Gautama Buddha in Urdu by Michael Hart

دی ہنڈریڈ | چوتھا باب | گوتم بدھ

دنیا کے بڑے مذاہب میں ایک یعنی بدھ مت کے بانی کا اصل نام شہ زادہ سدھارتھ تھا مگر آج دنیا انہیں گوتم بدھ کے نام سے جانتی ہے۔ بدھ کا باپ زمانہ قدیم میں نیپال کے سرحد کے قریب واقع کپل واستو نامی شہر کا بادشاہ تھا۔ گوتم بدھ کا تعلق گوتما اور ساکیا قبائل سے تھا اور خیال ہے کہ ان کی پیدائش 563 قبل مسیح میں لمبینی نامی مقام پر ہوئی جو موجودہ نیپال کی سرحد میں ہے۔ سولہ سال کی عمر میں گوتم کو ہم عمر رشتے کی بہن کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا گیا مگر پر آسائش شاہی محل میں پرورش پانے کے باوجود گوتم کے دل میں مادی آسائشوں کی کوئی جگہ نہیں تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ مادی آسائشیں اسے سکون دینے کے بجائے مضطرب کر دیا کرتی تھیں کیوں کہ اس نے نگاہ بصیرت سے دیکھ لیا تھا کہ انسانوں کی اکثریت بدحالی کا شکار ہے جہاں ہمہ وقت ناکافی ضروریات نے ان کی زندگیوں کو جیتے جی جہنم میں ڈھال رکھا ہے۔ مگر ساتھ ہی گوتم نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ وہ لوگ جو امیر تھے وہ بھی زیادہ تر یاسیت کا شکار اور خوشیوں سے محروم تھے۔ اس نے دیکھا  کہ ہر طبقے کے انسان بیماریوں کے ہاتھوں بے بسی سے موت کا شکار بنتے تھے۔ آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ان عارضی آسائشوں سے ہٹ کر زندگی کا کچھ اور مطلب بھی ہو گا کیوں امیر یا غریب سب ہی جلد یا بدیر موت کا شکار ہو کر صفحۂِ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتے ہیں۔ چناں چہ پہلے بیٹے کی پیدائش کے وقت جب گوتم کی عمر صرف 29 سال تھی اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دنیا کو ترک کر کے اپنے آپ کو سچ کی تلاش کے لیے وقف کر دے گا۔ چناں چہ وہ اپنے محل، بیوی، بچے اور دنیاوی مال و اسباب کو چھوڑ کر دنیا میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ عرصے تک اس نے دنیا کے کچھ معروف درویشوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا مگر ان کی تعلیمات کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد اس پر آشکار ہوا کہ ان لوگوں نے انسانوں کی پریشانیوں سے نجات کا جو حل پیش کیا ہے وہ نا کافی ہے۔ دراصل اس دور میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ سخت ترین نفس کشی ہی ’نروان‘ کی اصل راہ ہے اس لیے گوتم نے بھی نفس کشی کی راہ اختیار کی اور طویل عرصے تک طویل روزوں کے ساتھ رہبانیت کے سخت چلے کاٹے۔ تاہم کچھ عرصے بعد اسے اندازہ ہوا کہ اسے بدن کو تکلیف دینے سے سوائے ذہن کی دھندلاہٹ کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا اور کائناتی سچائیاں ابھی بھی اتنی ہی دور ہیں جتنی پہلے روز تھیں۔ چناں چہ اس نے عام انسانوں کی طرح کھانا پینا شروع کیا اور نفس کشی کی راہ ترک کر دی مگر خلوت میں وہ انسانوں کے مسائل کا حل نکالنے پر سوچ و بچار کرتا رہتا تھا۔ ایک شام گوتم انجیر کے درخت تلے بیٹھا تھا کہ اسے لگا کہ اس پر اس عظیم کائناتی معمے کا حل آشکار ہو گیا ہے۔ گوتم نے وہ تمام شب گہری سوچ و فکر میں گزاری اور صبح کے وقت اسے یقین ہو گیا کہ اس نے سچ کا راز پا لیا ہے۔ اس نے سوچا  کہ وہ بذات خود ایک ’بدھ‘ ہے – یعنی وہ چنیدہ انسان جسے روشنی دکھائی گئی ہے۔ اس وقت گوتم کی عمر 35 سال تھی اور بعد ازاں اس نے اپنی زندگی کے باقی 45 سال شمالی بھارت کے تمام علاقوں میں گھومتے پھرتے گزارے۔ اس دوران اس نے ان لوگوں کے سامنے اس نئے فلسفے کا پرچار کیا جو اس کی باتیں سننے کے لیے تیار تھے۔ 483 قبل مسیح میں گوتم کی موت کے وقت اس کے ماننے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی تھی۔ اگرچہ گوتم  کی تعلیمات لکھی نہیں گئی تھیں مگر اس کے نام لیواؤں نے انہیں اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا تھا جنہیں آنے والی نسلوں کو سینہ بہ سینہ منتقل کیا گیا۔ بدھ کی بنیادی تعلیمات کو مختصر طور پر ’چار عظیم سچائیاں‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اول، انسانی زندگی بنیادی طور پر غم سے عبارت ہے؛ دوم، اس عدم مسرت کا سبب انسانی خود غرضی اور لالچ ہے؛ سوم، انفرادی خود غرضی اور خواہش نفسانی  کا خاتمہ ممکن ہے اور جب تمام خواہشیں اور تمنائیں مٹ جائیں گی تو انسان کو ’نروان‘ حاصل ہو گا جس کا لغوی مطلب ’پھٹ پڑنے‘ یا ’نیست‘ ہو جانے کے ہیں؛ چہارم، خود غرضی اور خواہشوں سے نجات کا طریقہ ’ہشت جہاتی راستہ‘ ہے یعنی: درست عقائد، درست سوچ، درست بات، درست فعل، درست طرز زندگی، درست کوشش، درست تفکر اور درست مراقبہ۔ خیال رہے کہ بدھ مت کا راستہ ہر ایک کے لیے عام ہے اور ہندو مت کے برعکس یہاں ذات پات اور نسل پرستی کی کوئی جگہ نہیں۔ بدھ کی موت کے کچھ عرصے بعد تک اس نئے مذہب کا پھیلائو سست رفتار رہا تاہم تیسری صدی قبل مسیح میں یکایک بھارت کے حکم ران اشوک نے  بدھ مت قبول کر لیا۔ اشوک کی تبدیلی مذہب کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ پڑوس کے ملکوں میں بھی گوتم کی تعلیمات اور اثرات کو تیزی سے قبولیت حاصل ہوئی۔ ان تعلیمات کو جنوب میں سری لنکا اور مشرق کی جانب برما میں قبول کیا گیا جہاں سے یہ تمام جنوب مشرق ایشیاء میں پھیل گیا اور اس کی جڑین ملایا اور انڈونیشیا تک چلی گئیں۔ بدھ مذہب کا پھیلائو شمال میں براہ راست تبت میں بھی ہوا اور یہ مذہب شمال جنوب میں افغانستان اور وسطی ایشیا تک بھی پھیلا۔ بعد ازاں بدھ مذہب چین جا پہنچا جہاں اسے بڑے پیمانے پر پیرو کار ملے اور وہاں سے یہ کوریا اور جاپان تک پھیل گیا۔ مگر انڈیا میں 500 سال بعد بدھ مت کے اثرات ختم ہونے لگے اور 1200 سال بعد وہاں اس کا گویا نام ہی مٹ گیا مگر چین اور جاپان میں اسے ایک بڑے مذہب کی حیثیت حاصل رہی۔ تبت اور جنوب مشرقی ایشیا میں اس کے حیثیت صدیوں تک مرکزی مذہب کی تھی۔ چوں کہ گوتم بدھ کی تعلیمات کو اس کی موت کے کئی صدیوں بعد تک تحریر نہیں کیا جا سکا اس لیے بدھ مذہب آج کئی فرقوں میں بٹ چکا ہے۔ بدھ مذہب کے دو بنیادی فرقے ہیں۔ تھروید جو جنوب مشرقی ایشیاء میں غالب ہے اور جسے مغربی مفکر گوتم کی اصل تعلیمات کے قریب ترین سمجھتے ہیں اور مہایانہ فرقہ جس کی تبت، چین اور شمالی ایشیاء میں بڑے پیمانے پر پیروی کی جاتی ہے۔ دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک کے بانی کی حیثیت سے گوتم  کا درجہ اس کتاب میں اولین درجوں میں کیے جانے کا مستحق ہے۔ اگرچہ پانچ سو ملین مسلمانوں اور ایک ارب عیسائیوں کی نسبت دنیا میں بدھ مت کے صرف دو سو ملین پیرو کار ہیں اس لیے واضح ہے کہ گوتم نے حضرت محمدؐ اور حضرت عیسیؑ کے مقابلے میں بہت کم افراد پر اثر ڈالا ہے، تاہم پیروکاروں کی تعداد اہم نہیں ہے۔ بدھ مت کے بھارت سے خاتمے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندو مت نے اس نئے مذہب کی تعلیمات اور تصورات کو خود میں جذب کر لیا۔ چین میں بھی لوگوں کی اکثریت جو خود کو بدھ مت کا پیروکار قرار نہیں دیتی دراصل بدھ ہی کی تعلیمات و فلسفے سے متاثر ہیں۔ اسلام یا عیسائیت کے مقابلے میں بدھ مت فلسفہ عدم تشدد کا حامی ہونے کا دعوے دار ہے۔ اس فلسفے کے اثرات نے بدھ ممالک کی سیاسی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ اگر عیسیؑ دنیا میں واپس آئیں تو وہ ان حرکتوں کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے جو ان کے نام پر ان کے پیروکاروں نے کی ہیں۔ ان کے صدمے کی کوئی انتہا نہیں ہو گی جب انہیں ان فرقوں کے درمیان ان خون ریز جنگوں کے بارے میں پتہ چلے گا جو انہوں نے ان کے نام پر برپا کیں اسی طرح گوتم کو بھی بلاشبہ ان عقائد کو دیکھ کر شدید حیرانی ہو گی جنہیں آج بدھ مت کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر چہ آج اس مذہب کے کئی فرقے ہیں اور ان فرقوں میں شدید ترین اختلافات موجود ہیں مگر بدھ مت کی تاریخ میں ایسا کوئی بھی واقعہ نہیں جس کا یورپ میں ہوئی خون ریز مذہبی لڑائی سے بال برابر بھی موازنہ کیا جا سکے۔ چناں چہ اس لحاظ سے گوتم بدھ کی تعلیمات کے اپنے ماننے والوں پر حضرت عیسیؑ کی تعلیمات کے نسبت زیادہ گہرے اثرات ہیں۔ دوسری طرف بدھ اور کنفیوشس کے دنیا پر اثرات یکساں ہیں۔ دونوں ایک ہی وقت میں زندہ تھے اور ان کے پیروکاروں کی تعداد میں بھی کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ میرے نزدیک بدھ کو کنفیوسش سے اوپر رکھنے کی دو وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ چین میں کمیونزم کے عروج نے کنفیوشس کے تعلیمات کے اثرات کو بری طرح متاثر کیا ہے او دوم یہ کہ کنفیوشس ازم کا چین سے باہر عدم پھیلاؤ اس بات کا سراغ ہے کہ اس کے اثرات چین میں پہلے سے موجود طرز عمل میں پیوست تھے۔ مگر بدھ کی تعلیمات کسی بھی لحاظ سے کسی سابقہ بھارتی فلسفے کا نیا روپ نہیں ہیں اور اس مت کا انڈیا کی سرحدوں سے ہزاروں میل دور تک پھیلائو اس بات کا ثبوت ہے کہ گوتم  کی تعلیمات اپنے آپ میں انوکھی تھیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ گوتم بدھ کے فلسفے کو دنیا میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے دل سے تسلیم کیا۔