Hope and Coronavirus

مایوس نا ہوں، کورونا کی شام جلد ہی ڈھلنے والی ہے

(تحقیق وتحریر/عاصم شمس عاصؔم) انسان کو کبھی بھی امید (Hope and Coronavirus)  کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

خالق کائنات نے اپنی آخری کتاب میں فرمایا ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہو کیوں کہ رب کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔


(Hope and Coronavirus)


اگرچہ کورونا وائرس نے اس وقت دنیا میں ایک قیامت مچائی ہوئی ہے مگر یاد رکھیے انسانوں نے اُن ادوار میں کورونا سے ہزاروں گنا زیادہ مہلک وباؤں کا مقابلہ کیا ہے جب سائنس کا وجود تک نہیں تھا۔

ذرا ایک نظر سات سو سال پہلے چین سے یورپ اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں پھیلنے والے طاعون کے عفریت کو یاد کریں۔

دیکھیے

ابھی پچاس سال پہلے تک ہمارے پاس ٹی بی اور پولیو جیسے امراض کا کوئی علاج نہیں تھا مگر کیا جب تک ان کی دوا ایجاد ہوئی دنیا نہیں چل رہی تھی یا ختم ہو گئی تھی؟


(Hope and Coronavirus)


شاید ہمارا میڈیا اور بالخصوص عالمی میڈیا آج سے سو سال پہلے ہوتا تو وہاں یہ دنیا کب کی ختم ہو چکی ہوتی مگر ایسا نہیں ہے۔

فیض احمد فیضؔ نے کیا خوب کہا ہے کہ – دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے – لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے –

جی ہاں ہر شام کے مقدر میں ڈھل کر ایک نئی صبح کی راہ ہم کرنا ہی لکھا ہے اگر وقتی ناکامی ہے تو کیا ہوا آگے سحر ہی ہے۔

آئیے کورونا وباء کی یاسیت کے اس طوفان سے پھوٹتی امید کی کرنوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں مگر پہلے ایک نگاہ موجود حالات پر۔

اس وقت کورونا کی وجہ سے برطانیہ اور امریکا مکمل لاک ڈاؤن کی حالت میں ہیں۔


(Hope and Coronavirus)


اٹلی اور اسپین میں ہونے والی اموات کی تعداد انتہائی ہول ناک ہے جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں سوائے بے یقینی اور انتشار کے کچھ نہیں ہو گا جب کہ یہ ہی حال عالمی معیشت کے پہلے سے بدحال کاروبار کا ہے جو اب اس وباء کے ہاتھوں مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔

بلاشبہ حالات اس وقت اتنے مایوس کن ہیں جتنے آج سے پہلے کبھی نہیں تھے مگر ان حالات میں بھی امید کی شمعیں روشن ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

مؤقر امریکی اخبار بزنس انسائیڈر کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ حالات عارضی ہیں جو بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔

دیکھیے


Hope and Coronavirus


چین اور جنوبی کوریا میں زندگی معمول کی طرف پلٹ رہی ہے:

چین میں 6 مارچ کے بعد سے کوروناوائرس کے چند ایک ہی کیسز کی اطلاع ہے جب کہ ان متاثرین میں بھی زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو وہاں باہر سے آئے ہوئے تھے۔

آج چین میں اس وباء سے ہلاکتوں اور نئے متاثرین کی تعداد صرف 10 کیسز یومیہ تک آگئی ہے جو اس ملک کی عظیم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہوبی صوبے میں قرنطینہ کا خاتمہ ہو رہا ہے:

چین کے ہوبی نامی اُس صوبے میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے جہاں سے کوروناوائرس دنیا بھر میں پھیلا تھا جب کہ اس وباء کے مرکز ووہان شہر میں بھی 8 اپریل کو ہر قسم کی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔

فی الوقت یہاں متعدد سفری پابندیوں کو ختم کیا جا چکا ہے اور لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر جانے میں آزاد ہیں۔


کیا یہ ایک بہت اچھی خبر نہیں؟


اٹلی میں وباء کا زور ٹوٹ رہا ہے:

