Ghazql By Asim Jaasir in Urdu

ایک غزل

 


ابرِ ویراں خموش ہو بھی چکا

اے مری جاں تجھے میں رو بھی چکا



واقعہ سانحہ ہی ہو شاید

جس کو پایا نہیں تھا کھو بھی چکا



بار سینے پہ جس کا ہے باقی

میں وہ زلفوں کی شام ڈھو بھی چکا



زرد آنکھوں میں نیند کی سرخی

رنگ جس کا بھی تھا میں دھو بھی چکا



پھول لفظوں کے سب ہی مرجھائے

خار لہجے کے وہ چبھو بھی چکا



اب ہوا  ہو سمندروں کی مکیں

کشتیاں آخری ڈبو بھی چکا



زندگی تیری یاد میں جاسؔر

رو کے لیٹا تھا اور سو بھی چکا