Karl Marx | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | ستائیسواں باب | کارل مارکس

سائنسی اشتراکیت کے نظریے کا خالق کارل مارکس 1818ء میں جرمنی کے قصبے ٹرائر میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک وکیل تھا اور کارل مارکس نے بھی 17 سال کی عمر میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بون یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ تاہم بعد ازاں اس نے اپنا تبادلہ برلن یونی ورسٹی میں کرا لیا اور آگے چل کر یونی ورسٹی آف جینا سے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ مارکس اس کے بعد صحافت کی جانب متوجہ ہوا اور کچھ عرصے تک کولون میں ایک جگہ بطورِ مدیر ملازمت کی مگر اسے اپنے بنیاد پرستانہ سیاسی نظریات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجتاً وہ پیرس منتقل ہو گیا۔ پیرس میں اس کی ملاقات فریڈرک اینگلز سے ہوئی اور پھر ان کی ذاتی وسیاسی دوستی تاعمر قائم رہی۔ اگرچہ ان دونوں نے مختلف کتابیں تحریر کیں مگر ان کا فکری اشتراک اتنا زیادہ ہے کہ ان کے الگ الگ تحقیقی کاموں کو ایک ہی ذہن کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ اس کتاب میں مارک اور اینگلز کا تذکرہ ایک ساتھ کیا گیا ہے تاہم مضمون کا عنوان مارکس کے نام پر رکھا گیا ہے کیوں مارکس کو اینگلز کے مقابلے میں زیادہ غالب باور کیا جاتا ہے۔ مارکس کو جلد ہی فرانس سے نکال دیا گیا جہاں سے وہ برسلز چلا آیا۔ 1847ء میں اس نے اپنی پہلی اہم کتاب ’افلاسِ فلسفہ‘ کے نام سے شائع کرائی۔ اگلے سال مارکس اور اینگلز نے مشترکہ طور پر ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ تحریر کی اور یہ وہ تحریر ہے جسے شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ اگلے سال مارکس کولون واپس آ گیا مگر چند ماہ بعد ہی اسے وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے لندن کا رخ کیا جہاں اس نے اپنی بقیہ زندگی بسر کی۔ اگرچہ بطورِ صحافی اس نے کچھ رقم ضرور کمائی مگر اس نے لندن میں زیادہ تر وقت سیاست اور معیشت سے متعلق تحریروتحقیق میں صرف کیا۔ ان سالوں میں مارکس اور اس کے خاندان کی اینگلز نے خطیر طور پر کفالت کی۔ مارکس کا سب سے اہم تحقی کام ’داس کیپیٹال‘ 1867ء میں سامنے آیا۔ مارکس کی موت کے وقت اس کے دیگر دو حصے مکمل نہیں پائے تھے جن کی بعد ازں اینگلز نے اصلاح کی اور انہیں مارکس کے چھوڑے ہوئے نوٹس اور مسودوں کی مدد سے مکمل کیا۔ مارکس کی تحریروں نے اشتراکیت کی نظریاتی بنیادوں کو استوار کیا اور جدید سوشلزم کی متعدد نئی شکلیں فراہم کیں۔ مارکس کی موت کے وقت کسی بھی ملک میں اس کے تصورات کا عملی اطلاق نہیں کیا گیا تھا۔ مگر اگلی صدی میں روس اور چین اور دیگر خطوں میں اشتراکی حکومتیں قائم ہوئیں۔ اسی طرح درجنوں ممالک میں مارکس کے نظریات کی پیروی میں تحریکیں برپاء ہوئیں جنہوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان اشتراکی تحریکوں کی سر گرمیوں میں پروپیگنڈا، قتل وغارت، دہشت گردی اور بغاوت شامل تھا کہ کسی بھی طرح اقتدار پر قبضہ کیا جائے۔ اشتراکیوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی بد ترین ظلم وتشدد اور مخالفین کے خوں ریز خاتمے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اشتراکیوں کی انہیں سرگرمیوں نے عشروں تک دینا کو خلفشار میں مبتلا کیے رکھا جس کے نتیجے میں کم و بیش 100 ملین لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاریخ میں کسی بھی فلسفی کا اپنے بعد آنے والی صدی میں دنیا پر اتنا گہرا اثر نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مارکسزم دنیا کے لیے صرف تباہی کا پیغام لایا جس نے ایک عالم کو سیاسی اور معاشی طور پر برباد کر دیا مگر ظاہر ہے کہ یہ کوئی غیراہم تحریک نہیں تھی۔ بلاشبہ مارکس کا تذکرہ اس کتاب میں بلند درجے پر نہ کرنے کا صرف ایک سبب ہے کہ اشتراکیت کا تمام تر سہرا صرف اس کے سر نہیں جاتا بلکہ اس میں لینن، اسٹالن اور ماؤزے تنگ جیسی دیگر ممتاز شخصیات بھی شامل ہیں۔ مگر مارکس کے کردار کے تناظر میں مارکس اس بات کا اہل ہے کہ یہاں اس کا تذکرہ بلند درجے پر کیا جائے۔  سوال یہ ہے کہ یہ درجہ کس قدر بلند ہونا چاہیے؟ اگر اشتراکیت کے شدید اثر کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اس میں مارکس کا کردار کتنا اہم ہے؟ اشتراکی روسی حکومت کے طرز عمل پر مارکس کے اثرات گہرے نہیں تھے۔ مارکس نے ہیگل کی جدلیات اور محنت کی زائد قیمت وغیرہ جیسے نظریات کے بارے میں لکھا مگر ان تجریدی تصورات کا چین اور روس کی حکومت کے طرزِعمل وفکر پر کم ہی اثر نظر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مارکس کا نظریۂ معیشت بری طرح ناقص ہے۔ بلاشبہ مارکس کی متعدد مخصوص پیش گوئیاں غلط ثابت ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر مارکس نے پیش گوئی کی تھی کہ سرمایہ دارانہ ممالک میں وقت گزرنے کے ساتھ محنت کش طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا مگر ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا۔ مارکس کا یہ بھی کہنا تھا کہ متوسط طبقے کا خاتمہ ہو جائے گا؛ اس طبقے کے زیادہ تر افراد پرولتاری ہو جائیں گے جب کہ چند ایک ہی سرمایہ دار طبقے میں شامل ہو سکیں گے۔ ایسا ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ مارکس کا یہ بھی ماننا تھا کہ مشینوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سرمایہ داروں کے منافع میں شدید کمی ہو گی۔ مگر یہ پیش گوئی نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر غلط ہے بلکہ اسے احمقانہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ مگر پھر بھی مارکس کے معاشی نظریات غلط ہوں یا درست ان کا اس کے اثر سے بہت کم تعلق ہے۔ کسی فلسفی کی اہمیت اس کے فلسفے کی سچائی میں نہاں نہیں ہوتی بلکہ اس بات میں کہ آیا کہ اس کے تصورات نے لوگوں کو عمل پر اکسایا یا نہیں؟ اگر ان بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے تو مارکس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مارکس کی تحریکوں نے عام طور پر چار نکات پر زور دیا ہے۔ اول، چند امیروں کے ہاتھوں میں بے انتہا دولت ہوتی ہے، جب کہ زیادہ تر محنت کش غربت کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں۔ دوم، اس استحصال کے خاتمے کے لیے ایک سوشلسٹ نظام کا قیام ناگزیر ہے – ایک ایسا نظام جہاں پیداوار کے ذرائع حکومت کے پاس ہوں نہ کہ نجی ہاتھوں میں۔ سوم، بیش تر صورتوں میں اس نظام کے قیام کا واحد عملی راستہ صرف اور صرف خونی انقلاب ہے۔ چہارم، اس سوشلسٹ حکومت کے تحفظ کے لیے کافی عرصے تک اشتراکی پارٹی کی آمریت قائم رکھنی ہو گی۔ ان چار میں سے تین نکات مارکس سے بہت پہلے پیش کر دیے گئے تھے۔ جب کہ چوتھا نکتہ جزوی طور پر مارکس کے ’پرولتاریوں کی آمریت‘ کے تصور سے اخذ کیا گیا ہے۔ تاہم، روس میں آمریت کی طوالت کا سبب لینن اور اسٹالن کے اقدامات ہیں نہ کہ مارکس کی تصانیف۔ اسی وجہ سے دلیل دی جاتی ہے کہ کمیونزم پر مارکس کا اثر حقیقی نہیں بلکہ تصوراتی ہے اور یہ کہ جو احترام اس کی تحریروں سے منسوب کیا جاتا ہے وہ محض نمائشی ہے جس کا مقصد اپنی ان حکمت عملیوں اور اقدامات کو ایک سائنسی جواز دینے کی بھونڈی کوشش کے سوا کچھ اور نہیں ہے، جنہیں دیر یا بدیر ویسے بھی اپنا لیا جانا تھا۔ ان دلائل میں اگرچہ کچھ سچ موجود ہے مگر یہ بہت زیادہ انتہا پسندانہ ہیں۔ مثال کے طور پر لینن نے نہ صرف مارکس کی تعلیمات پر عمل کرنے کا دعویٰ کیا بلکہ اس نے انہیں تفصیل سے پڑھا، مکمل طور پر قبول کیا اور اس کا ماننا تھا کہ وہ مارکس کی پیروی کر رہا ہے۔ یہ ہی بات ماؤزے تنگ اور متعدد دیگر اشتراکی رہ نماؤں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے مارکس کے تصورات کو غلط طور پر سمجھا گیا ہو یا ان کی وضاحت درست طور پر نہیں کی گئی ہو پھر بھی ایسا دوسرے بڑے رہ نماؤں کے تصورات کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ اگر متعدد اشتراکی حکومتوں وتحریکوں کی تمام بنیادی پالیسیاں براہ راست مارکس کی تحریروں سے اخذ کی گئی ہوتیں تو اس کتاب میں اس کا تذکرہ زیادہ بلند درجے پر کیا جاتا۔ مارکس کے کچھ تصورات مثلاً ’تاریخ کی معاشی وضاحت‘ کا تصور کمیونزم کی موت کے بعد بھی دل چسپ اور مؤثر تصور کے طور پر زندہ رہے گا۔ مارکس کی اہمیت کا تعین کرنے کے لیے تاریخِ عالم میں اشتراکیت کی اہمیت کا تجزیہ کرنا ہو گا۔ مارکس کی موت کے ایک صدی بعد اس کے پیروکاروں کی تعداد ایک بلین سے زائد تھی۔ یہ کسی بھی نظریے سے وابستہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ نہ صرف بالحاظ تعداد بلکہ دنیا کی کل آبادی کے ایک بڑے حصے کے طور پر بھی۔ اس حقیقت سے اشتراکیت پسندیوں کو امید – اور غیر اشتراکیت پسندوں کو خوف – تھا کہ مارکسزم کا مستقبل میں تمام دنیا پر راج ہو گا۔اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں، میں نے لکھا تھا:


 ’یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کمیونزم کہاں تک پھیلے گا اور اس کی عمر کتنی ہو گی تاہم اس وقت واضح ہے کہ یہ تصور ٹھوس بنیادوں کے ساتھ محفوظ ہے اور کم ازکم آئندہ کچھ صدیوں تک یہ اپنا مؤثر کردار برقرار رکھے گا۔‘


مگر ظاہر ہے کہ یہ بات محض مایوسانہ تھی۔ روس اور اس کے ماتحت ممالک میں کمیونزم کے زوال کے بعد گزشتہ چند سالوں میں دنیا میں اس نظریے کا کردار بری طرح ڈھل چکا ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ اب کمیونزم دوبارہ کبھی سر نہیں اٹھا پائے گا۔ اگر یہ صورتِ حال درست ہے جیسا کہ میں باور کرتا ہوں تو دنیا میں مارکسزم کا کردار صرف ایک صدی تک ہی محدود ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب مارکس کے اثرات اتنے گہرے نہیں رہے جتنے پہلے ایڈیشن میں قیاس کیے گئے تھے۔ مگر پھر بھی مارکس نپولن اور ہٹلر سے زیادہ اہم شخصیت ہے کیوں کہ نپولن اور ہٹلر کے اثر کی مدت نہ صرف مختصر بلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی کہیں زیادہ محدود تھی جب کہ مارکس کے ساتھ یہ صورتِ حال بالکل برعکس ہے۔