Horror Story in Urdu

قاتل صندقچی

صندوقچی میرے پا نے میرے لیے ورثے میں لکڑی کی ایک نہ کھلنے والی صندقچی چھوڑی تھی۔ وہ ایک عام سا بکس تھا۔ یہ بکس جس لکڑی سے بنا تھا وہ بہت قدیم اور سال خوردہ تھی۔ اس کے قبضے پیتل کے تھے جب کہ اس کے ڈھکنے پر چاندی سے ایک نمائشی علامت بنی ہوئی تھی۔ عدالت سے پھانسی کی سزا سننے کے بعد میرے پا نے اسے میرے نام وصیت کر دیا البتہ انہوں نے لکڑی کے اس پر اسرار بکس کے بارے میں مجھے اور کچھ نہیں بتایا۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں اسے دریا میں پھینک کر اس سے اپنی جان چھڑالوں کیوں میں اپنے پاس اپنے باپ کی کوئی نشانی نہیں رکھنا چاہتا تھا جس نے اپنے اکلوتے بیٹے یعنی مجھے چھوڑ کر جرائم کے راستے اپنا لیے تھے۔ مگر جلد ہی مجھ پر تجسس غالب آ گیا اور میں اس بکس کا راز پانے کے لیے بے چین ہونے لگا مگر اس بکس کو کھولنا نہایت مشکل ثابت ہوا اور قبضے توڑنے کی کوشش میں میری انگلیاں زخمی ہو گئں اور کئی ناخن بھی ٹوٹ گئے تا ہم اس نے کسی طور کھل کر نہ دیا۔ اس بکس پر نہ ہی پیچ کسوں نے کام دکھایا اور نہ ہی ہتھوڑے اپنا لوہا منوا سکے اور جب میں نے اس میں ڈرل مشین سے سوراخ کرنے کی کوشش کی تو ڈرل کا موٹر جل گیا مگر اس ڈبے نے نہ کھلنا تھا اور نہ ہی کھلا۔ چناں چند دن بعد میں نے یہ سوچ کر ہار مان لی کہ اس ڈبے کو کھولنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ اس ڈبے میں جو کچھ بھی ہے وہ میرے کسی کام کا نہیں اور میں نے اسے اپنے ذہن سے محو کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس ڈبے کو بھلانا آسان ثابت نہیں ہوا اور ایک رات جب میں بے خبر سو رہا تھا تو یہ ڈبا خود بہ خود کھل گیا۔ جب میری اچانک کھلی تو کمرے میں ایک نق رئی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور خنکی کا وہ عالم تھا کہ اس کی کہر نے ہر آواز کے وجود کو فنا کردیا تھا۔ جب میں اٹھ کر بیٹھا تو مجھے لگا جیسے میں اپنے کمرے میں نہیں بلکہ کسی اجنبی جگہ ہوں۔ یہ جگہ اگر چہ میرے کمرے ہی جیسی تھی مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ میرا نہیں بلکہ کسی اور کا گھر ہے۔ وہ نق رئی روشنی میری الماری کے نیچے سے پھوٹ رہی تھی۔ اس روشنی میں ہر چیز غیر حقیقی محسوس ہوتی تھی اور چاروں طرف عجیب طرح کے سائے بکھرے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ وہ سانپوں کی طرح رینگ رہے ہیں۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ خاموشی سے الماری کی جانب بڑھا۔ میں نے اس کے دروازے کے ہینڈل پر اپنا ہاتھ رکھا جو برف کی طرح یخ ہو رہا تھا۔ پھر میں نے ہمت کی اور ایک گہری سانس لے کر الماری کا دروازہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ دروازے کے عقب میں وہ ہی بکس رکھا تھا۔ اس کے قبضے کھلے پڑے تھے اور اس کے اندر سے نہایت تیز اور سرایت کن روشنی خارج ہو رہی تھی۔ میری آنکھیں اس روشنی سے چندھیا گئیں۔ روشنی اتنی تیز تھی کہ مجھے لگا جیسے میری آنکھیں جل جائیں گی مگر میں اس بکس پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا سکا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں دھیرے دھیرے ایک لا متناہی نق رئی سمندر میں ڈوب کر اس میں فنا ہو رہا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میرا وجود اس بکس میں فنا ہو جاتا وہ ڈوبہ اچانک بند ہو گیا۔ ہوش حواس بحال ہونے پر می نے دیکھا کہ میں اس وقت زمین پر پڑا تھا اور میرا پسینے میں بھیگا رخسار ڈبے کی سرد اور نا ہم وار لکڑی پر رکھا ہوا تھا۔ میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ وہ پر اسرار نق رئی روشنی غائب ہو چکی تھی اور میرا کمرا فی الواقع میرا ہی کمرا تھا مگر ابھی بھی کچھ نہ کچھ پر اسراریت ضرور باقی تھی۔ میرا وہ رخسار جس نے لکڑی کے بکس کو چھوا تھا ایک شدید درد کے ساتھ تھرک رہا تھا۔ میں نے باتھ روم میں جا کر لائٹ آن کی اور آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر میری سانس سینے میں تھم گئی۔ اس ڈبے کے ڈھکنے پر بنا چاندی کا نمائشی نشان میرے داہنی رخسار پر اس طرح کھدا ہوا تھا جیسے میرے گال کو اسے گرم کر کے اس سے داغا گیا ہو۔ میں نے اسے ہاتھ سے چھو کر دیکھنا چاہا مگر اس سے پہلے کہ میری انگلیاں اسے چھو پاتیں وہ نشان میرے گال سے غائب ہو گیا مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے وجود میں کوئی نا پاک شے سما کر میرے ذہن کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجھے لگا جیسے کسی نے میرا وقت چرا لیا ہے۔ میرے کپڑے خون میں لتھڑے ہوئے تھے مگر اس کیفیت سے زیادہ میرے لیے اس وقت ایک اور بات پریشان کن ہے۔ گزشتہ روز میرے وکیل نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی وصیت میں کیوں ترمیم کی ہے۔ وہ اس بات پر حیران تھا کہ میں نے مرنے کے بعد اپنے بیٹے کے نام لکڑی کا ایک کبھی نہ کھلنے والا بکس کیوں وصیت کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ختم شد


یہ ایک پیراڈاکس ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے یہ شیطانی بکس سینکڑوں صدیوں سے اس خاندان میں اسی طرح چلا آرہا ہے جس کے نتیجے میں اس خاندان کے کم از کم ایک شخص کو قتل و غارت گری کی راہ پر چلنا ہی ہوگا