Horror in Urdu Reddit

لانڈری روم

مجھے اپنے اپارٹمنٹ کے گیراج سے ایک جرنل ملا ہے جس میں سے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں:
.
تین جنوری:
.
جب سے تم میری اوپر والی منزل میں منتقل ہوئی ہو میں تمہیں روز دیکھتا ہوں۔ تم روزانہ صبح 6 بجے بیدار ہوتی ہو اور پھر سوا 7 بجے کام پر باہر چلی جاتی ہو۔ مجھ میں ابھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ تم سے اپنا تعارف کرائوں۔ تمہارا حسن مسحور کن ہے اور تم نے میرے دل و دماغ پر قبضہ کر لیا ہے۔
.
پانچ جنوری
.
تم اپارٹمنٹ سے دو بلاک دور ایک کافی شاپ میں کام کرتی ہو۔ کبھی کبھار میں کافی شاپ کے سامنے سڑک پار بنے پیزا ہائوس چلا جاتا ہوں تا کہ وہاں شیشے کے پار تمہاری خوب صورتی کو دیکھ سکوں۔ تم عام طور پر 9 بجے گھر آ جاتی ہو۔
.
آٹھ جنوری
.
میں نے تمہیں اپنے جذبات سے آگاہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ میں اب تصور کر سکتا ہوں کہ میں تمہیں اپنے جذبات کس طرح بتائوں گا۔ مجھے یقین ہے جب میں تمہاری تعریف کروں گا تو تمہیں بہت خوشی ہو گی۔ ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کی طرف ان نظروں سے دیکھا جائے؛ جس طرح میں تمہیں دیکھتا ہوں۔ اے حسن کی دیوی میں تیری پرستش کرتا ہوں!
.
اٹھارہ جنوری
.
اب میں نے حوصلہ کر لیا ہے۔ آج تم ہفتے بھر کا سامان لینے اسٹور جائو گی اور میں وہیں تم سے ملاقات کروں گا۔
.
گزشتہ چھ ماہ سے تمہیں مسلسل دیکھنے کے بعد تمہاری خوب صورتی کا ایک ایک پہلو میری نظروں میں سما چکا ہے۔ میں نے تم سے اپنا تعارف کروایا اور تمہیں بتایا کہ میں تمہارے بارے میں کس قدر جانتا ہوں اور کس طرح تمہیں ہر روز دیکھتا رہا ہوں؛ مگر مجھے بہت حیرانی ہوئی کیوں کہ میری باتوں کا تم پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا بلکہ تم نے مجھے ایک ذہنی مریض قرار دیا۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا؛ مگر تمہارے رویے نے میرے دل کو فگار کر دیا۔
.
انیس جنوری
.
میں نے تو تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ایک ایک بات کا تعین کر لیا تھا۔ ہماری پہلی ملاقات سے لے کر ان دنوں تک کا سوچ لیا تھا جب ہمارے بچے اسکول جایا کریں گے۔ میں تمہیں ابھی بھی بہت پیار کرتا ہوں اس لیے تمہیں ایک اور موقع دے رہا ہوں۔ میں تمہیں ہر صورت بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اپنی زندگی میں پا کر تمہیں کتنی خوشی ہو گی۔ مگر مجھے دوبارہ حوصلہ کرنے کے لیے ایک یا دو دن اور چاہییں۔
.
اکیس جنوری
.
میں نے آج تمہیں کافی شاپ جا کر اپنے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا کہہ کر حیران کرنے کی کوشش کی؛ مگر تم پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ تم نے مجھے بار بار ایک ذہنی مریض کہا۔ رات نو بجے جب تم حسب معمول اپارٹمنٹ کے ہال میں داخل ہوئیں تو میں نے تمہیں پیچھے سے ضرب لگائی جس کے لیے میں نہایت معذرت خواہ ہوں۔
.
بائیس جنوری
.
ڈارلنگ میں تمہیں کوئی چوٹ نہیں دینا چاہتا تھا۔ اب تم میرے کمرے میں ہو اور یہاں میں تمہیں تمہارے زخموں پر دوا لگانے کے لیے لایا ہوں؛ مگر تم پریشان نہ ہو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہارا بہت اچھی طرح خیال رکھوں گا اور پھر تمہیں میری چاہت کی گہرائیوں کا اندازہ ہو گا۔
.
تیئس جنوری
.
آج تم نے اپنے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی۔ اس وقت آیک آدمی راہ داری میں کھڑا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ تمہاری آواز سنے۔ وہ تمہیں مجھ سے جدا کر دیتا۔ میں نے تمہاری چیخیں دبانے کے لیے تمہارے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ شاید میرا ہاتھ کچھ زیادہ ہی سخت ہو گیا کیوں کہ چند منٹ بعد تمہارا مردہ جسم میری بانہوں میں تھا۔
.
میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ تم ایک جگہ بیٹھی رہو اور میں تمہیں نوالے دیتا رہوں۔ اب میرا دل بری طرح ٹوٹ چکا ہے۔
.
پچیس جنوری
.

کچھ دنوں تک اپنے فلیٹ پر ماں کے پیٹ میں کسی بچے کی طرح پڑے رہنے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ پہلے میں نے تمہارے جسم کو غسل دیا اور اس کے بعد میں نے تمہارا دھڑ چاک کر دیا۔
.
میں نے یہ کام تمہارے معدے سے شروع کیا اور یکے بعد دیگرے تمہارے تمام اعضا باہر نکال لیے۔
.
تمہارے حسن باطنی نے میری آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔
.
میں نے تمہارے ایک دو اعضا تو اسی وقت کھا لیے تا کہ تم ابدی طور پر میرے وجود میں سما جائو۔ اس کے بعد میں نے تمہارے سارے جسم کو خالی کیا؛ اسے دوبارہ دھویا اور پھر تمہیں تاگے سے سی کر پہلے جیسا کر دیا۔
.
چھبیس جنوری
.
میں تمہاری پسندیدہ شاپ سے تمہارے لیے کپڑے لے کر آیا۔ تمہارا حسن ان کپڑوں میں کھل کر ایک گلاب لگ رہا تھا۔
.
تیس جنوری
.
ہم دونوں پہاڑوں پر واک کرنے تمہاری پسندیدہ جگہ گئے؛ مگر نہ جانے کیوں جب ایک عورت نے ہمیں دیکھا تو وہ چیختی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی۔
.
اکتیس جنوری
.
تم مکمل طور پر گل چکی ہو۔ شروع میں میں اس خوش بو کا دیوانہ تھا؛ مگر یہ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ میں نے تمہیں ایک نیا ڈریس پہنایا اور تمہیں ایک گڑھے میں رکھ دیا۔ یہ گڑھا ہمارے اپارٹمنٹ کے تہہ خانے میں کپڑے دھونے کے کمرے کے نیچے ہے جہاں میری زندگی کی دوسری محبتیں پوشیدہ ہیں۔ ۔ ۔
.
مجھے یقین ہے تمہیں ان دوسری عورتوں سے رقابت و جلن کا احساس نہیں ہو گا؛ کیوں کہ تم مجھے ان میں سب سے زیادہ عزیز تھیں۔
.
ختم شد