Mysterious Underground Rooms Found In Israel Urdu

یروشلم میں زیرِ زمین نا قابلِ فہم کمروں کی دریافت

اسرائیل میں مغربی دیوار کے نزدیک علومِ آثارِ قدیمہ کے طالب علموں نے کم وبیش دو ہزار سال قدیم زیرِزمین کمرے دریافت کیے ہیں۔


Mysterious Underground Rooms Found In Israel Urdu


تاہم مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان پُراسرار کمروں کی موجودگی نے ماہرین آثارِقدیمہ کو شدید حیرت زدہ کر دیا ہے کیوں کہ ان کمروں کی مذکورہ مقام پر موجودگی ان کے لیے کسی لاینحل معمے سے کم نہیں۔


CLICK HERE TOO


خیال رہے یروشلم شہر کی تاریخ تیس صدیوں پر محیط ہے اور تاحال یہاں سے ہزاروں ناقابلِ بیان تاریخی نوادارت دریافت کیے جا چکے ہیں؛ مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسرار کی دبیز کہر میں لپٹے اس مقام سے زیرِزمین کمروں کی دریافت ہوئی ہو۔

شہرِقدیم میں مغربی دیوار کے نزدیک پائے گئے ان کمروں کو چھینی اور لوہے کے ہتھوڑوں کے ذریعے تراش کر تعمیر کیا گیا ہے۔


Mysterious Underground Rooms Found In Israel Urdu


ماہرین کے مطابق ان کمروں کی تعداد تین ہے مگر ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ آخر ان کمروں کو کیوں بنایا گیا تھا؟


’اسرائیل میں جیوش ٹیمپل کے قریب زیرزمین بڑے پراثرار کمروں کی دریافت ہوئی ہے جسے 14 سو سال پرانے سمجھا جارہا ہے،ان کمروں کی کے استعمال کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چلا ،یہ کمرے اس وقت دریافت ہوئے جب اسرائیلی طلبہ جو ملٹری اکیڈمی کی تعلیم سے پہلے بیڈروک کے قریب کھدائی کر رہے تھے جہاں 1400 سال پہلے زیر زمین نامعلوم مقصد کے لئے کمرے دریافت ہوئے۔‘


دریں اثناء یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کے محکمۂ آثارِ قدیمہ (آئی اے اے) نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان زیرِزمین کمروں کی تعمیر کے مقصد سے مکمل طور پر لاعلم ہیں۔


CLICK HERE TOO


ذرائع کے مطابق یہ زیرِزمین کمرے فرش پر الگ الگ بنائے گئے ہیں؛ جب کہ انہیں باہم ملانے کے  لیے پتھریلے زینوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

ان تین میں سے دو کمروں کا سائز تقریباً آٹھ بائی تیرہ فٹ ہے؛ جب کہ تیسرے کمرے کے لیے ابھی کھدائی جاری ہے؛ مگر ماہرین کے مطابق اس کا سائز بھی دیگر کمروں کے برابر ہی لگتا ہے۔

ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ  کمرے کسی بہت بڑی زیرِزمین عمارت کا حصہ ہوسکتے ہیں جس کا اب کوئی نام ونشان باقی نہیں رہا۔

اسرائیلی محکمۂ آثارِ قدیمہ نے اس خیال کو رد کر دیا ہے کہ ان کمروں کو مُردوں کی تدفین کے لیے بنایا گیا ہوگا کیوں کہ یہودی مذہب میں انسانوں کی تدفین شہر کی دیواروں میں نہیں کی جاسکتی۔


ٹائمز آف اسرائیل میں ایک ماہر کے بقول ان کمروں کو جنگ کے دوران چھاپہ مار کارروائیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہوگا کیوں کہ حیرت انگیز طور پر ان کمروں میں دورِجدید کے ’بنکرز‘ کے طرح ایک طویل عرصے تک چھپے رہنے اور اطمینان سے زندگی گزارنے کے لیے تمام تر ضروری سامان کی موجودگی کے قوی شواہد مل رہے ہیں۔


ماہرین ان کمروں کی تحقیق میں مصروف ہیں اور توقع ہے کہ جلد کوئی نہ کوئی اہم بات ضرور سامنے آئے گی۔

پڑھتے رہیے کہ نیرنگ زندگی ہے۔