Land Lady in Urdu from reddit part 2

مکان مالکن| حصہ اول

میری مالک مکان انتہائی پر اسرار حرکتیں کر رہی ہے۔ میری سمجھ سے باہر ہے میں کیا کروں ۔ ۔ ۔ میری مدد کریں ۔ ۔ ۔  اس وقت میں اپنے کمرے میں بند ہوں اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کیا کروں۔ ساری بات تفصیل سے بتانے سے پہلے میں آپ کو پس منظر سے آگاہ کرتی ہوں۔ میں برطانیہ کے ایک بڑے شہر ۔ ۔ ۔ میں رہ رہی ہوں۔ میں یہاں حال ہی میں پڑھائی کرنے آئی تھی اور شہر میں مکانوں کے کرائے گویا آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ چناں میں نے ایک خاتون سے ایک کمرا کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا۔ ان خاتون کا تعلق چین سے ہے اور یہ انتہائی نرم دل خاتون ہیں۔   میرے علاوہ اس مکان میں تین اور کرائے دار بھی ہیں۔ اب تک میں یہاں بہت مطمئن تھی۔ مالک مکان اپنا زیادہ تر وقت کام پر صرف کرتی ہے اس لیے کبھی کبھار ہی ہم ایک دوسرے سے ملتے ہے۔ اس لیے ہم مکمل سکون سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔   مگر یہاں ایک چھوٹی سے پریشانی ضرور ہے اور وہ یہ کہ مجھے یہاں اپنے دوستوں کو بلانے سے پہلے مالک مکان سے اجازت لینی پڑتی ہے اور یہ کہ ہم کسی قسم کی پارٹی وغیرہ نہیں کر سکتے۔ مگر چوں میں اپنا سارا وقت پڑھائی کو دیتی ہوں اس لیے مجھے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مجھے یہاں رہتے ہوئے تقریباً چار مہینے ہو گئے ہیں اور اب تک یہ ایک بہترین رہائش گاہ ثابت ہوئی ہے۔   اب آتے ہیں اصل بات کی طرف ۔ ۔ ۔   شہر میں گزشتہ کئی دنوں سے موسم کی کیفیت طوفانی ہے۔ اس وقت رات کے بارہ بج رہے ہیں۔ باہر ہوائیں کسی عفریت کی طرح ماتم کر رہی ہیں اور بارش اس طرح برس رہی ہے جیسے آج کے بعد پھر کبھی نہیں برسے گی۔   تین گھنٹے پہلے مجھے یاد آیا کہ میرا بوائے فرینڈ اگلے ہفتے میرے ساتھ رات گزارنے آ رہا ہے۔ چناں میں نے اس بارے میں اپنی مالک مکان سے اجازت لینے کے لیے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔ مگر میری دستک کا کوئی جواب نہیں آیا اور کمرے میں مکمل تاریکی تھی۔ میں نے اسے ایک ٹیکسٹ کرنے کا فیصلہ کیا جو کچھ یوں تھا۔ ’ہیلو [مالک مکان کا نام] ۔ ۔ ۔ آپ کو پریشان کرنے کی معذرت مگر بات یہ ہے کہ میرا بوائے فرینڈ اگلے منگل کی رات میرے ساتھ گزارے گا اور بدھ کی صبح واپس چلا جائے گا۔ اس لیے مجھے آپ کی اجازت درکار ہے۔‘ کچھ دیر بعد اس کا جواب آیا ’ہاں ہاں بالکل مجھے کیا اعتراض۔ خوب انجوائے کرو۔‘   یک لخت مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات کے نو بج چکے تھے اور مالک مکان خاتون رات سات بجے تک کام سے واپس آ جاتی تھی۔ وہ کام کرنے شہر سے باہر جاتی ہے اور موسم کے خطرناک تیور دیکھتے ہوئے میں اس کے لیے کافی پریشان ہو گئی۔ میں نے اسے پھر ٹیکسٹ کیا ’شکریہ۔ آپ خیریت سے ہیں؟ کیا بارش کی وجہ سے ٹریفک جام تو نہیں؟   مجھے اس ٹیکسٹ کا فوری جواب نہیں ملا چناں چہ میں اپنے کمرے میں جا کر مطالعے میں لگ گئی۔   