Genghis Khan | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | انتیسواں باب | چنگیز خان

منگول فاتح چنگیز خان 1162ء عیسوی کے آس پاس پیدا ہوا۔ چنگیز کا باپ منگول قبیلے کا سردار تھا جس نے نومولود بیٹے کا نام ایک مفتوح قبائلی سردار کے نام پر تیموجن رکھا۔ جب تیموجن کی عمر صرف 9 سال تھی اس وقت اس کے باپ کو ایک مخالف قبیلے نے موت کے گھاٹ اتار دیا جس کے بعد متعدد سالوں تک اس خاندان کے باقی ماندہ لوگوں کو مسلسل خطروں سے بھرپور حالات میں چھپ چھپا کر زندگی گزارنی پڑی۔ تیموجن کے لیے زندگی کی ابتدا اچھی نہیں ہوئی تھی اور ابھی اچھے حالات دیکھنے سے قبل اسے مزید سخت حالات سے گزرنا تھا۔ جب تمیوجن جوان ہوا تو ایک مخالف قبیلے نے حملہ کر کے اسے قیدی بنا لیا۔ مخالف قبیلے نے اس کی گردن میں ایک لکڑی کا حلقہ ڈال دیا تاکہ وہ فرار نہیں ہو سکے۔ تیموجن پڑھا لکھا نہیں تھا اور وہ اس وقت ایک پس ماندہ ترین بنجر ملک میں شدید بے چارگی کی کیفیت میں قیدی بنا ہوا تھا مگر پھر بھی وہ اس حالت سے اٹھا اور چنگیز خان کے روپ میں دنیا کا طاقت ور ترین شخص بن گیا۔ چنگیز خان کے اچھے حالات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ مخالف قبیلے کے لوگوں کو جل دے کر وہاں سے کام یابی کے ساتھ فرار ہو گیا۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کے دوست طغرل سے جا ملا جو خود بھی ایک قبیلے کا سردار تھا۔ اس کے بعد متعدد منگول قبیلوں کے درمیان خون ریز اور تباہ کن جنگیں ہوئیں جن کے دوران تیموجن نے آہستگی سے بلند مقام حاصل کر لیا۔ منگول قبائل کے لوگوں کو دنیا بہترین شہہ سوار اور نہایت خطرناک جنگجوؤں کے طور پر جانتی تھی۔ اپنی تمام تاریخ میں انہوں نے وقتافوقتاً شمالی چین پر چھاپہ مار حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا تاہم تیموجن کے عروج پر پہنچنے سے قبل زیادہ تر منگول قبیلیے باہم برسرِپیکار رہ کر اپنی طاقت کا ضیاع کرتے رہتے تھے مگر تیموجن نے فوجی طاقت، بہترین طرزِعمل، سفاکیت اور انتظامی اہلیت کے اشتراک سے ان تمام قبائل کو ایک مرکز پر اپنی سربراہی میں اکٹھا کر لیا اور 1206ء میں منگول سرداروں کے ایک اجلاس میں اسے چنگیزخان تسلیم کر لیا گیا جس کے معنی ’عالمی شہنشاہ‘ کے ہیں۔ اس مقام کو حاصل کرنے کے بعد چنگیز نے اپنی مہیب عسکری طاقت کا رخ ہمسایہ ملکوں کی جانب کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے شمال مغربی چین میں ہسی ہسا ریاست اور شمالی چین میں چن سلطنت پر حملہ کیا۔ ابھی یہ جنگیں جاری ہی تھیں کہ چنگیز خان اور خوارزم شاہ محمد کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا جو اس وقت فارس اور وسط ایشیاء کے کافی بڑے حصے پر حکمران تھا۔ 1219ء میں چنگیز خان اپنی فوجیں خوارزم شاہ کے خلاف چڑھا لایا۔ چنگیز خان نے فارس اور وسط ایشیاء کے پرخچے اڑا دیے اور خوارزم شاہ کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔ جس دوران منگول فوجیں روس پر حملے کر رہی تھیں چنگیزخان نے اپنی سربراہی میں افغانستان اور شمالی ہند پر چڑھائی کر دی۔ وہ 1225ء میں منگولیا واپس آیا جہاں 1227ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے اس نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے بعد اس کے تیسرے بیٹے اغادائی کو اس کا جانشین مقرر کیا جائے۔ یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ تھا کیوں کہ اغادائی نے خود کو ایک بہترین جنرل ثابت کیا۔ اس کی زیرِقیادت منگول فوجیں لگاتار چین میں پیش قدمی کرتی رہیں، انہوں نے روس کو تاراج کیا اور پھر یورپ میں داخل ہوگئیں۔ 1241ء میں منگولوں نے پولینڈ، جرمنی اور ہنگری کی افواج کو گویا صفحۂہستی سے مٹا دیا اور بوڈاپسٹ تک پہنچ گئے مگر ہوا یہ کہ اسی سال اغادائی کو موت آ گئی اور منگول فوجیں کبھی نہ لوٹنے کے لیے یورپ سے نکل گئیں۔ اغادائی کی موت کے بعد منگول سرداروں میں جانشینی کے مسئلے پر تنازع کھڑا ہوا۔ تاہم چنگیزخان کے پوتوں منگوخان اور قبلائی خان کی زیرِقیادت منگلوں نے دوبارہ ایشیاء کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ 1279ء میں جب قبلائی خان نے چین کو مکمل طور پر فتح کر لیا اس وقت منگول ریاست تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی سلطنت تھی۔ منگول ریاست اس وقت چین، روس، وسط ایشیاء، فارس اور جنوب مغربی ایشیاء کے اکثر حصوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ منگول افواج نے پولینڈ سے لے کر شمالی ہند تک کام یاب حملے کیے تھے اور قبلائی خان کی ریاست میں کوریا، تبت اور جنوب مشرقی ایشیاء بھی شامل تھا۔ اس دور کے محدود ذرائع نقل وحمل کے تناظر میں ایسی وسیع سلطنت تادیر قائم نہیں رہ سکتی تھی چناں چہ جلد ہی منگول سلطنت ٹوٹ گئی مگر پھر بھی ایک طویل عرصے تک مفتوح علاقوں میں منگولوں کی حکومت قائم رہی۔ بعدِازاں 1368ء میں منگولوں کو چین سے نکال دیا گیا مگر روس میں ان کا اقتدار اس کے کچھ عرصے بعد بھی قائم رہا۔ چنگیز خان کے پوتے باتوخان کے ہاتھوں روس میں قائم ہونے والی منگول ریاست – گولڈن ہورڈ – سولہویں صدی تک برقرار رہی جب کہ کریمیا میں اس اقتدار کا دور 1783ء تک تھا۔ چنگیزخان کے دیگر بیٹوں اور پوتوں نے وسط ایشیاء اور ایران میں بادشاہتیں قائم کیں۔ ان دونوں ریاستوں کا چودھویں صدی میں تیمور لنگ نے قلع قمع کیا مگر تیمورلنگ کی رگوں میں بھی چنگیزی خون تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ چنگیزی نسل سے ہے۔ تیمورلنگ کی قائم کردہ حکومت سترھویں صدی میں ختم ہوئی مگر پھر بھی یہ منگول فتوحات اور اقتدار کا خاتمہ نہیں تھا۔ تیمورلنگ کے پڑپوتے بابر نے ہند پر حملہ کیا اور وہاں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مغلوں نے بتدریج تمام ہند کو زیرِنگیں کر لیا جہاں ان کی سلطنت اٹھارویں صدی کے وسط تک قائم رہی۔ تاریخ میں ایسے لوگوں یا دیوانوں کی کمی نہیں رہی جو تمام دنیا کو فتح کرنے گھر سے نکلے اور اس میں کسی حد تک کام یابی بھی حاصل کی۔ ایسے سرپھرے لوگوں میں سکندرِاعظم، چنگیزخان، نپولین بوناپارٹ اور ہٹلر کا نام نمایاں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس کتاب میں ان چاروں افراد کا تذکرہ اونچے درجوں میں کیا گیا ہے؟ کیا فکرِانسانی عسکری طاقت سے بڑھ کر نہیں؟ میری اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ قلم آخرِکار تلوار سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے مگر تاریخ کے چھوٹے ادوار بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ چناں چہ ان چاروں نے اتنے عظیم ترین علاقے اور بڑی آبادیوں پر اپنا تسلط جمانے کے ساتھ اپنے ہم عصروں کی زندگیوں پر ایسے شدید ان مٹ اثرات مرتب کیے کہ انہیں محض علمیت کے غرور میں ’لٹیرا‘ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