In Defiance Of ‘Hopeful’ Vaccines’ Promise Coronavirus Mutates Hopelessly
نقطۂ نظر - جامِ جہاں نما - جولائی 2, 2020

’امیدافزا‘ ادویات کے سامنے وائرس کی تقلیب پذیری

امریکہ کی دوا ساز کمپنی ‘فائزر’ اور جرمن فرم ‘بایو این ٹیکنے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ایک نئی ممکنہ ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہیں ان کے جسم میں ایک ماہ کے اندر اینٹی باڈیز کی سطح، شفایاب ہوجانے والے مریضوں کے خون جتنی یا اس سے بھی زیادہ پائی گئی۔

یہ آزمائش مختصر پیمانے کی تھی جس میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 45 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا۔ ان افراد نے انجکشن کی جگہ پر درد اور ہلکے بخار کی شکایات بیان کیں جو ویکسین تجربات میں معمول کے اثرات تھے۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مدافعتی ردعمل کتنا عرصہ رہے گا اور انسانوں کو وائرس سے تحفظ کے لیے کس سطح کی قوت مدافعت درکار ہوگی۔

فائزر اور بایو این ٹیک کرونا وائرس کی چار ممکنہ ویکسینز پر کام کررہی ہیں۔ بدھ کو جس ویکیسن کے بارے میں بتایا گیا اس کا نام بی این ٹی 162 بی ون ہے اور باقی تینوں ممکنہ ویکسینز کے مقابلے میں اس پر زیادہ پیشرفت ہوچکی ہے۔

تحقیق کرنے والے ابتدائی ڈیٹا دیکھ کر بہتر ممکنہ ویکسین کا انتخاب کریں گے اور اس کی مقدار طے کرنے کے بعد وسیع پیمانے پر آزمائش کریں گے جس میں 30 ہزار افراد کو شامل کیا جائے گا۔

اگر اس منصوبے کی منظوری مل گئی تو اگلی آزمائش اسی مہینے کے آخر میں شروع کی جاسکتی ہے۔

فائزر اور بایو این ٹیک کا کہنا ہے کہ وہ سال کے آخر تک ویکسین کی 10 کروڑ اور 2021 کے آخر تک ایک ارب 20 کروڑ خوراکیں بناسکتے ہیں۔

اسی ممکنہ ویکسین کی جرمنی میں آزمائش کے نتائج وسط جولائی میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے ویکسین ڈویلپمنٹ ٹریکر کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کی کم از کم 25 ممکنہ ویکسینز کی انسانوں پر آزمائش جاری ہے۔ ان میں موڈرنا، کین سینو بایولوجکس اور اینوویا فارماسیوٹیکلز کی ممکنہ ویکیسنز کے نتائج زیادہ حوصلہ افزا ہیں۔ ابھی تک کسی ویکسین کے تجارتی استعمال کی منظوری نہیں دی گئی۔

اس بات کو چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں کہ جب عالمی ادارہ صحت کو چین میں نمونیہ کیسز کے پراسرار اضافے کی اطلاعات ملی تھیں۔ تب سے اب تک دنیا بھر میں کوویڈ نائنٹین کے ایک کروڑ سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔

امریکہ کے شہر شکاگو میں کرونا وائرس کے اولین کیسز جنوری میں ظاہر ہوئے تو ان کی جینیاتی صورت ویسی تھی جیسی چند ہفتے پہلے چین میں جنم لینے والے جرثومے کی۔

لیکن جب ڈاکٹر ایگون اوزر نے مقامی مریضوں کے نمونے جانچنا شروع کیے تو انھیں معلوم ہوا کہ وائرس کا جینیاتی ڈھانچہ تبدیل ہوا ہے۔

ایگون اوزر نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ وائرس میں بار بار تبدیلی ہورہی ہے۔ اس تبدیل شدہ صورت کا تعلق یورپ اور نیویارک میں پھوٹنے والی وبا سے تھا اور اس نے آخرکار شکاگو کو لپیٹ میں لے لیا۔ مئی تک ایگون اوزر نے جتنے نمونے جمع کیے، ان میں سے 95 فیصد میں وہی تبدیل شدہ وائرس پایا گیا۔

ایک نظر دیکھنے سے یہ تبدیلی غیر اہم لگتی ہے۔ وائرس کی سطح پر ایک پروٹین کو بنانے میں 1300 امینو ایسڈز استعمال ہوتے ہیں۔ تبدیل شدہ وائرس میں ان میں سے صرف ایک یعنی نمبر 634 کی جینیاتی ہدایات پر فرق پڑا ہے۔ اس وجہ سے اسپارٹک ایسڈ یا ڈی بدل کر گلیسین یا جی میں بدل گیا ہے۔

