John Dalton by Michael Hart Read in Urdu

دی ہنڈریڈ | مائیکل ایچ ہارٹ | جان ڈالٹن | 32واں باب

جان ڈالٹن وہ برطانوی سائنس دان ہے جس نے 19ویں صدی کے اوائل میں تسلیم شدہ سائنس کی دنیا میں ایٹمی نظریہ پیش کیا اور اس طرح ڈالٹن نے وہ بنیادی تصور فراہم کیا جس نے کیمسٹری کے میدان میں عظیم ترقی کو ممکن بنایا۔

John Dalton by Michael Hart Read in Urdu

تاہم ڈالٹن وہ پہلا شخص نہیں تھا جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ تمام مادی اجسام ایسے نہایت چھوٹے اور بے شمار ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں فنا نہیں کیا جا سکتا اور ان ذرات کو ایٹم کہا جاتا ہے۔

دراصل یہ نظریہ قدیم یونانی مفکر دیمقراطیس -460-370؟ ق م – نے پیش کیا تھا جسے امکانی طور پر اس سے بھی پہلے پیش کیا جا چکا تھا۔

اس نظریے کو ایک اور یونانی مفکر ایپی کیورس نے بھی تسلیم کیا جسے بعد ازاں رومی مصنف لیوکریٹس – وفات: 55 ق م – نے اپنی مشہور ترین نظم ’اشیاء کی فطرت پر ایک نظر‘ میں نہایت شان دار انداز میں پیش کیا ہے۔

click here

تاہم دیمقراطیس کے نظریے کو ارسطو نے تسلیم نہیں کیا اور شاید اسی باعث اسے ازمنہ وسطیٰ میں بھی نظر انداز کیا گیا اور اس وقت تک سائنس پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر تھے مگر 17ویں صدی کے ممتاز سائنس دانوں نے جن میں نیوٹن بھی شامل ہے اس سے ملتے جلتے نظریات کی حمایت کی۔

تاہم ایٹم کے بارے میں یہ نظریات کبھی ٹھوس انداز میں پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی انہیں سائنسی تحقیق میں استعمال کیا گیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کسی نے بھی اس تعلق کو دریافت نہیں کیا جو ایٹم کے بارے میں فلسفیانہ قیاسات اور کیمسٹری کے ٹھوس حقائق کے مابین موجود ہے۔

چناں چہ ڈالٹن اس میدان میں قدم رکھنے والا پہلا شخص تھا اور اس نے اس ضمن میں ایک واضح ترین ٹھوس نظریہ پیش کیا جو کیمیائی تجربات کی وضاحت میں استعمال ہو سکتا تھا اور اسے قطعی طور پر تجربہ گاہ میں ثابت کرنا ممکن تھا۔

click here

ہر چند ڈالٹن کی پیش کردہ اصطلاحات جدید اصطلاحات سے مختلف ہیں مگر ڈالٹن نے نہایت واضح انداز میں ایٹم، مالی کیولز، عناصر اور کیمیائی مرکبات کے بارے میں تصورات پیش کیے۔

اس نے ثابت کیا کہ دنیا میں ایٹموں کی تعداد ناقابلِ شمار ہے مگر مختلف اقسام کے ایٹموں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

اس نے اپنی کتاب میں 20 عناصر یا ایٹموں کی انواع کو درج کیا ہے تاہم آج ہم 100 سے زائد عناصر سے واقف ہیں۔

اگرچہ مختلف اقسام کے ایٹم وزن میں مختلف ہوتے ہیں مگر ڈالٹن کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایک نوع کے دو ایٹم اپنی خاصیتوں بشمول وزن کے یکساں ہیں۔

مگر آج جدید ترین تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ اس کلیے میں استثنٰی موجود ہے کیوں کہ کسی بھی مخصوص کیمیائی عنصر میں دو یا زائد اقسام کے ایٹم ہوتے ہیں جنہیں آئسو ٹوپ کہا جاتا ہے اور ان کی کمیت میں معمولی سا فرق ہوتا ہے تاہم ان کے کیمیائی خواص تقریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔

ڈالٹن نے اپنی کتاب میں مختلف اقسام کے ایٹموں کا (باہمی) وزن درج کیا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی فہرست ہے جو کسی بھی ٹھوس ایٹمی نظریے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

ڈالٹن نے واضح طور پر بتایا کہ کسی بھی کیمائی مرکب کے دو مالی کیولز کی ایٹمی ساخت بالکل یکساں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر نائٹرس آکسائیڈ کا ہر مالی کیول نائٹروجن کے دو اور آکسیجن کے ایک ایٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کوئی بھی کیمیائی مرکب خواہ اسے کسی بھی طرح تیار کیا یا پایا جائے ہمیشہ یکساں عناصر پر مشتمل ہو گا جن کے وزن کی شرح ایک ہی ہو گی۔

