Jesus Christ in Urdu by Michael Hart

دی ہنڈریڈ | تیسرا باب | حضرت عیسٰیؑ

بے شک حیاتِ انسانی پر حضرت عیسیؑ کی شخصیت کے اثرات اتنے گہرے اور وسیع تر ہیں کہ انہیں اس کتاب میں بلند تر درجے کے قریب جگہ دینے پر شاید ہی کوئی معترض ہو اور اس کے برعکس زیادہ گمان اس اعتراض کا ہے کہ اتنی عظیم شخصیت کو دی ہنڈریڈ میں اولین درجے پر کیوں نہیں رکھا گیا جو دنیا کے ایسے موثر ترین مذہب کا بنیادی تحرک ہیں جس کے ماننے والوں کی تعداد ہر گزرتے وقت کے ساتھ دوسرے ادیان کے مقابلے میں دنیا میں سب سے زیادہ رہی ہے اور آج بھی ہے مگر چوں کہ اس کتاب میں باہمی طور پر زیادہ متاثر کن مذاہب کا تجزیہ نہیں کیا جا رہا اس لیے یہاں تذکرہ صرف ان افراد کا کیا جائے گا جن کا کردار انفرادی حیثیت میں نسبتاً زیادہ موثر ثابت ہوا۔

اسلام کے برعکس عیسائیت کسی فرد واحد کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے کیوں کہ اس دین کی بنیاد رکھنے میں حضرت عیسیؑ سے زیادہ اہم کردار سینٹ پال کا ہے اور اسی وجہ سے عیسائیت کی ترقی اور ترویج میں ہر جگہ ان ہی دو افراد کے کردار کا تجزیہ کیا جائے گا۔ عیسائیت کے مرکزی اخلاقی تصورات کی تعلیم حضرت عیسیؑ نے دی، اس کے روحانی ڈھانچے کی تشکیل کی اور پھر انسانی اعمال و عقائد اور جذبات کے بارے میں اہم تر خیالات وضع کیے مگر عیسائی الہٰیات کی تشکیل کا سہرا کم و بیش سینٹ پال کی کوششوں کے سر ہے۔ حضرت عیسیؑ نے ایک روحانی پیغام دنیا کو دیا مگر سینٹ پال نے اس (سادہ) سے پیغام میں خود حضرت عیسیؑ کی پرستش کا اضافہ کر دیا۔ بعد ازاں یہ سینٹ پال ہی تھا جس نے عہد نامہ جدید کا بیش تر حصہ قلم بند کیا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پہلی صدی میں اس مذہب کی ترویج و تبلیغ کی بنیاد بڑی حد تک صرف اور صرف سینٹ پال کی کوششوں پر مبنی تھی۔ بات یہ تھی کہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ اور بودھ مذہب کے بانی گوتم بدھ کے برعکس حضرت عیسیؑ عین جوانی میں دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کے دنیا سے اٹھائے جانے کے وقت ان کے پیروکاروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی اور اس وقت اس مذہب اور حضرت عیسیؑ کے ماننے والوں کے عقائد کو یہودیت کے ایک نئے فرقے سے زیادہ کچھ اور نہیں باورکیا جاتا تھا مگر یہ سینٹ پال کی انقلابی تحریریں اور ان تھک تبلیغی جدوجہد تھی جس نے اس چھوٹے سے فرقے کو دنیا کی ایک بہت بڑی تہلکہ انگیز تحریک میں تبدیل کر دیا جس کے اثرات یہودیوں اور عیسائیوں پر یکساں مرتب ہوئے اور بعد ازاں یہ تحریک دنیا کے سب سے بڑے مذہب میں تبدیل ہو گئی اور یہ ہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کے خیال میں حضرت عیسیؑ کو نہیں بلکہ سینٹ پال ہی کو عیسائیت کا بانی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ بے شک اگر یہ دلیل درست ہوتی تو اس کتاب میں سینٹ پال کا ذکر حضرت عیسٰیؑ سے اوپر ہی کیا جاتا تاہم اگر سینٹ پال نہیں ہوتا تو بے شک ہم نہیں کہہ سکتے کہ آج عیسائیت کس شکل میں دنیا میں ہوتی مگر یہ بات نا قابل تردید