Koftey - A horror story

کوفتے – ایک دہشت ناک اور پراسرار ترین کہانی

جب دس سالہ ٹمی مارلو لا پتہ ہوا تو علاقے کے تمام لوگوں کی پریشانی آسمان کو چھو رہی تھی۔ ٹمی پورے ٹائون کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ایک بہت اچھا بچا۔ اسکول میں اس کی کام یابی کبھی اے گریڈ سے نیچے نہیں رہی تھی اور وہ ہر کسی سے پر اخلاق دھیمے لہجے میں بات کرتا تھا۔ چناں چہ ٹمی کی گم شدگی کسی سانحے سے کم نہیں تھی اور اخبارات نے اس کے لاپتہ ہونے کے بارے میں لگائی خبروں میں اس کا ذکر ’ننھے فرشتے‘ کے نام سے کیا۔ شروع میں اس کے گھر والوں کا خیال تھا کہ شاید ان سے تاوان کا مطالبہ کیا جائے گا کیوں کہ عام طور پر ایک دس سالہ بچے کو سڑک سے یوں ہی بغیر کسی منصوبے کے اغوا نہیں کیا جاتا۔ اس کے ممکنہ اغوا کاروں کی بہت دنوں سے اس کے گھر والوں پر نظر ہو گی اور انہیں بھاری تاوان ملنے کی بھی توقع ہو گی۔ چوں کہ ٹمی کے ماں باپ امیر لوگ نہیں تھے اس لیے ٹائون کے تمام لوگوں نے اس کے گھر والوں کو دل کھول کر رقم عطیہ کی۔ یہ رقم اغوا کاروں کی توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔ ہر شخص ٹمی کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے بے چین تھا، مگر دن ہفتوں میں بدلتے گئے اور ٹمی کے گھر والوں سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا۔ نہ کوئی فون آیا اور نہ ہی انہیں کوئی ای میل ملی۔ ۔ ۔

لوگوں نے اپنے طور پر ٹمی کو تلاش کرنے کے لیے رضا کار پارٹیاں ترتیب دیں اور ٹائون کے تقریباً ہر شخص نے اس تلاش کی مہم میں حصہ لیا۔ ٹائون کی عمارتوں پر ٹمی کے نام کے پوسٹر چسپاں کیے گئے جن پر اس کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی چھپی تھی۔ قصبے والے اس وقت تک ٹمی کو تلاش کرتے رہے جب تک کئی مہینوں بعد ان کی ساری امیدیں دم نہیں توڑ گئیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے ٹمی ہوا میں غائب ہو گیا ہو۔ آخر میں ٹمی کے والدین نے خود کو مورد الزام ٹہرایا۔ ان کا خیال تھا کہ اپنی مصروفیات میں کھو کر شاید انہوں نے ٹمی پر صحیح طرح نظر نہیں رکھی۔ فل ٹائم جاب کرنے کے بعد کسی کے پاس کچھ اور کام کے لیے کم ہی وقت بچتا ہے اس لیے انہوں نے اس کا خیال رکھنے کے مجھے بطور آیا اپنے گھر ملازم رکھ لیا تھا۔ میرا گھر ان کے گھر کے بالکل برابر میں تھا اور میرے شوہر البرٹ کے اس دنیا سے گزر جانے کے بعد وہاں میرے لیے سوائے تنہائی کے اور کچھ نہیں بچا تھا۔ میں نے فوری طور پر یہ ملازمت قبول کر لی۔ مجھے معلوم تھا ٹمی ایک بہت پیارا بچہ ہے اس لیے میرے پاس انہیں منع کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ جس دن ٹمی لاپتہ ہوا میں نے ہر ایک سے یہ ہی کہا کہ اس سہ پہر وہ گھر واپس نہیں آیا تھا اور یہ بات درست بھی تھی۔ سب کو پتہ تھا کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور ٹمی کو مجھ سے زیادہ بہتر طور پر کوئی اور نہیں جانتا تھا۔


