Kalam E Jami Farsi Read and Listen in Urdu
شعروادب - ادب - اکتوبر 8, 2019

جاؔمی کا کلام، مہدی حسن کی آواز، نیرنگ کا ترجمہ

صریرِ خامۂ عاصؔم



بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ تمام یورپ، روس، امریکا، آسٹریلیا اور جنوبی ایشیاء بالخصوص موجودہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بولی جانے والی غالب زبانوں کی ماں ایک ہی ہے یعنی ہند یورپی زبان – پروٹو انڈو یورپین لینگویج – اور اس کڑی میں سب سے قدیم اور مضبوط ترین حلقہ فارسی یا پارسی زبان کا ہے۔ خیال رہے کہ چینی اور عربی زبان کا اس کڑی سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ عربی کے دینی زبان ہونے کے باعث وہ اس سے بھی خوب واقف ہیں اور دنیا کی کسی بھی دوسری زبان بولنے والے کی نسبت اردو زبان بولنے والے کم و بیش ہر طرح کی آواز پر قادر ہیں کیوں کہ اس زبان میں ’ڑ‘ اور ’ژ‘ تک موجود ہیں۔


انگلش ’Mine‘ اور فارسی ’من‘ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں


اس طرح آج دنیا میں بولی جانے والی کل ساڑھے چار سو زبانوں کی اصل PIE ہی ہے۔ مثال کے طور پر فارسی میں لفظ ’من‘ کا مطلب میرا یا میری ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں عزیزِ من یعنی میرے عزیز۔ انگریزی تک پہنچتے پہنچتے یہ لفظ ’می‘ ہو گیا ہے اور وہاں یہ اس طرح پہنچا ہے: قدیم انگریزی – قدیم فریزیئن – قدیم سیکسون – مڈل ڈچ – ڈچ – قدیم ہائی جرمن – جرمن – قدیم نورس – گوتھک – مادہ ہند یورپی زبان ’می‘ – سنسکرت – اوستان ’مم‘ – یونانی ’ایمی‘ – لاطینی ’میہی‘ – قدیم آئرش – ویلش – اولڈ چرچ سالونک ’می‘ – ہٹی ’امُک – درج بالا دیگر تمام زبانوں میں چونکہ ادائیگی کم و بیش ملتی جلتی ہے اس لیے ہر جگہ وضاحت نہیں دی ہے۔ اس موضع پر تفیصل سے جاننے کے خواہش مند یہاں کلک کریں۔

اس تھوڑی سے دل چسپ وضاحت کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں یعنی مولانا نُور الدین عبدالرحمٰن جاؔمی کی ناقابل فراموش غزل کا اردو ترجمہ جناب مہدی حسن کی جادوئی آواز کے ساتھ پیش کرنا۔ اس غزل کی بلندی کی شان میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا اور اس کاوش کا مقصد یہ ہی ہے کہ جو اہلِ ذوق فارسی نہیں سمجھتے وہ بھی جان سکیں کہ اس زبان کی بلندی اور شاعری کیا ہے۔ ساتھ ہی خان صاحب کی گائیگی پر بھی کچھ نہ کہنا انصاف نہیں ہو گا۔ بلاشبہ مہدی حسن کی آواز خدا کی خصوصی دین تھی مگر اس غزل کی گائیگی میں تو لگتا ہے انہوں نے سروں کی انتہا کو پا لیا ہے۔ گائیگی میں ’راگ سندھی بھیرویں‘ استعمال کیا گیا جس کا سوز دلوں کو چیر کر رکھ دیتا ہے جب کہ کلام کی بحر ’رمل مثمن محذوف‘ ہے لہٰذا سننے اور سمجھنے کے بعد ممکن ہی نہیں کہ دل گدزا نہ ہو اور آنکھوں سے جاؔمی کی آنکھوں کی طرح شرابِ حسرت نہ بہنے لگے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ترجمہ پڑھیے اور پھر سنیے مگر خیال رہے فرصت کے ساتھ کیوں کہ ایک بار سننے کے بعد ممکن نہیں کہ آپ خود کو بار بار سننے سے باز رکھ سکیں۔ خیال رہے جاؔمی نے اس کلام میں محبوبِ حقیقی کی محبت میں ڈوبنے کے بعد محسوس ہونی والی کیفیت کو لفظوں کا روپ دینے کی لازوال کوشش کی ہے۔


کلامِ جاؔمی اردو ترجمے کے ساتھ


ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں/ وَز دلِ پُرحسرتم دُودِ کباب آید بروں/ یعنی میں اپنے محبوب کی محبت میں اس قدر ڈوب چکا ہوں کہ اب میری آنکھوں سے (اشکوں کی جگہ) شراب بہہ رہی ہے اور میرے دلِ پُرحسرت سے اس طرح دھواں اٹھ رہا ہے جیسے کباب سے اٹھتا ہے۔ یہاں ’م‘ اپنی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ’مستم‘ یعنی میں اتنا مست ہوں اسی طرح ’چشمم‘ یعنی میری چشم یا آنکھ سے۔ چوں کہ اردو کی کڑیاں بھی فارسی سے ہوتی ہوئی اوپر جاتی ہیں اس لیے آپ ذرا سی کوشش سے ان الفاظ کو سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ کم و بیش اس کلام کے تمام الفاظ اردو میں مستعمل ہیں اور اصل مصرعوں کو بار بار پڑھنے یا سننے کے بعد آپ کو ایسا ہی لگے گا جیسے مہدی حسن صاحب اپنی جادوئی آواز کا جادو رواں اردو میں جگا رہے ہیں۔