اٹلی میں دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ کورونا کی وباء اور اس کے ہاتھوں اموات کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

اگرچہ ڈیٹا میں معمولی نقائص ہو سکتے ہیں مگر اٹلی میں حکام کے مطابق گزشتہ جمعرات کے روز 5 ہزار 2 سو 49 نئے متاثرین سامنے آئے جب کہ 7 سو 43 اموات واقع ہوئیں۔

یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اٹلی میں اس عفریت کا اب زور ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔

اسی طرح ملک میں مجموعی طور پر انفیکشن کے پھیلنے کی رفتار دھیمی ہو چکی ہے جب کہ کچھ دن پہلے تک ایسا لگ رہا تھا جیسے اٹلی میں فطرت نے کورونا کو کھلی چُھٹّی دے دی ہے اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک وہاں ایک بھی انسان باقی ہے۔

حفاظتی اقدامات کارگر ثابت ہونے لگے:

چین، جنوبی کوریا اور اٹلی کے حالات شاہد ہیں کہ لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر وائرس کے ٹیسٹ اور حکومتوں کی جانب سے کیے گئے دیگر تیزتر اقدامات اس وباء کے سامنے کارگر ثابت ہوئے ہیں۔

اس طرح دنیا کو علم ہو گیا ہے کہ ہمارے پاس ایسے اقدامات موجود ہیں جن سے نہ صرف کورونا کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ہم انہیں استعمال کرنے پر قادر بھی ہیں۔

کورونا زیادہ سے زیادہ دو ماہ میں قابو کر لیا جائے گا:

اگرچہ فی الوقت ایسا لگ رہا ہے جیسے تمام دنیا کو ایک جیل میں بند کر دیا گیا ہے مگر فطرت کی دی گئی یہ سزا بہت مختصر ہے۔


یہ سزائے قید بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔


جی ہاں کورونا کو قابو کرنے کا ٹائم فریم زیادہ سے زیادہ دو ماہ سے کچھ زائد کا ہے۔

 کہتے ہیں ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں اور وقت اچھا ہو یا برا بہت جلد گزر ہی جاتا ہے۔

موسم بہار اور موسم گرما بہت مددگار ثابت ہوں گے:

ماہرین کے مطابق بہت زیادہ امکانات ہیں کہ آنے والا موسم بہار اور پھر شدید گرمیاں اس جرثومے کو جھلسا کر مارنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

دراصل محققین کو کچھ ایسے ثبوت ملے ہیں جن کے مطابق کوروناوائرس سخت سرد، نم اور گیلے ماحول میں ہی پنپتا ہے۔

چناں چہ جس طرح متعدد دیگر بیماریاں جیسے نزلہ اور زکام گرم موسم شروع ہوتے ہیں ختم ہونے لگتی ہیں اسی طرح یہ ہی حال کورونا کا بھی ہونے والا ہے۔

بہار مغربی ملکوں میں شروع ہوا چاہتی ہے جب کہ مشرقی ممالک جیسے پاکستان اور بھارت وغیرہ میں تیز گرمیاں شروع ہو ہی چکی ہیں۔

اس لیے زیادہ پریشان نہ ہوں سخت برا وقت غالباً گذر چکا ہے۔

ماس ٹیسٹنگ مثبت نتائج دے گی:

اگرچہ فی الوقت حکومتوں نے مریضوں اور صحت مند دونوں ہی طرح کے افراد کو لاک ڈاؤن میں رکھا ہوا ہے مگر جوں ہی بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کرنے کی سہولت میسر آتی ہے تو صرف متاثرین کو ہسپتالوں میں رکھنا ہی کافی ہو گا جس سے عام زندگی کو معمول کی جانب پلٹنے میں لمحہ بھر بھی نہیں لگے گا۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اس سلسلے میں مثبت کاوشیں جاری ہیں اور بہت جلد بریکنگ نیوز ملنے والی ہے کیوں کہ یہاں صرف لاجسٹکس کا مسئلہ حل کرنا ہے اور کسی طبی معجزے کی ضرورت نہیں۔

اس وباء کی دوا ہر صورت میں بننی ہے:

