Galileo Galilei | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | گیارھواں باب | گلیلیو گلیلی | نئی قسط

گلیلیو گلیلی اٹلی کا وہ عظیم سائنس دان تھا جس کا کردار کسی بھی دیگر فرد کی نسبت سائنسی طرزِ عمل کی ترقی میں غالباً سب سے زیادہ ہے۔ گلیلیو اٹلی کی شہر پیسا میں 1564ء میں پیدا ہوا۔ اس نے جوانی میں پیسا یونی ورسٹی میں داخلہ لیا مگر جلد ہی معاشی مشکلات کے باعث اسے یونی ورسٹی چھوڑنی پڑی۔ تاہم 1589ء میں اسے اُس ہی یونی ورسٹی میں بطور مدرس ملازمت مل گئی۔ کچھ عرصے بعد اس نے پاڈوا یونی ورسٹی میں ملازمت حاصل کی اور 1610ء تک یہاں پڑھاتا رہا اور یہ ہی وہ عرصہ تھا جب اس نے بڑی تعداد میں سائنسی دریافتیں کیں۔ گلیلیو کا سائنس میں سب سے زیادہ کردار میکانیات کے میدان میں ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ بھاری اجسام زمین پر ہلکے اجسام کی نسبت زیادہ تیزی سے گرتے ہیں اور صدیوں تک اسکالرز نے بناء کوئی سوال اٹھائے ارسطو کے اس دعوے پر سر تسلیمِ خم کیے رکھا۔ تاہم گلیلیو نے اس دعوے کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور متعدد تجربوں کے بعد اسے جلد ہی علم ہو گیا کہ ارسطو مکمل غلطی پر تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اجسام خواہ وزنی ہو یا ہلکے زمین پر ایک ہی رفتار سے گرتے ہیں اگرچہ ان کی رفتار پر ہوا کی رگڑ بالضرور اثرانداز ہوتی ہے۔ تاہم یہ قصہ معتبر نہیں کہ گلیلیو نے پیسا کے مینار سے ہلکے اور بھاری اجسام گرا کر یہ تجربات کیے تھے۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد گلیلیو نے اگلا قدم اٹھایا۔ اس نے وقت کے ایک مخصوص عرصے میں اجسام گرا کر طے کردہ فاصلے کا گہرائی سے تعین کیا جس سے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ فاصلہ جو ایک زمین پر گرتا ہوا جسم طے کرتا ہے وہ اس کل عرصے کے سیکنڈوں کے مربعے کے متناسب ہو گا۔ یہ دریافت جس سے اسراع کی یکساں شرح حاصل ہوئی انتہائی اہم ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ تھا کہ گلیلیو نے ان تجربات کے سلسلے کو اختصار کے ساتھ ایک ریاضیاتی کلیے میں سمو دیا تھا۔ ریاضیاتی کلیوں اور طریقوں کا بھرپور استعمال ہی جدید سائنس کا ایک اہم ترین پہلو ہے۔ گلیلیو کی ایک اور اہم ترین دریافت قانونِ جمود ہے۔ قبل ازیں لوگوں کا ماننا تھا کہ ایک حرکت کرتا ہوا جسم بالآخر سست رفتار ہو کر خود ہی ٹہر جائے گا الّا یہ کہ اس کی حرکت پذیری کے لیے مسلسل توانائی فراہم کی جاتی رہے۔ مگر گلیلیو کے تجربات سے عندیہ ملا کہ یہ عمومی خیال غلط تھا۔ اگر متحرک جسم پر عمل پذیر مخالف قوت مثلاً رگڑ کا خاتمہ کر دیا جائے تو وہ ہمیشہ حرکت کرتا رہے گا۔ یہ علم طبیعات کا وہ اہم ترین اصول ہے جس کا نیوٹن نے اعادہ کیا اور اسے اپنے حرکت کے پہلے قانون میں شامل کیا۔ گلیلیو کی اہم ترین دریافتیں علمِ فلکیات سے متعلق ہیں۔ 16ویں صدی کے اوائل میں فلکیاتی نظریے پر شدومد سے تحقیق کی جارہی تھی اور کوپرنیکس کے – جس کا ماننا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے – پیروکاروں اور اس قدیم نظریے پر یقین رکھنے والوں کے درمیان نزاعی بحثیں چھڑی ہوئی تھیں کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے یا نہیں۔ 