ماہِ من در نیم شب چوں بے نقاب آید بروں/ زاہدِ صد سالہ از مسجد خراب آید بروں/ یعنی میرا محبوب – لفظ ’من‘ پر توجہ دیں – ماہِ من یعنی میرا چاند – آدھی رات کو اگر بے نقاب نکلے تو سو سالہ زاہد بھی ٹوٹی ہوئی ویران مسجد میں اپنی عبادت چھوڑ دے اور اس کا دیوانہ ہو کر باہر نکل آئے۔


صُبح دم چوں رُخ نمودی شُد نمازِ من قضا/ سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آید بروں/ چوں کہ صبح کے وقت تیرا رخ روشن دیکھا تو میری نمازِ سحر قضا ہو گئی کیوں کہ طلوع سورج کے وقت سجدہ کرنا روا نہیں – یعنی جائز نہیں۔


ایں قدَر رندَم کہ وقتِ قتل زیرِ تیغِ اُو/ جائے خوں از چشمِ من موجِ شراب آید بروں/ میں اس قدر رند ہوں – یعنی محبوب کی محبت میں اتنا ڈوبا ہوا ہوں – خیال رہے یہاں جاؔمی نے شراب کو محبت کے لیے بطور استعارہ استعمال کیا ہے – چناں چہ جس طرح خون انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے جاؔمی کہہ رہے کہ اسی طرح محبوب کی محبت شراب کی طرح میرے وجود میں گردش کر رہی ہے – کہ قتل کے وقت اس کی تلور کے نیچے خون کے بجائے میری آنکھوں سے شراب کی موج ابل ابل کر باہر بہہ رہی ہے۔


یارِ من در مکتب و من در سرِ رہ منتظر/ منتظر بودم کہ یارم با کتاب آید بروں/ میرا یار مکتب میں ہے اور میں راہ میں کھڑا منتظر ہوں کہ وہ کتاب کے ساتھ کب باہر آتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں تشریح واضح ہے کہ یہاں ’مکتب‘، ’یار‘ اور ’کتاب‘ کا اشارہ کس خوب صورتی سے کس کی شان میں ہے۔ یعنی ’میں منتظر ہوں میرے حبیبؐ کتابِ ہدایت لے کر آئیں اور میری نجات کی راہ کھلے۔


قطرۂ دردِ دلِ جاؔمی بہ دریا اُوفتد/ سینہ سوزاں، دل کباب، ماہی ز آب آید بروں/ اگر جاؔمی کے دردِ دل کا ایک قطرہ بھی دریا میں گر پڑے تو جلتے ہوئے سینے اور جھلستے ہوئے دل کے ساتھ مچھلی تک پانی سے باہر آ جائے۔


قافیہ


 آب یعنی ساکن اب اور اس سے پہلے زبر کی آواز جیسے شراب میں راب، کباب میں باب، نقاب میں قاب، خراب میں راب وغیرہ۔ ردیف – آید بروں – بحر: بحر رمل مثمن محذوف – افاعیل – فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن – آخری رکن فاعلن کی جگہ مسبغ رکن فاعلان بھی آسکتا ہے۔ علامتی  نظام – 2212 / 2212 / 2212 / 212 – ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔ (آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)


تقطیع 


 ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں/ وَز دلِ پُر حسرتم دُودِ کباب آید بروں/ ای قدر مس – فاعلاتن – 2212 تم ک از چش – فاعلاتن – 2212 مم شرابا – فاعلاتن – 2212 – یہاں الف کا وصال ہوا ہے اور تمام قافیہ ردیف میں یہی صورت حال ہے۔ ید برو – فاعلن – 212 وز دلے پُر – فاعلاتن – 2212 حسرتم دُو – فاعلاتن – 2212 دے کبابا – فاعلاتن – 2212 ید برو – فاعلن – 212

امید ہے قارئیں کو نیرنگ کی یہ کاوش پسند آئے گی۔ کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں۔ اس پوسٹ کی تیاری میں جناب محمد وارث صاحب کے بلاگ سے بھی کچھ مدد لی گئی ہے جس کے لیے ادارہ ان کا شکرگزار ہے۔ نیز خیال رہے کہ جاؔمی کے کلام کے مختلف نسخوں میں الفاظ کا تھوڑا بہت فرق ہے جس کے تحقیق سے فی الوقت ادارہ معذور ہے تاہم جس حد ممکن تھا درست تر کلام پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