Is Coronavirus a Biological Weapon in Urdu?
اہم ترین - جامِ جہاں نما - اپریل 25, 2020

کورونا کی وبا حیاتیاتی ہتھیار کے تجربے کا نتیجہ ہے؟

 دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اس انداز کے جملے سننے کو ملتے رہے ہیں کہ کیا کورونا وائرس حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا؟

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور ہلاک شدگان کی تعداد بھی دو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ تاہم اس وبا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی وقفے وقفے سے یہ بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ یہ وائرس حیاتیاتی ہتھیار ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاہو لیجیان نے تو اس بارے میں ایک ٹوئٹ میں امریکی فوج پر الزام تک عائد کر دیا تھا۔ کچھ اسی طرز کے الزامات امریکی حلقوں کی جانب سے چین پر بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن اصل حقیقت ہے کیا؟

 

کیا کورونا وائرس حیاتیاتی ہتھیار ہے؟

جرمنی کے نشریاتی ادارے وائس آف جرمنی (ڈی ڈبلیو) کے مطابق اس بارے میں دنیا بھر کے سائنس دانوں کا موقف واضح ہے کہ یہ وائرس حیاتیاتی ہتھیار نہیں ہے۔ اس سلسلے میں رواں برس مارچ میں سائنسی جریدے جرنل نیچر میڈیسن میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔

اس رپورٹ میں سائنس دانوں نے اس وائرس کے جینیاتی سیکوئنس سے متعلق معلومات کی بنیاد پر بتایا ہے کہ ایسا وائرس مصنوعی طور پر تیار نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا بھر کے زیادہ تر محققین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے کسی اور جانور غالباﹰ چیونٹی خور پینگولن کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ تاہم اس مفروضے کی اب تک تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ بعض ماہرین کا تاہم یہ کہنا ہے کہ دانستہ پھیلاؤ نہ سہی، مگر یہ ممکن ہے کہ حادثاتی طور پر یہ کسی لیبارٹری سے نکل گیا ہو۔

گیارہ مارچ کو نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں اس وائرس کے خواص کو تفصیلی انداز سے پیش کیا گیا۔ خاص طور پر اس وائرس کے وہ حصے جو انسانی خلیے کے ساتھ نتھی ہوتے ہیں۔ اس رپورٹ میں محققین نے اس عنصر کا جائزہ بھی لیا کہ آیا یہ وائرس لیبارٹری سے حادثاتی اخراج کے نتیجے میں پھیل سکتا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں اس وائرس کی ساخت کی وضاحت کے ساتھ لکھا گیا، ”ہم نہیں سمجھتے کہ کسی بھی طرح کا لیبیارٹری سے جڑا کوئی عنصر اس حوالے سے ممکن ہے۔‘‘

لیکن تمام ماہرین اس پر متفق نہیں۔ وائرولوجی سے جڑے کئی ماہرین چینی لیبارٹریوں میں بائیوسیفٹی معیارات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ نیوجرسی کی رُٹگرز یونیورسٹی کے ویکسمین انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بائیولوجی کے پروفیسر رچرڈ ایبرائٹ پچھلے بیس برسوں سے لیب سیفٹی پر زور دے رہی ہیں۔ وہ جرنل نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے اس پہلو سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ یہ وائرس دانستہ طور پر تیار نہیں کیا گیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ یہ وائرس لیبارٹریز میں مطالعے کے دوران حادثاتی طور پر نکلا ہو اور پھر وبا کا باعث بن گیا ہو۔ یہ معروف بات ہے کہ چینی شہر ووہان کی وائرولوجی کی ایک لیبارٹری میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرسز پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

پروفیسر ایبرائٹ کا کہنا ہے کہ ووہان کے انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں کام کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بہت معمولی نوعیت کے معیارات موجود ہیں۔

ایبرائیٹ کے مطابق، ”وائرس کا حصول، کلچر، آئیسولیشن اور پھر اس سے جانوروں کو متاثر کر کے اثرات کے مشاہدات، ووہان کی بائیوسیفٹی لیب جیسے ماحول میں کام کرنے والوں کے لیے کئی طرح کے خطرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔‘‘

