Friendly Monster

عفریت کون

میں اپنے کمرے میں تنہا لیٹی سونے کی کوشش کر رہی تھی کہ میرے کانوں میں بیڈ کے نیچے سے ایک گہری، مگر کھڑکھڑاتی ہوئی آواز آئی۔

’ہائے‘ اس آواز نے کہا۔

میں نے اس بات کو اپنا وہم قرار دیتے ہوئے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی۔

’ہائے لڑکی‘ اس آواز نے دوبارہ پکارا۔

میں نے اپنے گھنٹے سینے سے ملا لیے اور کمبل کے اندر گھس گئی۔ میں اس آواز کو نظر انداز کرنا چاہ رہی تھی۔

کمرے میں لٹکے پردے کھڑکی سے اندر آنے والی سرد ہوا سے سر سرا رہے تھے۔

’تم کون ہو؟ میں نے پوچھا۔

’میں تمہارے بیڈ کے نیچے چھپا ایک عفریت ہوں‘ اس نے جواب دیا۔

’کیا تم سچ مچ کے عفریت ہو؟ میں نے حیرانی سے سوال کیا۔

’تمہارا مطلب کیا ہے لڑکی؟ میں واقعی ایک عفریت ہوں‘ اس نے جھلاتے ہوئے جواب دیا۔

’کیا تمہارا کوئی نام ہے؟ میں نے کہا۔

’ہاں بالکل میرا نام ہے۔‘

’اوہ ۔ ۔ ۔ خیر یہ نام ہے کیا؟

’فرانک۔‘

’فرانک ۔ ۔ ۔ ؟

’کیا تمہیں اس نام سے کوئی پریشانی ہے؟ عفریت نے پوچھا۔

’نہیں نہیں بات یہ نہیں۔ دراصل میرے خیال میں عفریتوں کے نام اس طرح نہیں ہوتے۔ یہ انسانوں جیسا نام ہے۔‘ میں نے کہا۔

’بات یہ ہے لڑکی کہ میرے ماں باپ نہیں چاہتے تھے میں بڑا ہو کر ایک عفریت بنوں۔‘

’ارے واہ ۔ ۔ ۔ تو وہ تمہیں کیا بنانا چاہتے تھے؟

’دانتوں کا ڈاکٹر یعنی ڈینٹسٹ ۔ ۔ ۔‘

’بات تو ایک ہی ہے۔ ۔ ۔‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔

’یہ تو بڑی عجیب سی بات ہے۔‘ میں نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

’تمہارے ماں باپ تمہیں کیا بنانا چاہتے ہیں؟ فرانک نے پوچھا۔

’مجھے نہیں معلوم، لیکن فرانک ایک بات بتائو؟

’ہاں پوچھو۔‘

’کیا تم مجھے ڈرائو گے یا کوئی نقصان پہنچائو گے؟

’کیوں؟ بھلا میں ایسا کیوں کروں گا؟

’کیوں کہ تم ایک عفریت ہو اور عفریت عام طور پر یہ ہی کام کرتے ہیں۔‘

’ہاں میں ایک عفریت ضرور ہوں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں چھوٹے بچوں کو ڈراتا پھروں۔‘

’مگر میرے خیال میں ایک عفریت انسانوں کو ڈرانے کے لیے ہی بنا ہے۔‘

’ہاں میں انسانوں کو ڈراتا ہوں، مگر صرف برے انسانوں کو۔‘

’کیا میں ایک بری لڑکی ہوں؟ میں نے پوچھا۔

’نہیں نہیں اور میں یہاں تمہیں نہیں کسی اور کو ڈرانے آیا ہوں۔‘

’تو پھر کسے؟ میں نے نہایت حیرت سے سوال کیا۔

’اس آدمی کو جو تمہارے کپڑے ٹانگنے والے کمرے میں چھپا ہوا ہے۔‘
کلوزیٹ
میرے جسم کا بال بال خوف سے کھڑا ہو گیا۔ میں فرانک سے اس بات کا مطلب پوچھنا چاہتی تھی، مگر جب میں نے کلوزیٹ سے آتی سرسراہٹ سنی تو یک لخت خاموش ہو گئی۔ کلوزیٹ کا دروازہ درز بھر کھلا اور میرے کانوں نے قدموں کی نرم آہٹ سنی جو کمرے میں چلتی ہوئی میرے بیڈ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ خوف کے مارے میں نے کمبل سے اپنا منہ نہیں نکالا۔ قدموں کی آہٹ رک گئی؍ مگر اب مجھے کسی کی بھاری سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں کو سختی سے بھینچ لیا۔

یک لخت کسے نے مجھ پر پڑا کمبل کھینچ کر پھینک دیا۔

میں نے گھٹنے موڑ کر اپنے آپ میں چھپنے کی کوشش کی۔ اچانک ایک فلک شگاف چیخ نے رات کی خاموشی کا سینہ چاک کر دیا؛ جس کے فوراً بعد شیشہ ٹوٹنے کا چھناکا ہوا۔ میں نے درز بھر آنکھیں کھولی اور میری نظر بیڈ کے برابر میں قالین پر پڑے چاقو پر پڑی جس کا پھل چاندنی میں دمک رہا تھا۔

ممی، پاپا دوڑتے ہوئے میرے کمرے میں داخل ہوئے اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے، مگر میں صرف اتنا ہی کہہ سکی کہ کوئی آدمی میری کلوزیٹ میں چھپا ہوا تھا، جو کھڑکی سے کود کر بھاگ گیا ہے۔

پاپا نے فوراً 911 ملایا اور چند منٹوں میں پولیس آ گئی۔ اس آدمی کا نام گیری تھامسن تھا، جسے پولیس نے گلیوں میں دوڑتے ہوئے پکڑ لیا۔ اس کے تمام جسم سے خون بہہ رہا تھا اور جا بجا شیشے کے تیز دھار ٹکڑے اس کے بدن میں پیوست تھے۔ گیری کی کار ہمارے گھر کے قریب سے پائی گئی؛ جس کے اندر چپکانے والا ٹیپ، متعدد چاقو، بے ہوش کرنے والی ممنوعہ ادویات اور ایک ویڈیو کیمرا رکھا تھا۔

مجھے بعد میں پتہ چلا کہ گیری کے وکیل نے اسے ذہنی بیمار قرار دیا، جس پر عدالت نے گیری کو خطرناک ترین پاگل ٹہراتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے سرکاری پاگل خانے میں ڈالنے کا فیصلہ سنایا۔

میری فرانک سے دوبارہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی، مگر جس پولیس افسر نے گیری کو گرفتار کیا تھا اس نے میرے پاپا کو بتایا کہ گیری پاگل خانے میں ہمیشہ ٹھنڈی زمین پر سوتا ہے۔

سرد فرش پر سونے کے جواب میں گیری ہمیشہ ڈاکٹروں سے کہتا ہے کہ وہ اپنے بیڈ کے نیچے چھپے عفریت سے شدید خوف زدہ ہے۔

گیری کے مطابق اس عفریت کا نام فرانک ہے – – –

ختم شد