یہ مستقل تناسب کا قانون ہے جسے جوزیف لوئس پرائسٹ نے چند سال قبل تجرباتی طور پر دریافت کیا تھا۔

مگر ڈالٹن نے اتنے مدلل انداز میں اپنا نظریہ پیش کیا کہ محض دو عشروں میں اسے ساننس دانوں کی اکثریت نے تسلیم کر لیا اور کیمیاء دانوں نے ڈالٹن کی کتاب میں پیش کردہ نظام کی تقلید شروع کر دی۔

یہ نظام درست ترین باہمی ایٹمی اوزان کا تعین بالحاظِ وزن کرنے کے علاوہ کیمیائی مرکبات کے تجزیے اور ہر نوع کے مالی کیول کی تشکیل کرنے والے ایٹموں کے درست اشتراک کا جائزہ لیتا ہے۔

بلاشبہ اس نظام کی کام یابی بے مثال ہے مگر ایٹمی نظریے کی اہمیت میں مبالغہ آرائی غیرضروری ہے کیوں کہ کیمیاء کے حوالے سے یہ ہمارے فہم کی کلیدی بنیاد ہے۔

علاوہ ازیں یہ جدید طبیعات میں بھی ناگزیر تمہیدی حیثیت رکھتا ہے۔

چوں کہ ڈالٹن سے بہت پہلے ایٹمی نظریات پر خاصا کام ہو چکا تھا اس لیے اس کتاب میں اس کا تذکرہ اونچے مقام پر نہیں کیا جاسکا۔

ڈالٹن 1766ء میں شمالی برطانیہ کے گاؤں ایگلز فیلڈ میں پیدا ہوا۔ گیارہ سال کی عمر میں اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا اور بعدِازاں اس نے سائنس کی تقریباً تمام تعلیم خود ہی حاصل کی۔ وہ ایک ذہین اور قابل قدر نوجوان تھا جس نے 12 سال کی عمر میں پڑھانا شروع کر دیا اور اپنی زندگی میں زیادہ تر وہ درس و تدریس سے وابستہ رہا۔

پندرہ سال کی عمر میں وہ کینڈل قصبے میں منتقل ہو گیا اور 26 سال کی عمر میں مانچسٹر چلا آیا اور تادمِ حیات 1844ء وہیں رہا تاہم اس نے کبھی شادی نہیں کی۔

1787ء میں 21 سال کی عمر میں ڈالٹن نے علمِ موسمیات میں دل چسپی لینا شروع کی اور اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی۔ گیسوں اور فضاء کے مطالعے کے بعد وہ گیسوں کی خصوصیات میں خاص دل چسپی لینے لگا۔

اس نے متعدد تجربات کے بعد گیسوں کی ماہیت کے بارے میں دو اہم قوانین دریافت کیے۔

ڈالٹن نے اپنا پہلا قانون 1801ء میں پیش کیا جس کے مطابق کوئی بھی گیس اپنے درجۂ حرارت کے مطابق جگہ گھیرتی ہے۔ اس قانون کو عام طور پر ایک فرانسیسی سائنس دان چارلس کے نام پر چارلس کا قانون کہا جاتا ہے۔

دراصل چارلس نے ڈالٹن سے کئی سال قبل یہ قانون دریافت کر لیا تھا مگر وہ اسے شائع نہیں کرا سکا تھا۔

ڈالٹن نے اپنا دوسرا قانون بھی 1801ء میں پیش کیا جسے ’ڈالٹن کا جزوی دباؤ کا قانون‘ کہا جاتا ہے۔ 1804ء تک ڈالٹن نے اپنا ایٹمی نظریہ وضع کرنے کے بعد ایٹمی اوزان کی ایک فہرست تیار کر دی تھی۔

تاہم اس کی اہم ترین کتاب ’کیمائی فلسفے کا نیا نظام‘ 1808ء میں منظرِعام پر آئی اور اس کتاب نے اس کی شہرت کو چار چاند لگا دیے اور آنے والوں سالوں میں اسے متعدد اعزازات دیے گئے۔

ڈالٹن ایک قسم کے رنگ اندھے پن کے مرض میں مبتلا تھا اور اس بیماری نے اس کے تجسس کو ابھارا۔ چناں چہ اس نے اس موضوع پر عمیق مطالعہ کیا اور بالآخر رنگ اندھے پن پر ایک مقالہ تحریر کر لیا۔ یہ اس موضوع پر لکھا جانے والا پہلا مقالہ تھا۔