Ghazql By Fyyaz in Urdu

ایک غزل


یوں ترا نوکِ قلم کو تذکرہ دشوار ہے

جیسے بارِ کوہ لے کر سر کے بل کہسار ہے



وسعتوں کے ظرفِ کم پر ہیں پشیماں بحر و بر

فکر سے لبریز تیری پیکرِ افکار ہے



حسن کا چلمن کے ہوتے ہی بیاں کچھ ہو تو ہو

کچھ نہ ورنہ اعتبارِ قوتِ اظہار ہے



پاس پا  کر مجھ کو تیرے دور سے سب کو لگے

اک سفینہ سا سرابِ دشت میں سیّار ہے



یہ سوالِ مفلسی ہے اے خیالِ منتظر

فصلِ گل پر منحصر گل چیں کا  کاروبار ہے



ہے دوا کے گر اثر تک ہی حضورِ چارہ گر

سو مجھے پھر حسرتِ افزائشِ آزار ہے



پوچھتا ہے کیا سبب دیوانگی کا تو مری

دائرہ خود ہی دلیلِ نقطۂ پرکار ہے



قتل کر کے پھر سنا ہے تو الٹتا ہے نقاب

زندگی پھر بعدِ مرگِ ناگہاں درکار ہے



جب فنا ہو کر تجھے پایا تو یہ ظاہر ہوا

بندگی ہے آئینہ گر زندگی زنگار ہے



تجھ سے روشن ہے چراغِ بزمِ فیاضِؔ دکن

تو ہی قرطاس و قلم تو حاصلِ اشعار ہے