Guglielmo Marconi by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ |38واں‌ باب |گگلیلمو مارکونی |مائیکل ایچ

ریڈیو کا موجد گگلیلمو مارکونی اتلی کے شہر بولوگنا میں 1874 میں پیدا ہوا۔

اس کا تعلق ایک نہایت خوش حال گھرانے سے تھا اور اس نے نجی طور پر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جو اس زمانے میں ایک بہت بڑی بات تھی۔

1894 میں 23 سال کی عمر میں اس نے ان تجربات کے بارے میں پڑھا جو ہینرک ہرٹز نے چند سال قبل کیے تھے۔

دراصل ان تجربات سے قطعی طور پر ثابت ہوا تھا کہ دکھائی نہ دینے والی برقی مقناطیسی لہریں وجود رکھتی ہیں اور ہوا میں ان کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہی ہوتی ہے۔

چناں چہ جلد ہی اس تصور نے مارکونی کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کر لی کہ ان لہروں کے ذریعے تار کے بغیر طویل فاصلوں تک سگنل یا اشارات بھیجے جا سکتے ہیں اور ان سے پیغام رسانی کی وہ سہولت حاصل ہو سکتی ہے جو ٹیلے گراف کے ذریعے ممکن نہیں تھی۔

مثال کے طور پر اس طرح سمندر میں تیرتے جہازوں تک پیغامات پہنچائے جا سکتے تھے۔

1895 میں محض ایک سال کی کاوشوں کے بعد مارکونی کو اس سلسلے میں کارگر مشین بنانے میں کام یابی حاصل ہوئی۔

1896 میں اس نے اس میشن کا برطانیہ میں مظاہرہ کیا اور اپنی ایجاد کی پہلی قانونی سند حاصل کی۔

مارکونی نے جلد ہی ایک کمپنی کی بنیاد ڈالی اور دنیا کے پہلے ’مارکونگرامز‘ 1898 میں ترسیل کیے گئے۔

اگلے سال ہی مارکونی ان پیغامات کو برطانیہ سے باہر بھیجنے میں کام یاب ہو گیا۔

اگرچہ مارکونی نے اپنی سب سے ممتاز قانونی سند 1900 میں حاصل کی مگر اس نے اپنے آلات میں مفید اضافوں اور ان کی قانونی سند حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

1901 میں وہ بحراوقیانوس سے پَرے برطانیہ سے نیوفائونڈ لینڈ تک پیغامات بھیجنے لگا۔

اس جدید ایجاد کا 1909 میں اس وقت ڈرامائی مظاہرہ ہوا جب بحری جہاز ایس ایس ری پبلک تباہ ہو کر ڈوبنے لگا مگر ریڈیائی پیغامات کے ذریعے مدد حاصل ہوئی اور 6 کے سوا تمام افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

چناں چہ اسی برس مارکونی کو اپنی ایجاد کے لیے نوبل انعام ملا۔

اگلے سال مارکونی نے 6 ہزار میل سے زائد فاصلے یعنی آئر لینڈ سے ارجنٹینا تک پیغامات ارسال کیے۔

یہ تمام پیغامات مورس کوڈ یعنی ڈاٹ اور ڈیش کی صورت میں بھیجے گئے تھے۔

اگرچہ اس وقت تک معلوم کر لیا گیا تھا کہ آواز کو بھی ریڈیائی لہروں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے مگر ایسا 1906 تک ممکن نہیں ہو سکا۔

تجارتی بنیادوں پر ریڈیو نشریات کا آغاز 1920 کے اوائل میں ہوا مگر اس کی مقبولیت اور اہمیت میں نہایت تیزی سے بڑھی۔

ظاہر ہے اتنی اہم ترین ایجاد کے قانونی حقوق حاصل کرنا آسان نہیں تھا اور متعدد تنازعات نے جنم لیا مگر 1914 کے بعد اس وقت تمام چپقلش کا خاتمہ ہو گیا جب عدالت نے مارکونی کو ریڈیو کا موجد تسلیم کر لیا۔

آئندہ سالوں میں مارکونی نے شارٹ ویو اور مائکرو ویو کے ذریعے پیغام رسانی کے تجربات کیے۔

مارکونی کا 1937میں روم میں انتقال ہوا۔

چوں کہ مارکونی کی وجہ شہرت صرف ایک موجد کی ہے مگر اس کے اثرات کی وسعت ریڈیو اور ریڈیو کی نسبت سے ہونے والی دیگر ایجادات کی اہمیت پر منحصر ہے۔

مثلاً مارکونی نے ٹیلے ویژن ایجاد نہیں کیا مگر یہ ریڈیو ہی تھا جس نے ٹی وی کی ایجاد کی راہ کھولی اور اسی لیے ٹی وی کی ایجاد کا کچھ سہرا لازمی طور پر مارکونی کے سر بھی دیا جانا چاہیے۔

آج دنیا میں لاسلکی ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے کون واقف نہیں؟

انہیں خبروں وتفریحی پروگراموں کی نشریات کے علاو فوجی مقاصد، سائنسی تحقیق، پولیس کے کاموں اور دیگر متعدد جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔

چند مقاصد کے لیے ریڈیو سے نصف صدی قبل ایجاد ہونے والا ٹیلے گراف آج بھی استعمال ہوتا ہے جب کہ دیگر مقاصد کے لیے ریڈیو ناگزیر ہے۔


موجودہ اسمارٹ فون اور ان پر چلنے والا فور جی موبائل انٹرنیٹ مکمل طور پر مارکونی ہی کی دریافت کردہ ریڈیائی لہروں کا محتاج ہے – نیرنگ


ریڈیو کا دائرہ کار گاڑیوں، بحری جہازوں، ہوائی جہازوں اور حتیٰ کے خلائی جہازوں تک محیط ہے۔

یہ قطعی طور پر ٹیلے فون سے زیادہ اہم ایجاد ہے کیوں کہ ٹیلے فون کے ذریعے بھیجا جانے والا کوئی پیغام ریڈیو کے ذریعے بھی روانہ کیا جا سکتا ہے مگر ریڈیائی لہریں دنیا میں اس مقام تک باآسانی پیغام رسانی کر سکتی ہیں جہاں ٹیلے فون موجود نہیں۔

مارکونی کو اس کتاب میں الیگزینڈر گراہم بیل سے اوپر جگہ دی گئی ہے کیوں کہ لاسلکی پیغام رسانی بہرحال ٹیلے فون سے زیادہ اہم ایجاد ہے۔

تاہم میں نے ایڈیسن کو مارکونی سے ذرا اوپر اس لیے رکھا ہے کیوں کہ اس کی ایجادات کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر پھر بھی ان ایجادات میں سے کوئی ایک بھی اتنی اہم نہیں جتنی ریڈیو ہے۔

چوں کہ ریڈیو اور ٹیلے ویژن مائیکل فیراڈے اور جیمز کلاک میکس ویل کی نظریاتی تحقیق کے عملی اطلاق کا صرف چھوٹا سا حصہ ہیں اس لیے انصاف کی بات یہ ہی ہے کہ مارکونی کا مقام ان دونوں سائنس دانوں سے نیچے ہو۔

مگر اس کے علاوہ یہ بھی ایک زندہ حقیقت ہے کہ مارکونی کے مقابلے میں محض مٹھی بھر سیاسی شخصیات ہی دنیا پر اتنے وسیع اور گہرے اثرات مرتب کر پائی ہیں اس لیے اس کتاب میں مارکونی کا درجہ ان سے اوپر رکھا گیا ہے۔