(Purisrar Radio Nashriyat)

دیوار سے ریڈیو سنائی دینے لگا، ماہرین انگشتِ بدنداں

کیا آپ نے کبھی دیواروں سے (Purisrar Radio Nashriyat) پراسرار ریڈیو نشریات سنی ہیں۔

 پراسرار قلعوں، مکانوں اور قبرستانوں وغیرہ سے ’نامعلوم‘ آوازیں سنائی دینے کی کہانیاں تو صدیوں سے دنیا میں عام ہیں لیکن امریکی ریاست الینوائے میں ماہرین اور سائنس دان اس وقت انگشتِ بدنداں رہ گئے جب ایک گھر کے کمرے کی دیواروں سے تاحال ناقابلِ وضاحت ریڈیو نشریات سنائی دینے لگیں۔


خیال رہے کہ خواہ آپ کسی ریڈیو اسٹیشن یا اس کے ٹاورز کے برابر ہی میں رہائش پذیر کیوں نہ ہوں آپ کبھی بھی سائنسی طور پر اس وقت تک نشریات نہیں سن سکتے جب تک آپ کے پاس ریڈیو کی لہروں کو وصول کر کے انہیں آواز میں بدلنے کا آلہ یعنی ریڈیو نہ ہو جس کا 1895ء میں اطالوی موجود مارکونی نے پہلی بار کام یاب تجربہ کیا تھا۔


(Purisrar Radio Nashriyat)

Credit – SparkFun Electronics


مگر ماہرین کی حیرت اس وقت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی جب امریکی ریاست الینوائے کے علاقے لوک پورٹ میں رہائشی ایک فیملی نے پولیس کو اطلاع دی کہ ان کی نو سالہ بیٹی برائنا اسمتھ کے کمرے کی دیواروں سے ناقابلِ وضاحت طور پر(Purisrar Radio Nashriyat) اے ایم ریڈیو کی نشریات ہلکی موسیقی کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں جب کہ پُراسرارتر پہلو یہ ہے کہ یہاں سنائی دینے والے ٹاک شوز میں زیادہ تر حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے۔

برائنا اسمتھ نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’نشریات‘ اس کے لیے دردِسر بن گئی ہیں۔


’میرے کمرے کی دیواروں سے ریڈیو نشریات سنائی دیتی رہتی ہیں اور میں نہیں جانتی کہ اس کا سبب کیا ہے؟‘ – برائنا اسمتھ


برائنا کے والد رچرڈ اسمتھ کے مطابق تلاشی لینے پر کمرے یا گھر کی دیوار سے کہیں بھی کسی قسم کے اسپیکروں کا سراغ نہیں ملا جب کہ یہ آوازیں صرف برائنا کے بیڈروم کی دیوار تک ہی محدود ہیں اور انہیں ابھی تک گھر میں کہیں اور نہیں سنا گیا۔

انہوں نے بھی تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی سائنسی واسطے کے ان (Purisrar Radio Nashriyat) نشریات کا سنائی دینا ممکن نہیں۔


مگر ٹہریے اس کہانی میں حیرت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اے ایم نشریات غالباً روزِاوّل سے ہی ’سازشی نظریات‘ کا محور بنی رہی ہیں اور ان ریڈیائی لہروں کے ساتھ متصدقہ ناقابلِ وضاحت واقعات موجود ہیں جن کا آج تک سائنس کوئی جواب نہیں دے پائی۔


اے بی سی نیوز کے مقامی تفتیشی رپورٹر جیسن نوئلز نے اس امر کی تحقیق کے لیے اسمتھ فیملی کے گھر کا جائزہ لیا اور اس دوران برائنا کے والد کے ساتھ انہوں نے کمرے کی دیواروں سے پھوٹتی جو نشریات سنیں ان میں ایک عیسائی مذہبی مبلغ کسی کی صحت یابی کے لیے دعاگو تھا۔

رپورٹر کے مطابق یہ آواز تمام کمرے میں دھیمے انداز میں گونجتی ہوئی سنائی دے رہی تھی اور اس وقت رات کا ڈیڑھ بجا تھا۔


(Purisrar Radio Nashriyat)

Credit – The Guardian


خبررساں ادارے کے مطابق رچرڈ نے ان ’پُراسرار نشریات‘ کے بارے میں دو مرتبہ مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی ہے۔ پہلی رپورٹ میں انہوں نے دیوار سے ہلکی موسیقی اور مہین آوازوں کے سنائی دینے کی شکایت کی تھی جب کہ دوسری رپورٹ میں انہوں نے اے ایم 1160 نامی ایک کرسچیئن ریڈیو کے لیے بنائے گئے اشتہار کو سننے کا تذکرہ کیا۔ یہ ریڈیو سیلیم میڈیا گروپ کی ملکیت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مگر ان تمام تر معلومات کے باوجود ماہرین اس بات کی کوئی بھی سائنسی توجیہ پیش کرنے سے قاصر ہیں کہ آخر اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات اس گھر کی دیواروں سے بغیر کسی سائنسی واسطے کے کس طور سنائی دے رہی ہیں۔

دوسری طرف پولیس کے پاس شکایات درج کرائے جانے کے بعد سیلیم میڈیا گروپ نے اپنے انجینیئرز کو اس پُراسرار معاملے کی تفتیش کے لیے فوری طور پر اسمتھ کے گھر بھیجا تاہم ان انجینیئرز نے تمام تر جائزہ لینے کے بعد رپورٹ میں کہا کہ وہ نہیں جان سکے کہ اس گھر میں کیا چیز ہے جو اسپیکر کا کام کر رہی ہے اور یہ کہ وہ اس معاملے پر کوئی بھی سائنسی رائے دینے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔


کیا یہ سچ نہیں کہ آج اکیسویں صدی میں بھی اے ایم ریڈیو کو ایک پُراسرار آلہ تصور کیا جاتا ہے؟


کچھ ماہرین کے بقول چوں کہ اسمتھ فیملی کا گھر ریڈیو ٹاور کے نزدیک ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ گھر میں موجود کوئی دھات ریڈیو سگنلز کو موصول کر کے انہیں آواز کی لہروں میں تبدیل کر رہی ہو مگر یہ ایک نہایت ہی دور کی کوڑی ہے جس کا آج تک سائنسی طور پر مشاہدہ نہیں کیا گیا ورنہ ظاہر ہے ریڈیو نشریات سننے کے لیے کبھی بھی ریڈیو ایجاد کرنے اور پھر مہنگے داموں خریدنے کی نوبت نہیں آتی کیوں کہ دھات کے ٹکڑے تو غالباً ہر گھر میں موجود ہوتے ہی ہیں۔

دوسری طرف اسمتھ فیملی کا کہنا ہے کہ تمام تر حربے آزمانے کے باجود یہ پُراسرار نشریات ان کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کبھی لگتا ہے کہ کسی موسم میں ان کا خاتمہ ہو گیا ہے مگر پھر جیسے ہی اگلا موسم آتا ہے یہ ’نشریات‘ پھر جوں کی توں شروع ہو جاتی ہیں۔

کیا ایسا نہیں کہ جو لوگ روزِاوّل سے اے ایم ریڈیو کی ’پُراسراریت‘ پر یقین رکھتے ہیں یہ ثابت شدہ واقعہ بھی اس امر کی تصدیق کر رہا ہو کہ واقعی کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کیوں کہ اس معاملے پر سائنسی حلقوں کی خاموشی ناقابلِ فہم ہے۔