Johannes Gutenberg By Michael Hart In Urdu

دی ہنڈریڈ | آٹھواں باب | جوہان گٹن برگ | نئی قسط

جوہان گٹن برگ کو اکثر چھاپے خانے کا موجد کہا جاتا ہے تاہم گٹن برگ نے درحقیقت پہلی بار متحرک ٹائپ مشین اور چھاپے خانے کا ایک ایسا طریقہ دریافت کیا جس سے بڑے پیمانے پر تحریر کردہ مواد کو تیز رفتاری اور درستگی سے کاغذ پر چھاپا جا سکتا تھا۔ کوئی بھی ایجاد کلی طور پر کسی فردِ واحد کی فکر کا نتیجہ نہیں ہوتی اور بلاشبہ ایسا ہی چھپائی کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ مہریں اور مُہردار انگوٹھیاں جو سانچوں کے ذریعے چھپائی کے اصول پر کام کرتی ہیں زمانہ قدیم سے زیرِاستعمال تھیں۔ سانچوں کے ذریعے چھپائی سے اہل چین گٹن برگ سے صدیوں پہلے واقف تھے اور چین میں ایک ایسی کتاب تک دریافت ہوئی ہے جسے 868ء میں چھپائی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔ مغربی اقوام بھی گٹن برگ سے پہلے اس طریقۂ کار سے آگاہ تھیں مگر بلاک پرنٹنگ کے عمل نے کسی بھی کتاب کی کثیرتر تعداد میں تیاری کو ممکن بنایا گوکہ اس عمل میں ایک قباحت تھی اور وہ یہ کہ ہر کتاب کے لیے ایک مکمل نیا سانچہ – لکڑی کے ٹکڑوں یا تختوں سے وڈ کٹ یا پلیٹیں – تیار کرنا پڑتا تھا جس سے بڑی تعداد میں اشاعت تقریباً نامکمن تھی۔ کہا جاتا ہے کہ گٹن برگ کا اصل کام متحرک چھاپے خانے کی ایجاد ہے تاہم چین میں گیارہویں صدی کے وسط میں پائی شینگ نامی ایک شخص نے متحرک چھاپہ خانہ تیار کر لیا تھا مگر اس کے حروف مٹی سے بنائے جاتے تھے جو پائدار نہیں تھے تاہم چین اور کوریا میں اس ایجاد کو مزید بہتر کیا گیا اور گٹن برگ سے بہت پہلے کوریا میں دھاتی حروف کے ذریعے چھپائی شروع ہو گئی۔



