James Clerk | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ|چوبیسواں باب|جیمز کلارک

برطانوی ماہر طبیعات جیمز کلارک میکس ویل کو اس کے وضع کردہ چار کلیوں کی بنا پر بہت زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ وہ کلیے ہیں جنہوں نے بجلی اور مقناطیسیت کے بنیادی اصول بیان کیے ہیں۔ ان دونوں میدانوں پر میکس ویل سے سالوں قبل شدومد سے کام ہو رہا تھا اور معلوم کر لیا گیا تھا کہ ان دونوں کا تعلق باہمی ہے تاہم اس وقت مقناطیست اور برقی رو کے دریافت کردہ زیادہ تر قوانین صرف مخصوص حالات میں درست رہتے تھے اور میکس ویل سے پہلے اس بارے میں کوئی مکمل مربوط نظریہ موجود نہیں تھا مگر میکس ویل نے اپنے مختصر مگر پیچیدہ کلیات کے ذریعے قطعی طور پر برقی اور مقناطیسی میدانوں کے رویے اور باہمی تعامل کی گتھی کو ہمیشہ کے لیے سلجھاتے ہوئے اس ضمن میں بکھرے ہوے مواد کو ایک واحد قابلِ فہم نظریے میں سمو دیا۔ گزشتہ صدی میں میکس ویل کے اصولوں کا بڑے پیمانے پر نظریاتی اور عملی سائنس پر اطلاق کیا گیا ہے۔ میکس ویل کی مساواتوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ عمومی کلیات تمام حالات میں برقرار رہتے ہیں۔ بجلی اور مقناطیسیت کے تمام سابقہ قوانین میکس ویل کے کلیات سے اخذ کیے جا سکتے ہیں جب کہ بڑی تعداد میں سابقہ نامعلوم نتائج پر بھی اس بات کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان نئے نتائج میں سب سے اہم ترین خود میکس ویل ہی نے اخذ کیا تھا۔ میکس ویل کی مساوات کے ذریعے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ برقی مقناطیسی میدانوں کی دوری حرکت ممکن ہے۔ یہ حرکات جنہیں برقی مقناطیسی لہروں کا نام دیا گیا جب ایک بار شروع ہوجائیں تو پھر خلاء میں بھی نفوذ کر جاتی ہیں۔ اپنی مساوات کے ذریعے میکس ویل نے ثابت کیا کہ ان برقی مقناطیسی لہروں کی رفتار 3 لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے۔ میکس ویل نے تصدیق کی کہ روشنی کی رفتار بھی اتنی ہی ہے۔ چناں اس طرح اس نے درست نتیجہ نکالا کہ روشنی خود برقی مقناطیسی لہروں پر مشتمل ہے۔ اس طرح میکس ویل کے نظریات نہ صرف بجلی اور مقناطیسیت کے بنیادی اصول ثابت ہوئے بلکہ یہ بصریات کے بنیادی قوانین بھی ہیں۔ بلاشبہ بصریات کے تمام سابقہ قوانین کو میکس ویل کی مساواتوں سے اخذ کیا جا سکتا ہے جب کہ ان سے ایسے تعلقات اور حقائق کا علم بھی ہوا جو قبل ازیں معلوم نہیں تھے۔ وہ روشنی جسے دیکھنا ممکن ہو برقی مقناطیسی تاب کاری کی واحد ممکنہ قسم نہیں ہے بلکہ میکس ویل کی مساوات سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر الکیٹرومیگنیٹک لہریں بھی موجود ہیں جو طولِ موج اور تعدّدِارتعاش کے لحاظ سے نظر آنے والی روشنی سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ ان تمام نظریاتی نتائج کی؍ بعد ازاں ہنرک ہرٹز نے زبردست طور پر تصدیق کی۔ ہرٹز نے میکس ویل کی مفروضاتی دکھائی نہ دینے والی لہروں کو پیدا اور شناخت کیا۔ اور پھر کچھ سالوں بعد ہی گگلیلمو مارکونی نے تجربہ کر کے دکھایا کہ ان نظر نہ آنے والی لہروں کو لاسلکی رابطے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ریڈیو وجود میں آیا۔ آج ہم ان لہروں کو ٹی وی کی نشریات کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایکس ریز، گاماریز، انفراریڈ اور الٹراوائلٹ شعاعیں برق مقناطیسی تاب کاری ہی کی دوسری اشکال ہیں اور ان تمام کو میکس ویل کی مساوات کے ذریعے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ مکس ویل کی مساوات بجلی اور مقناطیسیت کے بنیادی قوانین ہیں۔ اگر چہ میکس ویل بنیادی طور پر برق مقناطیسیت اور بصریات کے حوالے سے اپنی تحقیقات کے باعث زیادہ مشہور ہے مگر اس نے سائنس کے دیگر میدانوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے جن میں فلکیاتی نظریہ اور حرارت کا مطالعہ سرِفہرست ہیں۔ میکس ویل کو گیسوں کے حرکیاتی نظریے میں بھی دل چسپی تھی اور اس نے اندازہ کیا کہ تمام گیسوں کے مالی کیول ایک ہی رفتار سے حرکت نہیں کرتے۔ کچھ مالی کیولوں کی رفتار سست ہے، کچھ کی تیز اور بعض دیگر کی تیز ترین۔ اس طرح میکس ویل نے یہ کلیہ وضع کیا جس سے جانا جاسکتا ہے کہ کسی مخصوص درجہ حرارت میں کسی خاص گیس کے مالی کیول کا کون سا حصہ کس مخصوص رفتار پر حرکت کر رہا ہو گا۔ اس کلیے کو ’میکس ویل کی تقسیم‘ کا نام دیا گیا۔ یہ کلیہ سائنسی مساواتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے اور اس کا طبیعات کی مختلف شاخوں پر متعدد جگہ اہم اطلاق ہے۔ میکس ویل 1831ء میں اسکاٹ لینڈ میں ایڈن برگ کے مقام پر پیدا ہوا۔ وہ انتہائی درجے کی ذہانت سے مالامال تھا اور اس نے صرف 15 سال کی عمر میں ایڈن برگ رائل سوسائٹی میں اپنا سائنسی مقالہ پیش کرنے کا اعزاز پایا۔ بعد ازاں اس نے یونی ورسٹی آف ایڈن برگ میں داخلہ لیا اور کیمبرج یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا۔ میکس ویل نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ کالج پروفیسر کے طور پر گزارا۔ کیمبرج یونی ورسٹی میں یہ اس کا آخری عہدہ تھا۔ میکس ویل نے شادی کی مگر لاولد رہا۔ آج میکس ویل کو نیوٹن اور آئن اسٹائن کے درمیانی عرصے میں سب سے ممتاز نظریاتی ماہرِطبیعات قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا شان دار سائنسی سفر 1879ء میں 48 ویں سال گرہ سے قبل کینسر کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوا۔