How Ammonium nitrate devastated a city in Lebanon

اک پل میں شہر کا شہر کھا جانے والا خوفناک عفریت

لبنانی حکام کے مطابق ساڑھے ستائیس سو ٹن امونیم نائیٹریٹ نامی کیمیائی مادہ بیروت دھماکوں کی وجہ بنا۔

بیروت میں ہونے والے دھماکا اتنا شدید تھا کہ دو سو کلومیٹر سے زائد فاصلے تک سنا گیا، جب کہ اس دھماکے کی وجہ سے ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ وسیع تر علاقے میں عمارات اور دیگر ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ سوال یہ ہے کہ امونیم

نائیٹریٹ کیسا کیمیائی مادہ ہے؟ اور ماہرین اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

حزب اللہ کے خلاف تفتیش اور امونیم نائٹریٹ: جرمن حکام کو اطلاع ملی تھی

بارودی مواد: جتنا چاہے لیجیے

امونیم نائیٹریٹ صنعی شعبے میں استعمال ہونے والا کیمیکل ہے، جو عموماﹰ کھاد کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کان کنی میں دھماکا خیز مواد کے طور پر بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اگر اسے مناسب انداز سے ذخیرہ کیا جائے اور دیگر کیمیائی مادوں کی آمیزش سے بچا لیا جائے تو عام طور پر یہ ایک محفوظ مادہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ایدھن کے ساتھ رکھنے یا غیرمحفوظ انداز سے ذخیرہ کرنے کی صورت میں یہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

امونیم نائیٹریٹ کی بہت بھاری مقدار کو اگر بہت زیادہ حدت میں رکھا جائے تو یہ کیمیائی مادہ پھٹ سکتا ہے۔ اگر اسے بڑے فیول ٹینکس کے قریب ذخیرہ کیا جائے، تو یہ زوردار دھماکے کا باعث بن سکتا ہے۔ جتنی زیادہ مقدار ہو گی، اس کے پھٹنے کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا۔

دھماکا خیز مواد تلف کرنے سے تعلق ایک برطانوی کمپنی سے مینیجنگ ڈائریکٹر رولینڈ الفرڈ کے مطابق بیروت میں ہونے والا دھماکا اتنا شدید تھا کہ اسے عام دھماکوں کے مقابلے میں بڑا کہنے کی بجائے جوہری دھماکے کے مقابلے میں چھوٹاکہنے کا پیمانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید انسانی تاریخ کا یہ سب سے بڑا غیرجوہری دھماکا تھا۔

ماہرین کے مطابق دھوئیں کے رنگ اور ‘مخصوص چھتری نما بادل‘ واضح کرتا ہے کہ منگل کے روز ہونے والے دھماکا امونیم نائیٹریٹ ہی کا تھا۔

فلنڈرز یونیورسٹی کے شعبہء تجزیاتی کیمیائی اور ماحولیات سے وابستہ ماہر سٹیورٹ والکر کا مطابق، ویڈیو فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابتدا میں سفید اور سرمئی دھواں برآمد ہوا تھا اور پھر بہت بڑا چھتری نما بادل بند گیا۔ یہ امونیم نائیٹریٹ پھٹنے سے بننے والی گیسوں کا اشارہ دیتا ہے، ان میں پانی، سفید اور سرخ نائیٹروس آکسائیڈ اور زہریلا دھواں شامل تھا۔

وہ مزید کہتے ہیں، ”اگر آپ امونیم نائیٹریٹ کو بہ طور دھماکا خیز مواد استعمال کریں، تو آپ کو بھورا رنگ نظر نہیں آتا۔ فوٹیج میں  آکسیجن کی بے توازنی دکھ رہی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ کسی بھی دھماکا خیز مواد سے آمیزہ نہیں ہوئی تھی۔ ”بیروت کا دھماکا بہ ظاہر ایک حادثہ ہے، تاہم دانستہ جرم کا خدشہ موجود ہے۔‘‘