James Watt | Michael Hart | Urdu | The 100

دی ہنڈریڈ | بائیسواں باب | جیمز واٹ

اسکاٹ لینڈ کے موجد جیمز واٹ کو عام طور پر دخانی انجن کا بانی قرار دیا جاتا ہے جس کا صنعتی انقلاب میں کردار بنیادی ہے تاہم جیمز واٹ وہ شخص نہیں جس نے سب سے پہلے دخانی انجن ایجاد کیا بلکہ اس نوعیت کی مشینوں کا تصور پہلی صدی عیسوی میں اسکندریہ کے ہیرو نے واضح کیا تھا۔

چناں چہ 1698ء میں تھامس سییورے نے ایک اسٹیم انجن کی ایجاد اپنے نام کرائی جو پانی کھینچنے کا کرتا تھا جب کہ 1712ء میں برطانوی تھامس نیوکومین نے اسی سے ملتا جلتا مگر قدرے بہتر اسٹیم پمپ اپنے نام کرایا مگر نیوکیومین کی مشین اتنی کم صلاحیت کی تھی کہ اس سے صرف کوئلے کی کانوں سے پانی کھینچنا ممکن تھا۔ 1764ء میں جیمز واٹس کو اس وقت دخانی انجن میں دل چسپی محسوس ہوئی جب وہ نیوکومین کے اصول پر تیار کردہ ایک پمپ کی مرمت کر رہا تھا۔ جیمز واٹ جس نے آلات سازی کے لیے صرف ایک سال کی تعلیم حاصل کی تھی ایجادات کے حوالے سے عملی ذہن رکھتا تھا چناں چہ نیوکومین کے انجن میں اس نے ایسی اہم ترین تبدیلیاں کی جس کے باعث اسے عملی طور پر اولین کارگر دخانی انجن کا بانی قرار دینا بالکل درست ہے۔ واٹ کی پہلی ایجاد جو اس نے 1769ء میں اپنے نام کرائی وہ سابقہ مشین میں ایک اور علاحدہ تکثیفی خانے کا اضافہ تھا۔ اس نے بھاپ کے سلنڈر پر غیر موصل مواد چڑھایا اور 1782ء میں دہرے عمل کا انجن تیار کر لیا۔ اسی نوعیت کے دیگر بہترین اضافوں کے نتیجے میں بھاپ کے انجن کی کار کردگی میں چار گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔ عملی طور پر صلاحیت میں اس اضافے کا مطلب یہ تھا کہ اب ایک بہترین مگر بہت زیادہ ناقابل فائدہ انجن کو طاقت ور صنعتی مشین کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ واٹ نے 1781ء میں ایسی گراریاں تیار کیں جن سے انجن کی دو طرفہ حرکت کو دائروی حرکت میں تبدیل کرنا مممکن ہوا۔ اس ایجاد کی بدولت بھاپ کے انجن کو اب بے شمار کاموں میں لانا ممکن ہو گیا۔ واٹ نے 1788ء میں ایک مرکزگریز پرزہ ایجاد کیا جس کے ذریعے انجن کی رفتار کو خودکار طور پر تعین کیا جا سکتا تھا۔ 1790ء میں اس نے انجن میں دباؤ پیما؛ کاؤنٹر؛ مقدارنما اور تھروٹل والو لگائے نیز متعدد دیگر اضافے بھی کیے۔ بدقسمتی سے واٹس اچھی کاروباری صلاحیت سے عاری تھا تاہم 1775ء میں اس نے میتھیو بولٹن کے ساتھ شراکت داری کی جو ایک انجینیئَر اور چالاک کاروباری آدمی تھا۔ چناں چہ اگلے 25 سالوں میں واٹ اور بولٹن کے ادارے نے بڑی تعداد میں دخانی انجن تیار کیے جس سے یہ دونوں بہت امیر ہو گئے۔ بھاپ کے انجن کی شان میں مبالغہ آرائی غیرضروری ہے۔ بلاشبہ دیگر کئی ایجادوں نے صنعتی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے جن سے کان کنی میں پیش رفت ہوئی، دھاتوں کو صاف کرنے کی صنعت میں بہتری آئی اور طرح طرح کی صنعتی مشینیں ایجاد ہوئیں۔ چند ایجادات مثلاً فلائی شٹل جسے جان کے نے 1733ء میں ایجاد کیا یا اسپنگ جینی جسے جیمز ہاگریوز نے 1764ء میں بنایا جیمز واٹ کی ایجاد سے پہلے کی ہیں۔ تاہم ان ایجادات کی اکثریت محدود پیمانے پر تبدیلی لانے کے سوا کسی صنعتی انقلاب کی پیش رو نہیں تھی مگر بھاپ کے انجن کی داستان یکسر مختلف ہے کیوں اس کا کردار صنعقی انقلاب میں فیصلہ کن ثابت ہوا اور اگر یہ انجن ایجاد نہیں ہوتا آج صنعتوں شکل بالکل مختلف ہوتی۔ اس سے قبل اگرچہ ہوائی چکیوں اور پانی کے پہیوں کو استعمال میں لایا جا چکا تھا مگر اس کے باوجود جہاں طاقت کی ضرورت ہوتی وہاں انسانی ہاتھوں کے سوا اور کوئی مشین موجود نہیں تھی اور یہ ہی وہ عنصر تھا جس کے باعث صنعتوں کی صلاحیت بڑھ نہیں پا رہی تھی مگر دخانی انجن کی ایجاد کے بعد یہ کمی دور ہو گئی۔ اب پیداور کے لیے توانائی مختلف پیمانوں میں دست یاب تھی جس سے اشیاء کی تیاری میں زبردست اضافہ ہوا۔ عرب ممالک کی جانب سے 1973ء میں تیل کی بندش کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ توانائی میں کمی کتنی شدت سے صنعتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے اور محدود پیمانے پر اس تجربے سے ہم صنعتی انقلاب میں جیمز واٹ کی ایجاد کی اہمیت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ کارخانوں میں توانائی کے حصول کے علاوہ دخانی انجن کے متعدد دیگر اہم ترین استعمالات بھی ہیں۔ 1783ء میں مارکس ڈی جیفرے دخانی انجن کے ذریعے کشتی چلانے میں کام یاب ہو گیا۔ 1804ء میں رچرڈ ٹریویتھک نے حرکت کے لیے توانائی فراہم کرنے والا پہلا انجن تیار کر لیا۔ اگر چہ ان دونوں کے اولین ماڈل تجارتی سطح پر کام یاب نہیں رہے مگر چند عشروں کے اندر اندر بھاپ سے چلنے والے جہازوں اور پھر ریل گاڑی کی ایجاد نے تو تاریخِ عالم میں انقلاب برپا کر دیا۔ تاریخ میں صنعتی انقلاب اسی دوران برپا ہوا جب امریکا اور فرانس میں انقلاب آئے۔ اگرچہ اس وقت ایسا محسوس نہیں ہوا ہو گا مگر آج ہمیں علم ہے کہ نوعِ آدم پر گہرا ترین اثر صنعتی انقلاب ہی کا ہے جس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی پر دیگر درج بالا دو انقلابوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ جیمز واٹ کو بلاخوفِ تردید تاریخ کے پُراثر ترین افراد میں سے ایک کہا جا سکتا ہے۔