تقریباً ایک گھنٹے بعد اور دس بجے کے وقت بلآخر مجھے اس کا میسج آیا۔ یہ اتنا طویل پیغام تھا کہ میرے فون کی گھنٹی کافی دیر تک بجتی رہی جس سے میں چونک گئی۔   اس گھنٹی کے ساتھ ہی ہر چیز نے رخ بدلنا شروع کر دیا۔   پیغام کچھ یوں تھا: ’پریشان نہ ہو۔ میں ٹھیک ہوں۔ میری گاڑی کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا تھا۔ میں اب مر چکی ہوں ۔ ۔ ۔‘  ظاہر ہے اس پیغام نے مجھے ہلا کر رکھ دیا مگر چوں کہ انگریزی میری مالک مکان کی مادری زبان نہیں ہے اور وہ لکھنے میں بد ترین غلطیاں کرتی ہے اس لیے میں نے اس بات کو کچھ زیادہ سر پر نہیں لیا۔ مگر ہوائوں کی چنگھاڑ میں یک لخت اضافہ ہو گیا تھا اور بارش ہر چیز کو فنا کرنے کے درپے لگ رہی تھی۔   میں اب اس کے بارے میں فکر مند ہو رہی تھی اور میں نے پولیس کو اس بارے میں آگاہ کرنے کا سوچا۔   مگر میں نے نا چاہتے ہوئے بھی اس پیغام کا جواب دیا: ’مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا۔ آپ کو حادثے میں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی؟ آپ اس وقت کہاں ہیں؟ کیا آپ آج کی رات کسی ہوٹل میں گزاریں گی؟   اس بارے مجھے بہت تیزی سے جواب موصول ہوا: ’نہیں آج رات میں تمہارے ساتھ تمہارے بستر پر سوئوں گی ۔ ۔ ۔ ‘  یہ بھی ایک عجیب سا میسج تھا مگر چوں کہ ہم دونوں کے کمرے برابر برابر ہیں اس لیے میں نے سوچا شاید وہ اپنی محدود انگریزی میں یہ ہی بات کہنا چاہ رہی ہو۔ میں یہ بات سر سے جھٹک کر اپنی پڑھائی میں جت گئی۔ اب جو پیغام مجھے وصول ہوا وہ چینی زبان میں تھا اور گوگل ٹرانسلیٹ پر کافی دیر مغز ماری کرنے کے بعد اس کا جو ترجمہ سامنے آیا وہ کچھ یوں تھا: ’میں بہت زیادہ غصے میں ہوں۔‘ میں نے سوچا شاید اس نے یہ پیغام اپنے چینی رشتے داروں کو بھیجنا چاہا ہو مگر غلطی سے مجھے بھیج دیا ہو۔ غالباً وہ کہیں باہر بارش میں بھیگتے ہوئے دوسری گاڑی کا انتظار کر رہی تھی جو اس کی خراب کار کو کھینچ کر مکینک کے پاس لے جائے اور اس دوران وہ اپنے کسی دوست سے جلد از جلد گھر پہنچنے اور اورکھانا کھانے کی خواہش کا اظہار کر رہی تھی۔ اس وقت یہ باتیں بہت عام سی لگ رہی تھیں۔ چناں چہ میں نے جواب میں ایک اور میسج لکھا ’سوری۔ ۔ ۔ میں آپ کی بات بالکل نہیں سمجھ سکی۔ کیا میں وہاں کسی دوست کو روانہ کر دوں؟ آپ خیریت سے ہیں؟   اس بار اس نے مجھے کال کرنے کی کوشش کی مگر نہ جانے کیوں میں اس کال کو سننے کی ہمت نہیں کر سکی کیوں کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں یک لخت ایک سرد سی لہر اٹھی تھی۔ بے شک ہوائوں کے بین، رات کی تاریکی اور کمرے کی کھڑی پر گرتے بارش کے قطروں کی لگا تار ٹپا ٹپ کسی بھی نوخیز لڑکی کو خوف زدہ کرنے کے لیے کافی تھی جب کہ مالک مکان کی ان باتوں نے گویا جلتی پر تیل کا الگ کام کیا تھا۔   تھوڑی دیر بعد فون کی گھنٹی خاموش ہو گئی مگر فوراً ہی ایک اور میسج آیا۔ یہ بھی چنی زبان میں تھا اور گوگل کے مطابق اس کا ترجمہ یہ تھا: ’تم نے مجھے شدید غصہ دلا دیا ہے ۔ ۔ ۔ ‘  پیغام کی ابتدا میں میرے نام کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ میرے ہی نام تھا جب کہ میری مالک مکان کو اچھی طرح پتہ تھا کہ میں چینی زبان سے مکمل نا واقف ہوں۔ میری مالک مکان ایک بہت خوش مزاج ضعیف خاتون ہے اس لیے میں اس کے مشتعل پیغامات سے پریشان ہو گئی تھی۔   میں نے بھی فوری طور پر اسے جواب دیا: ’میری طرف سے معذرت اگر میں نے آپ کو پریشان کیا ہو۔ خیریت سے جلد گھر آ جائیں۔‘ اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میں تھوڑے سی پریشان حالت میں دو بارہ اپنے کام پر متوجہ ہو گئی۔ کچھ دیر بعد میرا ذہن پر سکون ہو گیا اور میں نے اس واقعہ کو ایک اتفاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ مگر میں اب اس حوالے سے پریشان تھی کہ مالک مکان اب تک گھر کیوں نہیں آئی۔ چناں رات بارہ بجے سے کچھ پہلے جب میں نے گھر کے دروازے کی مانوس چرچراہٹ سنی تو ایک طرح کا سکون اپنی رگ و پے میں اترتا ہوا محسوس کیا۔ میں نے پہلے کمرے سے نکل کر اس کی خیریت دریافت کرنے کا سوچا مگر پھر نہ جانے کیوں اور کیا سوچ کر میں نے ایسا نہیں کیا۔ چابی سے دروازے کا قفل کھلنے کی آواز آئی۔ پھر دروازے کے کھلنے کی چرچراہٹ ابھری اور اس کے ساتھ کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ کوئی دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ مگر اس کے بعد میں نے جو آواز سنی اس سے میرا پتہ پانی ہو گیا۔ ۔ ۔   میری مالک مکان بالکل میرے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی اور اس نے نا قابل فہم انداز میں کچھ بڑبڑانا شروع کیا۔ اس کی آواز ایک دم تیز اور شدید ہو رہی تھی اور پھر ایک دم ہلکی اور پر سکون مگر سرگوشی مسلسل جاری تھی۔ وہ میرے کمرے کے دروازے پر ناخنوں سے خراشیں لگا رہی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح یہ دروازہ وا ہو جائے۔ میں تیزی سے دروازے کی طرف دوڑی اور اسے لاک کر دیا۔ دروازے کا یہ لاک اس وقت میرے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوا تھا۔ مگر جیسے ہی مالک مکان نے دروازے کا لاک لگنے کی آواز سنی اس نے بھیانک آواز میں بین کرتے ہوئے دروازے کو دھڑدھڑانا شروع کر دیا۔ میں اتنی خوف زدہ تھی کہ میں بستر پر چڑھ کر اپنے لحاف میں چھپ گئی۔ میرا جسم خوف سے مفلوج ہو رہا تھا اور میری آنکھیں دروازے پر جمی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد جو ایک صدی کی طرح تھی  دروازے کا دھڑدھڑانا رک گیا اور اس کے بعد سے مجھے اپنی مالک مکان کی کوئی خبر نہیں۔   میں نے اپنے حواس تو کسی حد تک بحال کر لیے ہیں مگر ابھی تک کسی سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں کمرے سے نکل بھاگوں؟ کیا میں پولیس سے رابطہ کروں؟ میں کمرے سے نکلنا چاہتی ہوں مگر مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں باہر نہ کھڑی ہو۔ ۔ ۔ اس وقت نصف شب گزر چکی ہے اور میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔   

(اگلا حصہ جلد آ رہا ہے)