اور یہ ہی وجہ ہے کہ مجھے ٹمی کا خاتمہ کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ ۔


شروع دنوں ہی میں ٹمی میرے لیے ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ بے شک وہ ایک با اخلاق اور نرم مزاج لڑکا تھا اور خاص طور پر اپنے ماں باپ کے سامنے اس کے یہ اوصاف دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے مگر گزرتے وقت کے ساتھ ٹمی کا رویہ تبدیل ہو گیا تھا۔ وہ ایک عفریت تھا۔ میں نے اسے اس وقت دیکھا تھا جب اس کا خیال تھا کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔ وہ بہت بے رحمی سے پڑوسیوں کے پالتو جانوروں کو موت کے گھاٹ اتارتا تھا اور اس کے چہرے پر اس وقت گلاب کی طرح مسکراہٹ کھلی پڑتی تھی جب ان پالتو جانوروں کے مالکان دوسروں کو ان کی کی گم شدگی کے بارے میں بتاتے۔ میں نے اسے اپنے ماں باپ کی شراب کے گلاسوں میں چوہے مار زہر ملاتے دیکھا تھا۔ اس زہر کی مقدار جان لیوا نہیں ہوتی تھی مگر اس سے وہ بری طرح بیمار پڑ جاتے تھے، مگر میں نے کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ ۔ ۔

پھر ٹمی نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا مگر میرے جسم پر پڑنے والے نیل کے نشانوں کے بارے میں کسی نے بھی پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ظاہر ہے میں ایک بوڑھی عورت تھی اور میرے چوٹیں لگنا ایک عام سے بات تھی۔ ٹمی نے اسی بات کا فائدہ اٹھایا اور مجھ پر اس کے حملوں میں روز بروز شدت آ گئی۔ اس پر دورے سے پڑتے تھے اور اس عالم میں وہ گھر کی چیزیں اٹھا اٹھا کر مجھ پر پھینکتا تھا۔ ایک شب جب میں اپنے گھر واپس آئی تو میری ناک ٹوٹی ہوئی تھی اور مجھے یہ کہہ کر بات بنانی پڑی کہ میں اندھیرے میں الجھ کر گر گئی تھی۔ آپ جانتے ہی ہیں ضعیف عورتیں اکثر فرش پر گر کر چوٹ کھاتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔

ٹمی کو ٹافیوں اور بسکٹوں کا لالچ دے کر ورغلانا میری توقع سے زیادہ آسان ثابت ہوا۔ میرے ہاتھ سے بنے بسکٹ ٹائون کے ہر بچے کی کم زوری تھے۔ ٹمی کو مرنے میں چند لمحے لگے البتہ مجھے اس کی لاش چھپانے کا منصوبہ ضرور بنانا پڑا۔ ٹائون کے لوگوں نے کبھی بھی مجھ پر شبہ نہیں کیا۔ ظاہر ہے میں ایک معصوم اور بے ضرر سی بوڑھی عورت تھی اور حتیٰ کہ میں نے کئی دنوں تک ان لوگوں کے لیے کھانے بھی پکا کر دیے جو رضاکارانہ طور پر ٹمی کو ڈھونڈ رہے تھے اور اس دوران میرے ہاتھ کے بنائے کوفتوں کی پورے قصبے میں دھوم مچ گئی اور جب وہ لوگ میری تعریف کرتے تھے تو میرے ہونٹوں پر بھی گلاب کی طرح ایک بھر پور مسکراہٹ کھلی جاتی تھی۔ ۔ ۔

ٹمی اگر چہ کبھی نہیں مل سکا مگر اسے تلاش کرنے والے رضا کاروں کو شائبہ تک نہیں گزرا کہ ٹمی کا وجود ان کے دلوں سے کتنا قریب تھا۔ ۔ ۔

ختم شد