کورونا کے توڑ کے لیے ایک دو نہیں پچاسیوں کمپنیاں دن رات دوا بنانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔


کیا آپ نہیں جانتے جس کمپنی نے بھی اس وباء کی کام یاب دوا ایجاد کی اس کا نام تاریخ میں امر ہو جائے گا؟


چناں چہ تاریخی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے واضح ہے کہ مسلسل ٹیسٹنگ کے نتیجے میں سائنس دان بالآخر اس وباء کو طاعون کی طرح شکست دینے میں کام یاب ہونے والے ہیں۔

اگرچہ اس میں تھوڑا وقت ضرور لگ سکتا ہے مگر انسانیت کا مستقبل تاحال تاریک نہیں بلکہ روشن دکھائی دے رہا ہے۔

کورونا تکلیف دیتا ہے زیادہ تر جان نہیں لیتا:

خود میڈیا کے مطابق اس وائرس سے بیمار ہونے والے لوگوں کی اکثریت میں صرف معمولی علامات ہی ظاہر ہوئی ہیں۔

چناچہ متاثرین نے اگرچہ بہت تکلیف اٹھائی ہے مگر ان میں زیادہ تر تیزی سے صحت یاب ہوئے ہیں۔

دنیا ختم نہیں ہو رہی، ہم سب نہیں مریں گے:

اگرچہ اس طرح اس حقیقت کو بیان کرنا کوئی خوش گوار بات نہیں کہ آنے والے دنوں میں اموات کی تعداد انسانیت کا دل توڑ کر رکھ سکتی ہیں مگر پھر بھی ان کی تعداد اتنی نہیں ہو گی کہ معاشرے اور تہذیب کا اس طرح خاتمہ ہوجائے جس طرح ہالی وڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

دنیا چلتی رہے گی یقین رکھیے۔

معاشرے ابھی تک اسی طرح ہیں جیسے وباء سے پہلے تھے:

آپ نے ہالی وڈ کی مشہور فلم ’آئی ایم لیجنڈ‘ ضرور دیکھی ہو گی۔

مگر فلموں کے برعکس ابھی تک نہ ہی حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے، نہ معاشرے بکھرے ہیں اور نہ ہی خون آشام ’زندہ مردے‘ بچ رہنے والے انسانوں کو سڑکوں پر کھاتے پھر رہے ہیں۔

بات صرف اتنی ہے کہ ہم جدید معاشروں کے لوگ وباؤں کے فوبیا میں بہت جلد گرفتار ہو جاتے ہیں۔

مگر اس کے باوجود کیا امریکا جیسے معاشرے نے نائن الیون کا سامنا نہیں کیا؟

ہری کین کترینا، سینڈی اور 2003ء میں نارتھ ایسٹ میں ہونے والا بلیک آؤٹ سب کے سامنے ہے جہاں دنیا کی تباہی کی فلموں میں دکھائے جانے والے واقعات میں سے ایک بھی پیش نہیں آیا۔


بہترین سائنس دان دوا تیار کر رہے ہیں صرف وقت درکار ہے


لوگ ناقابل یقین ایثار اور انسانی مدد کا مظاہرہ کر رہے ہیں:

لندن جیسے بے پرواہ شہر میں اس وقت برطانوی نوجوان ہزاروں کی تعداد میں تنہا رہنے والے ضعیف شہریوں کو رضاکارانہ طور پر کھانا اور ضرورت کا دوسرا سامان مسلسل فراہم کر رہے ہیں۔


چناں سامنے کی بات ہے کہ اس بحران نے ایثار اور انسانیت کو جنم دیا ہے خانہ جنگی کو نہیں- کیا یہ اپنے آپ میں خود ایک معجزہ نہیں؟


بزنس انسائیڈر کے مطابق جب تک ہمارے سینوں میں انسانیت زندہ ہے ہم کورونا جیسی دس وباؤں کا سامنا کرتے رہیں گے اور یہ ہی تو امید کی سب سے روشن شمع ہے۔

بقول نریش کمار شاد – اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو – ممکن نہیں کہ شامِ الم کی سحر نہ ہو۔