1604ء میں گلیلیو نے کوپرنیکس کے نظریے کو درست قرار دیا اگرچہ اس وقت اس کے پاس اس نظریے کو درست ثابت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ تاہم 1609ء میں گلیلیو کو ہالینڈ میں دوربین کی ایجاد کی خبر ملی۔ اگر چہ اسے ایجاد کے بارے میں صرف سرسری معلومات تھیں مگر وہ اتنا ذہین تھا کہ اس نے جلد ہی اس دوربین سے بھی نہایت طاقت ور اور بلند درجے کی دوربین خود تیار کر لی۔ اس نے اس نئی ایجاد کے ذریعے فلکی مشاہدات کو فی الواقعہ آسمان تک پہنچا دیا اور محض ایک سال کے اندر اہم ترین دریافتیں کر ڈالیں۔ اس نے چاند کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ یہ ایک ہم وار کرہ نہیں بلکہ اس پر بے شمار آتش فشاں، دہانے اور پہاڑ موجود ہیں۔ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ فلکی اجسام قطعی طور پر ہم وار اور مکمل نہیں بلکہ ان پر بھی زمین ہی کی طرح ناہمواریاں ہیں۔ اس نے کہکشاں کا مشاہدہ کرنے کے بعد دیکھا کہ یہ دودھیا ہے اور نہ ہی کوئی دھندلا وجود بلکہ یہ کروڑوں انفرادی ستاروں پر مشتمل ایک جھرمٹ ہے اور ہم سے اتنے عظیم فاصلے پر واقع ہے کہ محض آنکھ سے دیکھنے پر دھندلا سا نظر آتا ہے۔ اس نے سیّاروں کا بھی مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ عطارد کے گرد چار چاند گردش کرتے ہیں۔ یہ ایک کھلا ثبوت تھا کہ کوئی فلکی جسم زمین کے علاوہ بھی کسی دیگر سیارے کے گرد گردش کر سکتا ہے۔ اس نے سورج کا مشاہدہ کیا اور شمسی دھبّے دریافت کیے۔ اگرچہ گلیلیو سے پہلے بھی لوگ شمسی دھبّوں کو دیکھ چکے تھے مگر گلیلیو نے اپنے مشاہدات نہایت پراثر انداز میں شائع کرائے اور اس جانب سائنسی دنیا کی توجہ مبذول کی۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ سیّارہ وینس بڑی حد تک چاند کی گردش سے مشابہ مدارج سے گزرتا ہے۔ یہ مشاہدہ کوپرنیکس کے نظریے کے ثبوت میں بہت اہم تھا جس کے مطابق زمین اور دیگر سیّارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ دوربین کی ایجاد اور اس کے ذریعے ہونے والی سائنسی دریافتوں نے گلیلیو کو شہرتِ دوام عطا کر دی۔ تاہم کوپر نیکس کے نظریے کی حمایت کرنے پر اس نے چرچ کے اہم حلقوں کی مخالفت بھی مول لے لی اور؍ 1616ء میں اسے حکم ملا کہ وہ کوپرنیکس کے نظریات پڑھانے سے باز آجائے۔ گلیلیو نے کئی برسوں تک طوعاً کرہاً اس حکم کو برداشت کیا۔ 1623ء میں پوپ کے مرنے کے بعد اس کا جانشین گلیلیو کے ماننے والوں میں شامل تھا۔ چناچہ اگلے سال پوپ اربن ہشتم نے قدرے مدہم انداز میں گلیلیو کو اس بندش کے خاتمے کا عندیہ دیا۔ گلیلیو نے اگلے چھ سال اپنی معروف ترین کتاب ’دو بنیادی نظام ہائے عالم سے متعلق مکالمہ‘ کی تکمیل میں صرف کیے۔ یہ کتاب انتہائی شان دار انداز میں کوپرنیکس کے نظریے کی حمایت میں تحریر کی گئی تھی جو 1632ء میں چرچ کی منظوری کے ساتھ شائع ہوئی۔ مگر اس کے باوجود چرچ حکام نے کتاب کے منظرِعام پر آنے کے بعد برہمی کا اظہار کیا اور گلیلیو پر جلد ہی 1616ء کی سرکاری پابندی کی خلاف ورزی پر مقدمہ چلایا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متعدد چرچ حکام اس ممتاز سائنس دان کو سزا دینے سے ناخوش تھے۔ حتٰی کہ اس وقت کے کلیسائی قانون کے تحت بھی گلیلیو کے خلاف مقدمے پر سوال اٹھ رہے تھے۔ چناں چہ اسے نسبتاً بہت ہلکی سزا سنائی گئی۔ یہاں تک کہ اسے جیل میں بھی نہیں ڈالا گیا بلکہ اسے آرسیٹری میں اس کے پُرآسائش گھر میں نظربند کیا گیا۔ اگرچہ قانون کے تحت اسے ملاقاتیوں سے ملنے کی اجازت نہیں تھی مگر سزا کی اس شق پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ اس کی واحد سزا یہ تھی کہ وہ واضح طور پر اپنے اس نظریے کو غلط قرار دے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ چناں چہ 69 سالہ گلیلیو نے بھری عدالت میں یہ بیان دیا۔ اس بیان سے متعلق ایک قدرے من گھڑت قصہ یوں موجود ہے کہ گلیلیو نے اپنے بیان کے خاتمے کے بعد زمین کی جانب دیکھ کر سرگوشی میں کہا کہ یہ ابھی بھی گھوم رہی ہے۔ دورانِ نظربندی اس نے میکانیات پر تصانیف کا سلسلہ جاری رکھا اور 1642ء میں وہیں اس کا انتقال ہوا۔ سائنس کے ارتقا میں گلیلیو کا کردار صدیوں سے تسلیم شدہ ہے۔ گلیلیو کی اہمیت کا سبب قانونِ جمود کی دریافت، دوربین کی ایجاد، اس کے فلکیاتی مشاہدوں اور کوپرنیکس کے نظریے کو درست ثابت کرنے میں ہ۔ مگر اس سے بڑھ کر اس کا اہم ترین کردار سائنسی طرزِعمل کی تشکیل میں نہاں ہے۔ متعدد سابقہ فطری مفکرین جو ارسطو سے متاثر تھے وہ ماہیت سے متعلق مشاہدات اور مظاہر کی درجہ بندی کر چکے تھے؛ مگر گلیلیو نے مظاہرِ قدرت کی پیمائش کی اور قدری مشاہدات پیش کیے۔ قدری پیمائشوں پر اس قدر تاکید آج سائنسی تحقیق کا لازمی جز بن چکا ہے۔ گلیلو کا کسی بھی دوسرے سائنس دان کی نسبت سائنسی تحقیق میں تجرباتی طرزِعمل اور فکر کے فروغ میں کردار بہت زیادہ ہے۔ یہ گلیلیو ہی تھا جس نے سب سے پہلے تجربات کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے اس خیال کا رد کیا کہ سائنسی مسائل کے حل میں کسی اتھارٹی پر اعتبار کیا جا سکتا ہے خواہ یہ کلیسائی فیصلے ہوں یا ارسطو کے خیالات۔ اس نے ایسے پیچیدہ استخراجی طریقوں پر بھی اعتبار کرنے سے انکار کیا جن کی بنیاد ٹھوس تجربات پر نہیں تھی۔ ازمنہ وسطیٰ کے مفکرین نے اس بارے میں بڑی شدومد سے مباحث کیے تھے کہ کیا ہونا چاہیے اور امر کیوں وقوع پذیر ہوتے ہیں؟ مگر گلیلیو نے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ دراصل ہوا کیا ہے؍ تجربات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کی سائنسی طرز فکر باطنی نہیں تھی بلکہ اس سلسلے میں وہ اپنے بعد آنے والے سائنس دانوں جیسے نیوٹن وغیرہ سے بھی زیادہ جدت پسند تھا۔ یہ بات محلِ نظر رہے کہ گلیلیو ایک کٹّر مذہبی شخصیت کا حامل تھا۔ اپنے خلاف مقدمے اور سزا کے باوجود اس نے مذہب یا  کلیسا کا رد نہیں کیا اور صرف چرچ حکام کی جانب سے سائنسی معاملات پر تحقیق کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی مذمت کی۔ بعد کی نسلوں نے گلیلیو کو درست طور پر سراہتے ہوئے آزادیِ فکر کے خلاف بے جا عقائد پرستی اور بااختیار اداروں کے جابرانہ اقدامت کے سامنے اسے ایک علامت قرار دیا ہے۔ بے شک جدید سائنسی طرز عمل کی تشکیل میں گلیلیو کا کردار بہت بلند ہے۔