ گھر میں صرف ہم دونوں کے علاوہ کوئی اور نہیں اس لیے ہمیں سیلر کے استعمال کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ کچھ ہفتوں بعد ہم نے سوچا کے سیلر کو صاف ستھرا کر کے ایک چھوٹے سے جم (ورزش کی جگہ) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چناں ہفتہ وار چھٹیوں میں ہم دونوں نیچے گئے اور سیلر کی صفائی شروع کر دی۔ اس سیلر کا فرش پتھر کا ہے مگر دیواروں پر نہایت ہی مکروہ زرد رنگ کے وال پیپر چسپاں تھے جن پر پراسرر صورت پھول پتے بنے ہوئے تھے۔ وال پیپر مجھے کسی جہنم کی طرح قدیم محسوس ہوا اور میں نے اپنی بیوی سے خیال ظاہر کیا کہ اسے کئی عشروں قبل لگایا گیا ہو گا۔ ہم نے صفائی کا آغاز وال پیپر کو اتارنے سے کیا اور اگر ایسا نہیں کرتے تو ہمیں کبھی بھی اس خفیہ دروازے کا پتہ نہیں چلتا۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ وال پیپر میں چھپا ہوا ایک دیوار میں نصب تھا۔ یہ دروازہ مکمل طور پر سادہ لکڑی سے بنا ہوا تھا اور یہ بالکل ہم وار تھا کیوں اس میں کوئی ہینڈل نہیں تھا۔ حیرت سے ہمارا برا حال تھا اور ہم اس بات پر خیال آرائی کر رہے تھے کہ گزشتہ پانچ سالوں تک یہ ہماری نگاہوں سے کس طرح اوجھل رہا۔ میری بیوی نے رائے دے کہ یہ اتنی اچھی طرح وال پیپر میں چھپایا گیا تھا کہ ہم بے خیالی میں اسے کبھی نہیں دیکھ پائے۔ مگر اس کے ساتھ میں یہ سوچ کر ہوائوں میں اڑ رہا تھا کہ ہم نے ایک خفیہ دروازہ دریافت کیا ہے۔ اس لیے میں نے اس دروازے کے تمام عجیب و غریب پہلوئوں کو نظر انداز کر دیا۔ ہمارے محلے کے تمام گھروں میں تہہ خانے ہیں اس لیے میں نے سوچا یہ دروازہ شاید برابر والے گھر کے تہہ خانے میں کھلتا ہو گا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم کل اپنے پڑوسی کے ہاں جا کر اسے اس دروازے کے بارے میں بتائیں گے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم اسے اینٹوں سے چنوا دیں گے۔ ظاہر ہے یہ بات درست نہیں تھی کہ ہمارے گھر میں آمد کے لیے اس طرح کا کوئی دروازہ موجود رہے۔ اس دوران میری بیوی نے دروازے میں موجود ہینڈل کے چھوٹے سے سوراخ سے اندر جھانکنے کی کوشش کی مگر پیچھے سوائے گہری تاریکی کے اور کچھ نہیں تھا۔ ہم نے تجسس سے مجبور ہو کر موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی بھی اندر ڈال کر دیکھنے کی کوشش کی۔ پہلی نظر میری بیوی نے ڈالی اور اندر دیکھتے ہی وہ بالکل ساکت ہو گئی۔ اس نے دھیمی آوز میں کہا ’دروازہ پڑوسی کے گھر میں نہیں کھلتا‘ اور ساتھ ہی وہ پیچھے ہٹنے لگی۔ میں نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور پھر خود اندر جھانک کر دیکھا۔ دروازے کے عقب میں پڑوسی کے سیلر کے بجائے پتھر کا زینہ تھا جو نیچے اتر رہا تھا۔ میں فون کی مدہم روشنی میں زیادہ دور تک نہیں دیکھ سکا چناں چہ میں بڑی ٹارچ لے کر آیا اور دروازے کو کھولنے کی کوشش کی۔ ہم نے ٹارچ کی روشنی میں نیچے کی طرف دیکھا۔ زینہ زیادہ طویل نہیں تھا اور راہ داری کے اختتام پر ایک اور دروازہ تھا۔ مگر یہ دروازہ نہایت ہی قدیم لگتا تھا جس کی لکڑیاں دھات کی پٹیوں سے جوڑی گئی تھیں۔ اس میں زمانہ قدیم کا دھات سے بنا گول ہینڈل بھی لگا ہوا تھا۔ یہاں زینے اور دوسرے دروازے کی موجودگی نا قابل فہم تھی۔ اگر چہ یہ زینہ نیچے اتر رہا تھا مگر اس کے با وجود اس کا آغاز لازمی طور پر پڑوسی کے تہہ خانے سے ہی ہونا چاہیے تھا۔ ہم اپنے پڑوسی کے سیلر میں چند بار شراب نوشی کے لیے گئے تھے۔ اس نے اس سیلر کو کھیل کے کمرے کے طور پر سجایا ہوا تھا مگر ہمیں وہاں ایک بار بھی کسی زینے کی موجودگی کا شائبہ تک نہیں گزرا تھا۔ دیوار میں ایسا کوئی ابھار نہیں تھا۔ کیا یہ ممکن تھا کہ اس کا تہہ خانہ ہمارے تہہ خانے کے مقابلے میں چھوٹا ہو اور یہ پراسرار زینہ کسی دیوار کے پیچھے چھپا ہو؟ میری بیوی نے کہا کہ نیچے جانے سے پہلے ہمیں ایک بار اپنے پڑوسی سے بات کرنی چاہیے مگر میرا تجسس عقل پر غالب آ رہا تھا۔ چناں چہ میں نے ٹارچ پکڑی اور نیچے کا رخ کیا۔ میں نے دوسرے دروازے کے ہینڈل کو ہلایا مگر یہ تھوڑا سا اپنی جگہ پر جما ہوا تھا، مگر اس وقت میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی جب یہ دروازہ یک لخت کھل گیا۔ میں نے اندر ٹارچ کی روشنی ڈالی۔ کمرہ پتھر سے بنا ہوا تھا مگر یہ ہمارے تہہ خانے کے مقابلے میں تھوڑا چھوٹا لگ رہا تھا اور اس کمرے میں کوئی دوسرا دروازہ یہ کھڑکی وغیرہ نہیں تھی۔ میں نے ادھر ادھر ٹارچ کی روشنی ڈالی اور یک لخت خوف سے میرا دل بند ہو گیا۔ کمرے کی پچھلی دیوار کے ساتھ ایک آدمی کھڑا تھا۔ اس کا منہ دیوار کی طرف جب کہ پشت میری طرف تھی۔ وہ مکمل طور پر ساکت تھا اور اس نے سیاہ سوٹ اور ایک سیاہ کناروں والا ہیٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ آدمی اتنا ساکت کھڑا تھا کہ مجھے گمان گزرا کہیں یہ کوئی کپڑے لٹکانے والا مجسمہ تو نہیں مگر اس نے اچانک ایک پیر اٹھایا۔ میری پلکیں گویا چھپکنا بھول گئی تھیں اور میری ٹارچ کی روشنی اس آدمی پر پڑ رہی تھی۔ مگر یہ روشنی صرف اس کا جسم اجاگر کر پا رہی تھی اور باقی تمام کمرہ گہری تاریکی میں گم تھا۔ اس نے اپنا پیر اٹھا رہنے دیا اور پھر اسی حالت میں میری جانب آہستہ سے گھوما۔ اس کے جسم کی حرکات غیر فطری تھیں اور وہ اس طرح جھٹکے لے کر گھوم رہا تھا جیسے وہ چلنے کے عمل سے نا واقف ہو۔ وہ ایک لمحے کے لیے ایسے ہی کھڑا رہا۔ بالکل ساکت۔ اس کا اٹھا ہوا پیر ہوا ہی میں تھا کہ اس نے اچانک جھٹکوں کے ساتھ اپنا دوسرا پیر بھی اٹھا لیا۔ ۔ ۔ مگر اس بار جب وہ پیچھے ہٹا تو اس کا پیر زور سے زمین سے ٹکرایا۔ یہ آواز مجھے ہوش و حواس میں لے آئی اور میں تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگا۔ میرے بھاگتے ہی ایسا لگا جیسے میں نے کسی مشین کا بٹن آن کر دیا ہو کیوں کہ اس آدمی نے بھی پوری رفتار سے میرے عقب میں زقند بھری۔ مگر دوڑتے وقت اس کی پشت میری طرف تھی اور اس کی ٹانگیں غیر فطری انداز میں جھٹکے لے رہی تھیں۔ اس وقت یہ سب تحریر کرتے وقت ایک الگ کیفیت ہے مگر اس وقت میں اتنا دہشت زدہ تھا جس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ میں نے آج تک کسی انسان کو اس طرح چلتے نہیں دیکھا تھا۔ میں نے جبلی طور پر اسے ٹارچ کھینچ ماری۔ ممکن ہے اس وقت میں نے سوچا ہو کہ مجھے اس کس کر لات مارنی چاہیے مگر مجھے اب کچھ بھی یاد نہیں۔ میں تیزی سے اوپر چڑھا۔ اپنے عقب میں زور سے دروازہ بند کیا اور پھر تہہ خانے سے اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا بھاگا اور پھر باہر نکل کر اس کے دروازے کو بھی پوری طاقت سے بند کر دیا۔ میں دروازے کے عقب میں ٹہر گیا اور دونوں ہاتھ اس پر جما دیے۔ میں اپنی سانسیں قابو کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس معمے کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔ میں نے تہہ خانے میں اس پر اسرار دروازے کے کھلنے کی چرچراہٹ سنی اور پھر ایسا لگا جیسے کوئی گوشت کا بڑا سا لوتھڑا زمین پر گھسٹ رہا ہو اور اس کے ساتھ شاید پھنکاروں کی سر سراہیٹں بھی گونج رہی تھیں۔ مگر اب میری ہمت جواب دے گئی تھی۔ میں اپنی بیوی کو پکارتا گھر سے باہر بھاگا۔ وہ پڑوسی کے دروازے پر کھڑی اس سے باتیں کر رہی تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا سڑک کے دوسری طرف لے گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے پڑوسی سے بھی چیخ کر وہاں سے ہٹنے کے لیے کہا۔ میں نے انہیں بغیر کوئی وضاحت پیش کیے جب سے اپنا فون نکالا اور پولیس کو کال کی۔ ہم لوگ وہاں تاریکی میں کھڑے رہے۔ میرے پڑوسی نے سونے کا لبادہ پہنا ہوا تھا اور ہم گھر کی طرف تک رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے کھڑکی میں دیکھا کہ ہمارے کچن میں لائٹ سیور کی روشنی تھر تھرا رہی تھی۔ اور اس کے بعد وہاں مکمل تاریکی چھا گئی۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں نے اپنی بیوی کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ میری نظریں گھر کی کھڑکی پر جمی تھیں اور میں پولیس کی آمد کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔ پولیس کو گھر میں کچھ نہیں ملایا۔ نہ کوئی آدمی نہ کوئی عفریت۔ مگر تہہ خانے اور ہمارے گھر کا پچھلا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ پولیس نے پائیں باغ کا اچھی طرح جائزہ لیا مگر وہاں کسی کے قدموں کے نشانات تک نہیں ملے۔ پولیس بعد میں اپنے ساتھ اس کمرے کے معانے کے لیے ماہرین کے ساتھ آئی۔ ان ماہرین کا تعلق کس ادارے سے تھا ہمیں اس بارے میں آج تک کوئی خبر نہیں مگر بعد میں پڑوسی نے یقین سے کہا کہ یہ این ایس اے کے لوگ تھے۔ پڑوسی کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ وہ ایسے کسی کمرے کی موجودگی سے لا علم ہے اور اس نے تسلیم کیا کہ اس کمرے کی موجودگی طبعی طور پر نا ممکن ہے۔ ظاہر ہے اتنی بڑی جگہ دونوں گھروں کے تہہ خانوں کے بیچ کس طور سما سکتی تھی؟ پولیس نے اس بارے میں کوئی بھی وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔ چوں کہ میں اس پر اسرار کمرے میں کسی بھی صورت میں دوبارہ قدم رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے انہوں نے مجھے کمرے کی دیواروں کی تصاویر دکھائیں۔ کمرے کی دیواروں اور فرش پر نا قابل فہم اور قدیم علامات نقش تھیں اور پولیس کو وہاں سے ہزاروں سال پرانے جمے ہوئے خون کے آثار بھی ملے۔ پولیس نے ان علامات کو سمجھنے کے لیے مقامی یونی ورسٹی کے شعبہ تاریخ میں بھیجا مگر وہاں بھی کوئی ان کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکا۔ کچھ دنوں بعد وہ ماہرین بڑی بڑی سیاہ قیمتی گاڑیوں میں دوبارہ آئے اور انہوں نے مخصوص طریقے سے اس کمرے کے دروازے کو سیل کر دیا۔ مگر اس دن کے بعد سے ہم نے دوبارہ کبھی سیلر میں قدم نہیں رکھا۔ میرا خیال ہے اس دن میں نے اس پراسرار کمرے میں داخل ہو کر اور اس کا دروازہ کھول کر کوئی بہت سنگین غلطی کی ہے۔ میرا خیال ہے ہم نے وہاں قید کسی چیز کو دنیا میں آزاد کر دیا ہے، جسے ہزاروں سال پہلے کسی نے کسی وجہ سے وہاں بند کیا تھا۔

 

ختم شد