Honeymoon Videos English in Urdu Reddit

کج روی

میں گزشتہ سال گرمیوں کے موسم تک ان وڈیوز کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ ایک دن اچانک میرے پاس میرے دوست وکی کا فون آیا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کم بجٹ کی فلموں پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ وہ میرا تنگ دستی کا دور تھا اورمیں زیادہ سے زیادہ بچت کرنا چاہ رہا تھا، تا کہ میں دوبارہ کالج میں داخلہ لے کر اپنی ویڈیو پروڈکشن کی ڈگری حاصل کر سکوں؛ کیوں کہ اس میرے پاس کالج میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اس دوران میں طرح طرح کے کام کر رہا تھا؍ جیسے دفتروں میں کلرکی، فری لانس سٹے بازی اور شراب خانوں میں ملازمت وغیرہ۔ میں اس وقت کچھ بھی کرنے کے لیے تیار تھا۔ چناں جب وکی نے مجھے اس کام کے عوض ہزاروں روپے معاوضے کی پیش کش کی تو میرے پاس انکار کا کوئی جواز نہیں تھا۔  ’ کام کی نوعیت کیا ہے؟ مقامی طور پراشتہارات کی تیاری؟ یا طلبہ کے لیے پروجیکٹ وغیرہ۔‘ میں نے پوچھا۔ ’نہیں ان میں سے کچھ نہیں۔‘ وکی نے جواب دیا اور پھر پوچھا کہ کیا میں ہنی مون وڈیوز سے واقف ہوں۔ ’نہیں۔‘ ’بہت آسان سا کام ہے۔ ہم ایک ہوٹل میں کمرا لیتے ہیں۔ برابر والے کمرے میں خفیہ کیمرے لگا دیتے ہیں اور پھر شکار کا انتظار کرتے ہیں۔‘ وکی نے شیطانوں کی طرح ہنستے ہوئے جواب دیا۔  میں اپنی حماقت میں خاموش رہا اور خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔ وکی نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے میری معلومات میں مزید اضافہ کیا ’اس طرح ہم نئے شادی شدہ جوڑوں کی فلم بناتے ہیں اور اس کے عوض ایک سیاہ فام مجھے بھاری رقم دیتا ہے۔‘ ’مگر وکی یہ تو جرم ہے۔‘ ’ہاں مگر اس وقت جب تم پکڑے جائو اور یہ بات ثابت بھی ہو جائے۔‘ اس بار میں نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔  ’بات مان لو یار۔ پھچلے ہفتے بھی تم کام کے لیے گڑگڑا رہے تھے۔ مجھے تمہارے مالی حالات کا علم ہے۔ تمہیں ہر صورت میں اپنی زندگی بنانے کے لیے اس وقت پیسے درکار ہیں۔‘  میں نے جواب میں انکار کیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور غیر اخلاقی حرکت تھی، مگر میں وکی کو 10 سال سے جانتا تھا اور وہ میرے لڑکپن کا دوست تھا۔ میں نے اسے کبھی لاپرواہی کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ وہ جب ہائی اسکول میں منشیات فروخت کرتا تھا تب بھی نہایت احتیاط سے کام لیتا تھا۔ وہ ہمیشہ تعلقات کی بنیاد پر سپلائی دیتا تھا اور کبھی یہ کام اپنے گھر کے پاس نہیں کرتا تھا۔ وہ بے شک جرم کی راہ پر تھا؍ مگر ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتا رہا تھا۔  وہ ایک ہفتے تک میرے پیچھے لگا رہا۔ وہ ایک ہوٹل میں یہ کام کر چکا تھا اور اس کے پاس مکمل تیاری تھی۔ دراصل اس کے ساتھ کام کرنے والی ایک لڑکی اچانک بغیر کوئی نوٹس دیے ’جاب‘ چھوڑ کر چلی گئی تھی اور وکی کو فوری طور پر اس کا متبادل چاہیے تھا۔ وکی نے اس کام میں اس طرح مہارت حاصل کر لی تھی کہ پکڑے جانے کا ایک فی صد بھی امکان نہیں تھا۔ وہ صرف اعتبار کے لوگوں کے ساتھ یہ کام کررہا تھا اور یہ فلمیں نہایت ہی اعتماد کے گنے چنے لوگوں کو فروخت کی جاتی تھیں۔ در اصل کج روی کا شکار بڈھے ان فلموں کے دیوانے تھے اور ان کی نہایت بھاری قیمت ادا کرتے تھے؛ مگر اس کام میں بہت وقت چاہیے ہوتا تھا۔ وکی کو ایک ایسے لڑکے یا لڑکی کی ضرورت تھی جو مستقل کیمروں پر نظر رکھے تا کہ عین وقت پر کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔ یہ حرام کی آسان کمائی تھی۔  اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو یقینی بنانے کے لیے میں ہر صورت میں کالج واپس جانا چاہتا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی زندگی بغیر کسی مراعات کے ادھر ادھر گھٹیا ملازمتیں کر کے گزار دوں۔  مجھے اس سلسلے میں ابتدائی طور پر لازمی رقم درکار تھی۔  اس طرح میں بالآخر وکی کی سجھائی راہ پر آ گیا۔ دسمبر 2017 میں؍ میں ایک ہوٹل کے کمرے میں رہائش پذیر ہو گیا۔ یہ ایک انتہائی ویران اور اجاڑ ہوٹل تھا۔ میں جس کمرے میں تھا وہاں متعدد مانیٹر لگے ہوئے تھے۔ میں نے اس دوران وکی اور اس کی ’ٹیم‘ کے ساتھ متعدد ’سیشن‘ کیے اور اس دن یہ میرا آخری ’سییشن‘ تھا۔  ان 100 گھنٹوں میں؍ میں نے طرح طرح کے لوگوں اور ایک دو پراسرار سی چیزوں کو کمرے میں لگی اسکرینوں پر دیکھا تھا۔ مگر آج آنے والے اس جوڑے کو دیکھ کر میرے وجود میں بے چینی کی ایک لہر سے دوڑ گئی۔ اس جوڑے کی عمر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ لڑکی بمشکل 19 سال کی تھی اور گھنے سیاہ بالوں کے ساتھ بلا کی حسین تھی، جب کہ مرد کی عمر کسی طور 50 سے کم نہیں تھی۔ وہ ایک منحنی سا آدمی تھا اور کسی طور ممکن نہیں تھا کہ اتنی کم عمر اور حسین لڑکی اس سے شادی کرنے پر رضا مند ہو جاتی۔ میرا خیال تھا کہ یہ آدمی نہایت مال دار ہے جس کے لیے کم عمر اور حسین ترین مگر انتہائی مہنگی کال گرلز حاصل کرنا بائیں ہاتھ کا کام ہے، جب کہ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ شہر اس حوالے سے بری طرح بد نام بھی ہے۔  اس جوڑے کے ساتھ ایک دیگر بات یہ بھی تھی کہ یہ دونوں میاں بیوی کی طرح برتائو نہیں کر رہے تھے۔ لڑکی ایک پالتو بلی کی طرح مرد کے پیچھے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے تھے اور وہ بار بار  اپنے کوٹ خود میں دبا رہی تھی۔  میں نے ایک خیال کے تحت وکی کو میسج کیا اور پوچھا کہ کہیں یہ دونوں باپ بیٹی تو نہیں ہیں۔  تھوڑی دیر بعد میرا فون بجا اور وکی نے مجھے بتایا کہ لڑکیاں اپنی باپوں کے ساتھ ایسا نہیں کرتیں جیسا اس لڑکی نے ابھی اس آدمی کے ساتھ کرنا ہے۔  میں برا سا منہ بناتے ہوئے اسکرینوں کی جانب دوبارہ متوجہ ہو گیا۔  وہ لڑکی ایک نازک سی چڑیا کی طرح تھی۔ بے حد خوب صورت؍ مگر انتہائی نازک۔ میری آنکھیں گویا اسکرین پر چپکی ہوئی تھیں۔ مجھے اس بات کے اعتراف میں کچھ عار نہیں کہ سابقہ فلموں کے دوران میں نے تھوڑا بہت فطری طور پر مزا لیا تھا؍ مگر اِس رات میرے منہ میں کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔  میں نے انہیں کمرے میں لیٹتے، بیٹتے دیکھا اور ایک گھنٹے تک انہوں نے کچھ نہیں کیا۔  لڑکی ایک آرام کرسی میں سمٹ کر اپنے فون میں مگن ہو گئی۔ مرد غالبا نہانے باتھ روم میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ ایک باتھ روب میں لپٹا ہوا باتھ روم سے باہر آیا جس کے بعد لڑکی بستر پر چلی گئی اور ٹی وی آن کر لیا۔ میں نے بھی بور ہو کر ایسا ہی کیا۔  میں پوری طرح ٹی وی پر فلم میں کھویا ہوا تھا کہ یک لخت برابر والے کمرے کے دروازے سے ایک دھپ کی آواز آئی۔ میں فوری طور پر مانیٹر چیک کرنے کے لیے بیڈ سے اترا۔  میں نے اسکرین پر دیکھا کہ مرد قالین پر پڑا لڑکی سے دور ہٹنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کا باتھ روب خون میں بھیگا ہوا تھا۔ اس نے اپنا ایک لرزتا ہوا ہاتھ اٹھایا گویا کہ التجا کر رہا ہو۔ میں نے دیکھا کہ اس ہاتھ کی تمام انگلیاں کٹی ہوئی تھیں۔ وہ چڑیا کی طرح نازک لڑکی اب کسی اژدھے کی طرح اس مرد کی طرف بڑھ رہی تھی اور اس کے ہاتھ اور چہرے سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔  ’ارے یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ؟ میں نے خود سے سرگوشی کی۔ اس دوران میری آنکھیں بدستور اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔  لڑکی گولی کی طرح مرد کی طرف لپکی اور میرے حلق سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دبا لیا۔ مرد نے چیخنے کی کوشش کی اور اس کی آواز دیوار سے بھی سنائی دے رہی تھی؍ مگر لڑکی نے اسے زمین پر دبوچ لیا۔ وہ گھوڑے کی طرح اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کے منہ میں اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر گھسیڑ دیا۔ بوڑھے کی چیخ غرغراہٹ میں بدل گئی اور وہ اپنے پیٹ کے بل لڑھک گیا۔ اس دوران وہ بری طرح چیخ رہا تھا اور اس کے منہ سے نکلتی خون کی دھاروں سے تمام قالین سرخ ہو گیا تھا۔ لڑکی کوئی چیز اپنے منہ کے قریب لائی۔ مجھے بری طرح ابکائی آ گئی۔ وہ اس کی زبان نوچ کر کھا رہی تھی۔  پھر اس لڑکی نے اپنا منہ اس مرد کی شہہ رگ پر رکھا اور میں نے اس آدمی کے حلقوم سے خون کی سیاہ مگر باریک باریک دھاریں پھوٹتی دیکھیں۔ خون کے سرخ بلبلوں سے لڑکی کے گال لال ہو رہے تھے اور وہ اپنا چہرہ اوپر نیچے ہلا رہی تھی۔  اس مرد کے نیچے خون کا ایک تالاب سا بن گیا۔ اس نے لاتیں چلانے کی کوشش کی؍ مگر اس میں مزاحمت کرنے کی ذرا بھی طاقت نہیں تھی۔ ایک تو وہ اپنے پیٹ کے بل پڑا ہوا بری طرح زخمی تھا اور دوسرے لڑکی ابھی تک اس پر سوار تھی۔ لڑکی نے اپنا ایک ہاتھ اس مرد کے سر پر رکھا اور پوری طاقت سے اس کے چہرے کو قالین میں دبایا جس سے اس مرد کی چیخیں دب سی گئیں۔ وہ لڑکی اس دوران کسی بھیڑیے کی طرح اس کے گلے کو بھنبھوڑتی رہی۔  میری آنکھیں اسکرین سے ہٹنا ہی بھول گئی تھیں۔ مجھے اچانک اندازہ ہوا کہ میں نے بری طرح اپنا چہرہ دنوں طرف سے ہتھیلیوں میں دبوچا ہوا تھا۔  اچانک کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ایک ایسی خاموشی جو آپ کو کسی مہنگے ڈاکٹر کے کلینک میں سنائی دیتی ہے۔ میرا فون میز پر پڑا تھا؍ مگر میں کسے ڈائل کرتا؟ میں نے بے چارگی سے چاروں طرف نظر دوڑائی کیوں کہ میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔  یک لخت خاموشی ایک لجلجی سی تڑک کے ساتھ ٹوٹ گئی۔ لڑکی نے مرد کا سر اس کے شانوں سے اکھاڑ لیا تھا۔ سر کے نیچے اعصاب کے لوتھڑے لٹک رہے تھے اور یہ ایک دہشت ناک ترین منظر تھا۔ لڑکی ایک بار پھر کرسی پر جا کر بیٹھی گئی اور سر کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اسے اچھی طرح دیکھنے لگی۔ اس دوران مرد کی ادھڑی ہوئی گردن سے خون لڑکی کے حسین چہرے پر ٹپک رہا تھا۔ لڑکی کا چہرہ اس طرح انتہائی پر سکون ہو گیا تھا؍ جیسے اس کے منہ پر گرم تازہ خون نہیں بلکہ ساون کی پہلی پھوار کے سرد قطرے برس رہے ہوں۔ اچانک لڑکی کی زبان سانپ کی طرح منہ سے باہر نکلی اور اس نے گردن سے ٹپکتا خون چاٹنا شروع کر دیا۔  اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی۔  یہ وکی کی کال تھی اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے، کیوں کہ دو افراد نے ہوٹل کی انتظامیہ سے شور کی شکایت کی ہے۔  میں کافی دیر تک چپ رہا کیوں کہ میرے پاس کچھ کہنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ میں نے کال منقطع کی اور تیزی سے میسج لکھا: پولیس کو کال کرو۔ اس کمرے کے پاس بھی نہیں جانا۔  اس کے بعد میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور وہاں سے بھاگ ہی رہا تھا کہ اسکرین پر ایک منظر دیکھ کر میرے قدم خود بہ خود ٹہر گئے۔  لڑکی مرد کے پاس سے ہٹ گئی تھی۔ وہ مخالف دیوار کی جانب بڑھی – یعنی میرے اور اس کے کمرے کی مشترکہ دیوار کی طرف۔  اس نے اپنا چہرہ براہ راست خفیہ کیمرے کی طرف کیا اور اپنے خون آلود مکے سے اس پر دھیرے سے ضرب لگائی۔  میں فوری طور پر وہاں سے بھاگ نکلا۔ میں نے وہاں ہر چیز جوں کی توں چھوڑی اور حتیٰ کہ وکی کو بھی نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنا سامان باندھا اور ہر وہ چیز پیچھے چھوڑ دی جو میری کار میں نہیں سما سکتی تھی۔ میں دو روز تک ڈرائیونگ کرتا رہا اور اس دوران میں اپنی کار میں ہی سویا کیوں کہ اب مجھ میں کسی ہوٹل میں ٹہرنے کی ہمت نہیں تھی۔ بلآخر میں اپنے آبائی علاقے میں پہنچ گیا۔ میرے ماں باپ مجھے اچانک اور اس بری حالت میں دیکھ کر بری طرح پریشان ہو گئے؍ مگر میں نے ان کو یہ بہانہ بنا کر مطمئن کر دیا کہ میری گرل فرینڈ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے؍ اور میں اداسی سے گھبرا کر یہاں چلا آیا ہوں۔  اب تک یہاں ہر چیز معمول کے مطابق ہے۔ مجھے ایک جز وقتی ملازمت مل گئی ہے اور اب مجھے کل وقتی ملازمت کی کوئی خواہش بھی نہیں رہی ہے۔  میں یہاں ایک ریسٹورینٹ میں برتن دھونے کا کام کرتا ہوں۔ جمعے کی شب جب میری شفٹ ختم ہوئی تو میں بیئر کی مفت بوتل لے کر تھوڑی دیر کے لیے بار میں بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا تھا کہ گھر جانے سے پہلے یہاں تھوڑا سستا لوں؍ مگر ۔ ۔ ۔  بار کے کونے میں سیاہ بالوں والی ایک جانی پہچانی حسین لڑکی بیٹھی تھی۔ جب اس نے مجھے اپنی جانب گھورتے دیکھا؍ تو وہ مسکرائی اور اپنے نازک سے ہاتھ کا مکا بنا کر قریبی دیوار پر ہلکے سے دستک دی ۔ ۔ ۔ اس دستک کو سن کر میری پینٹ گیلی ہو گئی۔  سچ ہی آپ کہیں بھی چلے جائیں موت آپ کو ڈھونڈھ ہی لیتی ہے۔   

 


اس کہانی کا اگلا حصہ آ سکتا ہے