ہے کہ اگر بذات خود حضرت عیسٰیؑ نہیں ہوتے آج دنیا میں اس مذہب کا سرے سے ہی کوئی نام و نشان ہی نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ہم کسی بھی صورت میں حضرت عیسٰیؑ کو ان اعمال و افعال کا ذمے دار قرار نہیں دے سکتے جو ان کے بعد ان کے نام پر ان کے نام لیواؤں اور عیسائی مبلغین نے کیے جب کہ ہمیں اچھی طرح پتہ ہے کہ اگر حضرت عیسٰیؑ کے علم میں یہ بات ہوتی تو انہوں نے ہر صورت میں اپنے ماننے والوں کو ان بیشتر حرکات سے روکنا ہی تھا۔ عیسائی فرقوں کے درمیان باہمی خونریزیاں اور یہودیوں کی نسل کشی کے بعد بچ رہنے والوں کے ساتھ بدترین غیر انسانی سلوک حضرت عیسٰیؑ کے طرز عمل اور ان کی تعلیمات کے سخت خلاف ہے اور کوئی دیوانہ ہی سوچ سکتا ہے کہ ان افعال کا حضرت عیسٰیؑ کی تعلیمات کی روشنی میں ارتکاب کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ اگرچہ جدید سائنس نے ابتدائی طور پر مشرقی یورپ کے عیسائی ممالک میں آنکھ کھولی مگر حضرت عیسٰیؑ کی تعلیمات کسی بھی صورت میں اس امر کا سبب نہیں تھیں۔ اولین عیسائی دور میں مصنفین نے کبھی بھی حضرت عیسٰیؑ کی تعلیمات کی تشریح میں نہیں لکھا کہ انہوں نے اپنے ماننے والوں کو دنیا میں مادی سائنس کی تحقیق کی تعلیم بھی دی تھی بلکہ اس کے برعکس ہوا یہ کہ سلطنت روم میں عیسائیت کے مکمل غلبہ کے بعد وہاں تیکنالوجی کا معیار اور لوگوں میں سائنس میں دلچسپی لینے کے رجحان میں خطرناک حد تک کمی ہو گئی اور یہ منفی رجحان صدیوں تک جوں کا توں برقرار رہا تاہم سائنسی فکر کا آہستگی کے ساتھ یورپی ممالک میں آنکھ کھولنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ان اقوام میں ثقافتی ورثے میں سائنس سے دلچپسی ہمیشہ سے موجود تھی مگر ظاہر ہے کہ اس رجحان کا حضرت عیسٰیؑ کی تعلیمات سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں کیوں کہ اس کونپل کی جڑیں جو آج ایک شجر بارآور ہے یونانی عقلیت پرستی کی بیج سے پھوٹی ہیں جن کے پاؤں ارسطو اور حکیم اقلیدس کی فکر کے پالنے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی اہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سائنس کی ترقی اس دور میں نہیں ہوئی جب عیسائیت کا اقتدار اور عقائد کی شدت بام عروج پر تھی بلکہ جدید سائنس کی دیوی نے یورپ میں اس وقت قدم رکھے جب یہاں نشاط ثانیہ کے دور میں مذہبی اقتدار کو دیس نکالا دینے کے عمل کا آغاز ہو رہا تھا اور یہی وہ دور ہے جب یورپی اقوام نے عیسائیت سے پہلے اپنے آباء و اجداد کے سائنسی ورثے میں ایک بار پھر دلچسپی لینا شروع کی چناں اس کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ مجھے معترضین کے جواب میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔ عہد نامۂ جدید میں حضرت عیسٰیؑ کے بیان کردہ حالات سے چونکہ قارئین اچھی طرح واقف ہیں اس لیے یہاں ان پر دوبارہ بات کرنے کی ضرورت نہیں مگر اس عظیم شخصیت کے حالات زندگی کے کچھ پہلو بہرحال دی ہنڈریڈ میں نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ حضرت عیسٰیؑ کی حیات مبارکہ کے زیادہ تر پہلو تاریخ کے جھروکوں میں گم ہیں یہاں تک کہ ہمیں ان کا اصل نام تک معلوم نہیں اور گمان اغلب ہے کہ ان کا نام انگریزی میں جوشیا تھا۔ اسی طرح ان کی پیدائش کا سال بھی غیر یقینی ہے اور شاید 6 قبل مسیح درست تاریخ کہی جا سکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش جو بہرصورت ان کے پیروکاروں کے علم میں ہونی چاہیے تھی آج قطعی طور پر نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح ان کی تعلیمات بھی آج تحریری شکل میں موجود نہیں جب کہ ان کی حیات سے متعلق تقریباً تمام معلومات صرف بائبل کے دوسرے حصے سے لی گئی ہیں جسے عہد نامہ جدید کہا جاتا ہے مگر یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ مختلف عہدناموں کے مختلف مقامات پر اس بارے میں سنگین اختلافات موجود ہیں۔ مثلاً متی اور لوقا دنوں کی انجیلوں میں حضرت عیسٰیؑ کے آخری کلمات میں زمین و آسمان کا اختلاف ہے جب کہ انہیں براہ راست عہد نامہ عتیق سے اخذ کیا گیا ہے اور یہ کوئی حسن اتفاق نہیں کہ انہوں نے عہد نامہ عتیق کا حوالہ دیا کیوں کہ وہ صرف عیسائیت کے بانی ہی نہیں بلکہ خود ایک راسخ العقیدہ یہودی بھی تھے جن کا مقصد یہودیوں کو درست راہ کی تعلیم دینا تھا۔ چناںچہ حضرت عیسٰیؑ کا طرز زندگی دیگر یہودیوں پیغمبروں ہی کی طرح تھا جن کے بارے میں ہمیں عہد نامہ عتیق سے معلومات ملتی ہیں جن کا حضرت عیسٰیؑ کی زندگی پر نمایاں اثر صاف محسوس ہوتا ہے۔ دنیا کے دیگر پیغمبروں کی طرح حضرت عیسٰیؑ کی شخصیت بھی نہایت پُراثر تھی جو ملنے والوں کے دلوں و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑتی تھی۔ حضرت عیسٰیؑ کی شخصیت کے تمام پہلو کرشمہ انگیز تھے مگر پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ کے برعکس جنہوں نے دینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر یکساں کامیابی حاصل کی ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے زمانہ حیات میں حضرت عیسٰیؑ کے کوئی سیاسی اثرات نہیں ہیں اور اسی حقیقت کی وجہ سے ان کے بعد کی صدی میں نہایت ظالمانہ حالات پیش آئے۔ اگرچہ حضرت محمدؐ اور حضرت عیسٰیؑ دونوں نے بالواسطہ طور پر طویل مدتی سیاسی نشونما کو گہرے انداز میں متاثر کیا مگر بنیادی طور پر حضرت عیسٰیؑ کے اثرات اپنے آپ میں صرف اخلاقی اور روحانی ہیں جن کا سیاسی ارتقاء سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اگر اخلاقی مصلح کے بطور حضرت عیسٰیؑ کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے تو دیکھنا یہ ہو گا کہ دنیا پر ان کی اخلاقی تعلیمات کے اثرات کیا رہے ہیں۔ ان کی تعلیمات میں بنیادی حیثیت ‘راہ اعتدال’ کو اپنانے کی ہے اور لوگوں کی عیسائی یا غیر عیسائی اکثریت کا ماننا ہے کہ آج بھی اس اصول کی عیسائی مذہب میں حیثیت مرکزی ہی ہے۔ اگرچہ عملی زندگی میں ہمیشہ اس اصول پر چلنا ناممکنات میں سے ہے مگر پھر بھی جس حد تک ممکن ہو حضرت عیسٰیؑ کے ماننے والے اس راہ پر قدم اٹھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ اگر واقعتاً حضرت عیسٰیؑ نے آج تمام دنیا میں تسلیم کیے جانے والے اس اصول کی تعلیم دی ہوتی تو دی ہنڈریڈ میں آپؑ کا تذکرہ اولین درجے پر کیا جانا ناگزیر تھا مگر بات یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کے ظہور سے صدیوں پہلے یہی اصول یہودی مذہب کی تعلیمات میں مرکزی طور پر موجود تھا۔ چناںچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک صدی قبل مسیح میں معروف یہودی ربّی ہلیل نے اس کی کھلے عام تعلیم دی اور اسے یہودی مذہب کے بنیادی اصولوں میں ایک بتایا جب کہ دیگر اقوام بھی اس نظریے سے اچھی طرح واقف تھیں۔ چناںچہ چینی مفکر کنفیوشس 500 قبل مسیح میں اس نظریے کی تعلیم دیتا دکھائی ہے اور یہی تعلیم ہندوؤں کی قدیم ترین نظم مہابھارت میں بھی موجود ہے۔ درحقیقت راہ اعتدال پر چلنے کے اصول کے پس منظر میں جو فلسفہ موجود ہے وہ ہر اہم تر مذہبی گروہ کا تسلیم کردہ ہے۔ مگر اس تمام بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حضرت عیسٰیؑ نے کوئی اخلاقی تصور دنیا کو نہیں دیا کیوں متی کی انجیل میں ان کا نہایت واضح امتیازی نظریہ ہمیں ان الفاظ میں ملتا ہے – ”اگرچہ اپنے پڑوسی سے محبت اور دشمن سے نفرت کی تعلیم عام ہے مگر میں کہتا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے بھی پیار کرو؛ جو تمہیں بددعا دیں انہیں دعا دو اور جو تم سے نفرت کریں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو؛ جو تمہارے ساتھ کینہ پروری کا مظاہرہ کریں اور ستم ڈھائیں خدا سے ان کے لیے بھی بھلائی کا سوال کرو۔ (5:34-44) تاہم اس تعلیم سے کچھ اوپر تحریر ہے کہ – برائی سے الجھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تمہیں چاہیے کہ تم اسے اپنا دوسرا گال بھی پیش کر دو۔ یہ نظریات حضرت عیسٰیؑ کے دور حیات میں موجود یہودی تعلیمات کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی کسی دوسرے مذہب کی تعلیمات میں کبھی دیکھے گئے مگر آج انہیں اس نوعیت کے سچے اور عظیم ترین نظریات میں باور کیا جاتا ہے جو تاحال کسی مصلح نے دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ اگر ان عقائد کی جوں کی توں پیروی کی گئی ہوتی تو مجھے دی ہنڈریڈ میں حضرت عیسٰیؑ کو اول مقام پر رکھنے میں کوئی تذبذب نہیں ہوتا مگر عملی سچائی اس کے برعکس ہے کہ ان تصورات پر عمل تو بہت دور کی بات لوگوں کی اکثریت انہیں سرے سے عملی تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔ چنانچہ عیسائیوں کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ محض کسی خیالی جنت ہی میں اپنے دشمن سے محبت کرنے کی تعلیم پر عمل ممکن ہے کیوں کہ اس تصور کو اس حقیقی دنیا میں جہاں ہم رہتے ہیں کبھی بھی معقول اخلاقی تعلیم باور نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ہم اپنے سوا دوسروں سے اس اصول پر عمل کرنے کی توقع ضرور رکھتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو اس راستے پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ چناں چہ حضرت عیسٰیؑ کی ‘امتیازی تعلیمات’ اگرچہ دیکھنے میں بہت دلآویز ہیں مگر یہ وہ تعلیمات ہیں جن پر اس دنیا میں سرے سے کبھی عمل کیا گیا ہی نہیں۔