پروفیسر ایبرائیٹ کا کہنا ہے کہ ووہان کے سائنسدانون نے چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک کورونا وئرس RaTG13 کی بابت تحقیق کا عوامی سطح پر بتا رکھا ہے۔ یہ وائرس کووِڈ انیس وبا کا باعث بننے والے SARS-Cov-2 سے چھیانوے فیصد مماثلت رکھتا ہے۔

جرنل نیچر میڈیسن کی رپورٹ میں محققین نے کہا تھا کہ چمگادڑوں میں پائے جانے والے RaTG13 کورونا وائرس کو نئے کورونا وائرس سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ لیکن پروفیسر ابرائیٹ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ یہ وائرس لیبارٹری میں سیل کلچر یا تجرباتی جانور میں داخل ہونے کے بعد میوٹیشن سے گزرا ہو اور پھر وہاں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔

لیکن نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے مائیکرو بائیولوجی اور امیونولوجی کے پروفیسر ونسنٹ راکانییلو کے مطابق، ”حادثاتی پھیلاؤ کے نظریات سارس کوو ٹو وائرس اور چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے درمیان تعلق سے کم علمی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کسی لیبارٹری میں چمگادڑوں کا کورونا وائرس لاحق ہوتا ہے اور اس طرح یہ وائرس باہر نکل جاتا ہے، تو بھی دیگر انسانوں میں منتقلی کے لیے اس وائرس کو اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کو کئی برسوں تک میوٹیشن کے عمل کی ضرورت ہو گی۔‘‘

تمام تر اختلافات کے باوجود تاہم سائنس دانوں کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ نیا کورونا وائرس حیاتیاتی انجینئرنگ کا شاہکار ہر گز نہیں ہے اور نہ ہی اسے حیاتیاتی ہتھیار سمجھا جانا چاہیے۔ نیوانگلینڈ جرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ”سارس کوو ٹو جار سے فرار نہیں ہوا۔ آر این اے سیکوئنس چمگادڑوں میں پائے جانے والے وائرسز سے ملتا ہے، جس سے یہ علم ہوتا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے تعلق رکھتے ہے، مگر یہ وائرس چین کی جانوروں کی منڈی میں کسی جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔‘‘

 

حیاتیاتی ہتھیار کیا ہوتا ہے؟

حیاتیاتی ہتھیار وہ حیاتیاتی مواد ہوتا ہے، جو بیکٹیریا، وائرسز، حشرات یا فنگی کی صورت میں کسی علاقے میں پھیلایا جاتا ہے اور اس کا مقصد بڑے پیمانے پر انسانی آبادی کو ہلاک یا مفلوج کرنا ہوتا ہے۔ ایسے ہتھیاروں پر عالمی سطح پر پابندی نافذ ہے اورکسی لڑائی میں بھی ایسے کسی ہتھیار کے استعمال کو جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریاں عموماﹰ معلوم ہوتی ہیں۔ اب تک حیاتیاتی حملے کا ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے جہاں وائرس یا جراثیم ایجاد کر کے ایک نامعلوم بیماری پیدا کی گئی ہو۔

 

کیا اب کورونا وائرس حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے؟

کورونا وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری کووِڈ انیس گو کہ دانستہ انسانی کاوش نہیں ہیں، تاہم امریکی ماہرین خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ دہشت گرد عناصر یا دیگر جرائم پیشہ گروہ اب کورونا وائرس کو بہ طور حیاتیاتی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے متعلق آگہی عام ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ اس وائرس کو اب کوئی گروہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے۔

امریکی ادارے انٹیلیجنس کمیونٹی کے مطابق وہ اہم شخصیات کو کورونا وائرس کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کے ممکنہ واقعات پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

پینٹاگون کے کیمیکل اور بائیولوجیکل دفاع کے پروگرام کے تحت اس وائرس کی تشخیص، ویکسین اور دیگر انسدادی پیش رفت پر کثیر سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے، تاکہ اس وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات کم کیے جا سکیں۔