پندرہویں صدی کی ابتدا میں کوریا نے دھاتی حروف کی تیاری کے لیے ایک بڑی صنعت کی داغ بیل ڈال دی تھی مگر اس سب کے با وجود پائی شینگ کو ایک پُراثر شخصیت سمجھنا غلطی ہو گی۔ دراصل یورپ نے متحرک چھپائی کا ہنر چین سے نہیں سیکھا بلکہ اسے اپنے طور پر تیار کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ متحرک چھپائی ماضی قریب تک چین میں عام نہیں تھی اور حقیقت یہ ہے کہ چین نے جدید چھپائی کا فن یورپ سے لیا۔ جدید چھپائی کے طریقے کے چار اہم جز ہیں۔ پہلا جز متحرک چھپائی ہے جس میں حروف کی ترتیب و ساخت کے لیے کچھ دیگر طریقے عمل میں لائے  جاتے ہیں؛ دوم چھپائی بذات خود؛ تیسری چیز چھپائی کے لیے مناسب روشنائی اور چوتھی چیز چھپائی کا کاغذ وغیرہ۔ چین میں کائی لون نے کاغذ سالوں پہلے ایجاد کر لیا تھا اور مغرب میں اس کا استعمال گٹن برگ سے بہت پہلے عام تھا۔ کاغذ چھپائی کے طریق کار کا واحد جز تھا جو گٹن برگ کو تیار شدہ حالت میں ملا۔ اگرچہ درج بالا دیگر تین اجزا پر گٹن برگ سے پہلے کچھ کام کیا جا چکا تھا مگر گٹن برگ نے ان میں بے شمار مفید اضافے کیے۔ مثال کے طور پر اس نے ایسا دھاتی بھرت تیار کیا جو حروف کی تیاری کے لیے بہترین تھا اور جس کے ذریعے چھپائی کے حرف کے بلاک نہایت درستگی اور عمدگی سے تیار کیے جا سکتے تھے۔ گٹن برگ نے تیل مِلی روشنائی کا استعمال کیا اور ایک ایسی مشین بنائی جو چھپائی کے لیے بالکل موزوں تھی۔ مگر پرنٹنگ کے حوالے سے گٹن برگ کا مجمومی کردار اس میدان میں اس کی انفرادی ایجادات یا مفید اضافوں  سے بہت زیادہ ہے۔ گٹن برگ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس نے چھپائی کے تمام اجزا کو باہم یک جا کر کے طباعت کے ایک موثر ترین نظام کی بنیاد رکھی۔ اس سے پیش تر تمام ایجادات کی برعکس پرنٹنگ بہت بڑے پیمانے پر تیاری کا عمل ہے۔ ایک بندوق، تیر اور کمان کے مقابلے میں زیادہ موثر ہتھیار ہے۔ ایک واحد چھپی ہوئی کتاب تاہم اپنے اثر میں ایک قلمی کتاب کی نسبت چنداں مختلف نہیں ہوتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پرنٹنگ کا فائدہ بڑے پیمانے پر طباعت کے کام آتا ہے۔ گٹن برگ نے ایک واحد مشین یا پرزہ تیار نہیں کیا اور نہ ہی مفید اضافوں سےدنیا کو روشناس کرایا بلکہ اس نے طباعت کا ایک مکمل نظام تیار کر کے دیا۔ ہمارے پاس گٹن برگ کے حالات زندگی کی بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ اس کی پیدائش چودہ سو عیسوی میں جرمنی کے شہر مینز میں ہوئی۔ اس نے اسی صدی کے وسط میں پرنٹنگ کے ہنر کو معراج پر پہنچا دیا اور اس کا سب سے معروف کارنامہ گٹن برگ بائبل ہے جو اس نے مینز میں 1454ء کے آس پاس چھاپی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گٹن برگ کا نام اس کی کسی بھی طباع کردہ کتاب پر موجود نہیں حتی کہ گٹن برگ بائبل پر بھی اگر چہ یہ یقینی بات ہے کہ اسے گٹن برگ کی مشین پر ہی چھاپا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھا کاروباری آدمی نہیں تھا اور وہ اس ایجاد سے روپیہ کمانے کی کوئی کام یاب کوشش نہیں کر پایا۔ گٹن برگ متعدد مقدموں میں الجھا ہوا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ اپنے شریک کاروبار جوہان فاسٹ کے ساتھ ایک مقدمے میں وہ اپنی مشین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ گٹن برگ 1468ء میں مینز میں جہان فانی سے رخصت ہوا۔ تاریخ عالم پر گٹن برگ کے اثرات کا تجزیہ چین اور یورپ میں اس کے بعد ہونے والی تبدیلیوں سے کیا جا سکتا ہے۔ گٹن برگ کی پیدائش کے وقت دونوں خطے تیکنکی اعتبار سے یکساں ترقی یافتہ تھے مگر گٹن برگ کی طباعتی مشین نے یورپ کی ترقی میں پَر لگا دیے جب کہ چین میں جہاں بہت بعد تک بھی بلاک پرنٹنگ کا عمل جاری رہا ترقی کی رفتار سست پڑ گئی۔ یہ کہنا غالباً کچھ زیادہ ہو گا کہ محض پرنٹنگ مشین کی ایجاد اس تبدیلی کا سبب تھی مگر پھر بھی اس کا کردار اس تبدیلی میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس فہرست میں گٹن برگ سے قبل پانچ صدیوں تک صرف تین افراد کا نام ہے جب کہ گٹن برگ کے بعد آنے والی پانچ صدیوں میں یہ تعداد 67 تک جا پہنچتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گٹن برگ کی ایجاد وہ ممکنہ اہم عنصر تھی جس نے فیصلہ کن طور پر زمانہ جدید کے انقلابی ارتقاء کو آں چک لگایا۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر گراہم بیل نہیں ہوتا تب بھی شاید عین اسی دور میں ٹیلی فون نے ایجاد ہو ہی جانا تھا اور ایسا دیگر دوسری ایجادات کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ تاہم گٹن برگ کے بغیر جدید طباعتی نظام کی ایجاد شاید کئی سالوں تک ایجاد نہ ہو پاتی اور تاریخ پر اس کی ایجاد کے ان مٹ اثرات اس بات کی دلیل ہیں کہ اس کا تذکرہ اس کتاب میں اونچے درجے پر ہی ہونا چاہیے تھا۔