چینی سپاہیوں کے ہاتھوں 20 بھارتی فوجی جہنم رسید

انڈیا کا کہنا ہے کہ چینی فوج کے ساتھ سرحدی جھڑپ میں 20 انڈین فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

چین اور انڈیا کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکت کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

انڈین فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جھڑپ پیر کی شب متنازع وادی گلوان کے علاقے میں ہوئی جہاں فریقین کی افواج کی پسپائی کا عمل جاری تھا۔

فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جھڑپ میں چینی فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم چینی حکام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک فوجی افسر اور دو سپاہی شامل ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ انڈین فوج کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق اس واقعے کے بعد انڈیا اور چین کے سینیئر فوجی حکام وادی گلوان میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

انڈیا کی حکومت کی طرف سے اس بارے میں ابھی کوئی بیان جاری نہیں ہوا لیکن فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور انڈیا پر الزام لگایا ہے کہ اس کے فوجیوں نے سرحد عبور کر کے چینی اہلکاروں پر حملہ کیا۔

اے ایف پی کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا کہ انڈین فوجیوں نے پیر کو دو بار سرحد پار کی اور انھوں نے ‘ چینی فوجیوں کو اشتعال دلوایا، ان پر حملے کیے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔’

منگل کو انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وادی گلوان کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ملک کے چیف آف ڈیفنس سٹاف اور تینوں افواج کے سربراہوں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں بھی شرکت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی موجود تھے۔

وادی گلوان لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحدی لائن کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