لیکن اس کا مقام اہم ہے کیونکہ یہ تبدیلی جینوم کے اس حصے میں ہوئی ہے جہاں اہم ترین اسپائیک پروٹین کی معلومات ذخیرہ ہوتی ہے۔ یہ وہ ڈھانچہ ہے جو کرونا وائرس کو تاج جیسی صورت دیتا ہے اور اسے نقب لگانے والے چور کی طرح انسانی خلیوں میں گھسنے کی اجازت فراہم کرتا ہے۔

عام ہوجانے والا وائرس اسی تبدیل شدہ صورت کا ہے۔ دنیا بھر میں تحقیق کرنے والوں نے مشترکہ ڈیٹابیس میں جو 50 ہزار نمونے جمع کیے ہیں ان میں سے 70 فیصد اسی تبدیل شدہ وائرس کے ہیں۔ اس کا پورا ڈی 614 جی ہے لیکن سائنس داں اسے صرف جی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

نمونہ جی نے صرف شکاگو کو لپیٹ میں نہیں لیا، یہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اب سائنس دان جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔

کم از کم چار لیبارٹریوں میں ہوئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ تبدیلی کے بعد وائرس کے پھیلنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ ان نتائج کا ابھی سینئر ماہرین نے جائزہ نہیں لیا۔ لاس ایلاموس نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں کی ایک تحقیق کے مطابق جو مریض جی نمونے کا شکار ہوئے، ان کے جسم میں وائرس کی زیادہ تعداد پائی گئی اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ زیادہ لوگوں میں اسے پھیلا سکتے ہیں۔ یہ تحقیق ابھی شائع نہیں ہوئی۔

تبدیل شدہ وائرس کے بارے میں یہ نہیں لگتا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بیمار کررہا ہے لیکن سائنس دان اس بارے میں فکرمند ہیں کہ اس تبدیلی سے وائرس زیادہ تیزی سے پھیلنے کے قابل ہوگیا ہے۔

اسکرپس ریسرچ کے وائرولوجسٹ اور جی نمونے پر تحقیق کرنے والی ہائریون کو کہتی ہیں کہ وبا پر تحقیق اور ہمارے ڈیٹا پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نمونہ جی کا وائرس کیوں یورپ اور امریکہ میں بہت زیادہ تیزی سے پھیلا۔ ایسا حادثاتی طور پر نہیں ہوا۔

سائنس کو کرونا وائرس کی وبا کے دوران اس تبدیل شدہ وائرس کے اسرار کا پتا چلانے کا چیلنج درپیش ہے۔ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور روزانہ ہزاروں مررہے ہیں۔ اس صورتحال میں تحقیق کرنے والوں کو نہ صرف معلومات تیزی سے حاصل کرنی ہے بلکہ اسے یقینی بھی بنانا ہے کہ معلومات قابل بھروسہ ہو۔

سارس کوویڈ ٹو یا ناول کرونا وائرس، جو کوویڈ نائنٹین بیماری کا باعث بنتا ہے، اسے تباہی پھیلانے والا ڈاکو سمجھا جاسکتا ہے۔ وہ ازخود زندہ نہیں رہ سکتا یا خود کو ضرب نہیں دے سکتا، لیکن انسانی خلیوں میں گھسنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جسم میں اپنی ہزاروں نقول بناتا چلا جاتا ہے۔ اس کے نیتجے میں ٹشوز خراب ہوتے جاتے ہیں اور انسانی جسم کا مدافعتی نظام ردعمل ظاہر کرتا ہے جو بعض لوگوں میں مہلک ثابت ہوتا ہے۔

وائرس کا جسم میں پھیلنا گڑبڑ والا عمل ہے۔ اگرچہ اس میں اپنے جینوم کی نقل کو درست کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن یہ اکثر غلطیاں بھی کرتا ہے اور ان غلطیوں سے وائرس کی صورت تبدیل ہوتی جاتی ہے۔ تبدیل شدہ وائرس کی اکثریت کا اس کے رویے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

لیکن چونکہ وائرس کی جینیاتی صورت کا سب سے پہلے جنوری میں پتا لگایا گیا تھا، اس لیے اس کے بعد سے سائنس دان اس میں معنی خیز تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وائرس کا سب سے طاقتور آلہ اسپائک پروٹین ہے اور جینیاتی طور پر تبدیلی شدہ وہی صورتیں زیادہ اہم ہے جو اس پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

اسپائیک پروٹین انسانی جسم میں سانس لینے والے خلیوں سے جڑ جاتا ہے جنھیں اے سی ای ٹو کہتے ہیں۔ یہ پروٹین خلیے کو کھول کر وائرس کو اس میں گھسا دیتا ہے۔ اسپائیک پروٹین جتنا موثر ہوتا ہے، اتنی آسانی سے وائرس اپنے میزبان کے جسم میں گھس جاتا ہے۔ چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہونے والے بالکل ابتدائی وائرس میں بھی یہ واضح تھا کہ اس کا اسپائیک پروٹین کافی موثر ہے۔