Green Technology Out of Thin Air| Read in Urdu

محققین نے ہوا سے بجلی بنانے والا جنریٹر ایجاد کر لیا

امریکا میں یونی ورسٹی آف میساچوسس ایمہرسٹ کے سائنس دانوں نے ایک ایسا آلہ تیار کرنے میں کام یاب ہو گئے ہیں جو نم ہوا میں موجود ایک قدرتی پروٹین سے بجلی پیدا کرتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی ایجاد ہے جو مستقبل میں دوبارہ پیدا کیے جانے قابل توانائی کی دنیا، ماحولیاتی تبدیلیوں اور ادویات سازی کی صنعت میں ایک انقلاب برپا کر دے گی۔

مؤقر سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق متذکرہ یونی ورسٹی میں الیکٹریکل انجینیئر جون یاؤ اور مائکروبائلوجسٹ ڈیرک لولے کی تیار کردہ اس ڈیوائس کو ’ائر پاورڈ جنریٹر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس آلے میں پروٹین کے ایسے نہایت ہی باریک ترین تاروں کا استعمال کیا گیا ہے جن سے بجلی گزر سکتی ہے۔ یہ مہین ترین تار نم ہوا میں موجود جیوبیکٹر نامی خردحیاتیے کی تیار کردہ بجلی کو وصول کر کے استعمال کے لیے ترسیل کر دیتے ہیں۔ برقی رو پیدا کرنے والا یہ خردحیاتیہ قدرتی طور پر نم ہوا کے بخارات میں ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ آلہ اتنا کارگر ہے کہ صحرائے صحارا جیسے خشک ترین علاقے میں بھی جہاں ہوا میں ذراہ برابر بھی نمی نہیں چوبیس گھنٹے لگاتار بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ اس طرح بجلی کی تیاری پر نہ صرف یہ کہ نہایت کم لاگت آتی ہے بلکہ اس کے ماحول پر کسی قسم کے مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے نیز اسے کمرے کے اندر رکھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فی الحال اس آلے کی مدد سے تیار ہونے والی بجلی بہت کم طاقت کے آلات چلا سکتی ہے مگر ماہرین کو یقین ہے کہ بہت جلد وہ اس مشین کی مدد سے ہر قسم کے بڑے برقی آلات چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