Horror Story Weird Hoarders

انوکھا کباڑی

میں آپ کو کچھ عجیب اور پر اسرار واقعات کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ چوں کہ میں قانونی طور پر کسی کا نام یہاں تحریر نہیں کر سکتا اس لیے اصل نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ میں کباڑیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کرتا ہوں جو 6 افراد پر مشتمل ہے تا ہم کام کی نوعیت کے حساب سے اس تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ ہم دن میں کم از کم 10 اپارٹمنٹس سے پرانا سامان نکالتے ہیں۔ اس کام میں بوریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔  گزشتہ ہفتے میرے ذمے سپرد ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس کے ایک فلیٹ میں رہنے والے کرائے دار کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا جس کی بیوی کا کئی سالوں پہلے اسے داغ مفارقت دے چکی تھی اور اس کی کوئی اولاد یا رشتے دار بھی نہیں تھے۔ دیگر فلیٹوں سے فالتو سامان نکالتے وقت میری اس پر نظر پڑتی رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ مجھ دیکھ کر ٹہر جاتا تھا اور ہیلو کہنے کے بعد میرے اور میری ٹیم کے ساتھ تھوڑ ی بہت شراب نوشی ضرور کرتا تھا۔ کبھی کبھار ہم اپنے جمع کردہ فالتو سامان میں سے کوئی نہ کوئی چیز اٹھا کر اسے دے دیا کرتے تھے۔ اس کا نام برنز تھا اور جب ہمیں اس کی موت کا پتہ چلا تو ہم سب نے اداسی محسوس کی۔ برنز نے مرنے سے پہلے تحریر میں ہدایت چھوڑی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کا فلیٹ فوری طور پر خالی کروایا جائے۔ ظاہر ہمارے علاوہ اور کس نے یہ کام کرنا تھا۔ جب میں اپنی ٹیم کے ساتھ اس کے فلیٹ میں داخل ہوا تو ہم نے دیکھا کہ پورا فلیٹ کاٹھ کباڑ سے ٹھنسا ہوا تھا۔ ہر طرف پرانے اخبارات، صندوقوں اور اسی طرح کی دیگر اشیا کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور حالت یہ تھی کہ ہمیں آدھا سامان نکالنے ہی میں پانچ دن لگ گئے۔ پانچ دن بعد ہم اس کے بیڈ روم میں داخل ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ کمرے میں اور کمرے سے لے کر باتھ روم تک ہڈیاں ہی ہڈیاں بچھی ہوئی تھیں اور ہڈیوں کا یہ ڈھیر ہمارے گھٹنوں تک اونچا تھا مگر باتھ روم تک جانے کے لیے ان ہڈیوں میں ایک ’پگ ڈنڈی‘ سی بنی ہوئی تھی۔ یہ ہڈیاں زیادہ تر جانوروں کی تھی۔ کتے، بلیوں، چوہوں اور نہ جانے دوسرے کتنے جانوروں کی ہڈیاں۔ مگر ان میں کچھ ہڈیاں انسانوں کی بھی تھیں ۔ ۔ ۔ ہر ہڈی پر دانتوں سے کاٹنے کے نشانات پڑے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہر چھوٹی بڑی ہڈی کو اچھی طرح چبانے کے بعد یہاں پھینکا گیا ہو۔ میرا ایک ساتھی ڈیوس اسی وقت پولیس کو کال کرنا چاہتا تھا، مگر ہم نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔ ہم سب بے شک خوف زدہ تھے مگر ہمیں پتہ تھا کہ اگر ہم نے پولیس کو طلب کیا تو ہمیں اس بارے میں مکمل معلومات نہیں مل سکیں گی۔ اس لیے ہم نے اپنی تلاش جاری رکھی۔ کچھ دیر بعد ہمیں ایسے مرتبان ملے جو دانتوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ مرتبان برنز کے بستر تلے رکھے تھے اور ہر مرتبان پر تحریر تھا کہ یہ دانت کس جانور کے ہیں۔ مگر ایک مرتبان پر لگے لیبل پر لفظ ’بیوی‘ تحریر تھا اور ہم نے پوری بتیسی کا اندازہ کرنے کے لیے ان دانتوں کو گن کر دیکھا۔ ’برنز دیکھنے میں کتنا اچھا انسان تھا‘ ڈیون نے خاموشی سے کہا۔ میں اس کی آواز سن کر خوف سے اچھل پڑا کیوں کہ فلیٹ میں موت کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہاں کہیں بھی ائر کنڈیشنر نصب نہیں تھے اور اسی طرح کوئی ٹیلی فون، ٹی وی یا ریڈیو بھی موجود نہیں تھا بلکہ حیرت کی بات یہ تھی کہ بجلی کے تمام ساکٹ سپر گلیو کے ذریعے بند کر دیے گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔  اس کے بعد ہم نے پولیس کو کال کی جس نے فلیٹ سے انسانوں کے مردہ جسم برآمد کیے۔ چار بالغ افراد اور تین بچوں کی لاشیں۔ ۔ ۔ یہ لاشیں مختلف قومیت کے افراد کی تھیں اور ان کی عمریں بھی مختلف تھی۔ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ان لاشوں میں ایک لاش اس لڑکی کی تھی جس کی تلاش کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ میں اب اپنا کام جاری رکھ سکوں گا یا نہیں۔ اس کام میں کمائی تو خوب ہوتی ہے مگر اس واقعے کے بعد میرا دل اس کام سے اٹھ سا گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر میں نے یہ کام جاری رکھا تو مجھے اس سے زیادہ بھیانک چیزیں دیکھنے کو ملیں گی کیوں کہ یہ امریکا ہے۔ ۔ ۔ میں کچھ عرصے کے لیے چھٹیاں منائوں گا البتہ وقت ملنے پر میں آپ کو مزید بتائوں گا کہ میں اور میری ٹیم مزید کیسے کیسے ہیبت ناک مناظر دیکھ چکے ہیں اس لیے آپ با قاعدگی سے نیرنگ کا مطالعہ کرتے رہیں۔ جلد ملاقات ہو گی۔  

 

ختم شد