Land Lady in Urdu from reddit part 2

مکان مالکن| حصہ دوم

جس رات میں نے اس کہانی کو نیرنگ پر پوسٹ کیا اس تمام دن میں لگا تار اپنی پڑھائی میں مصروف رہی تھی چناں اپنی مالک مکان کے پراسرار ترین اور دل دہلانے دینے والے طرز عمل کے با وجود میں بالآخر بستر پر جا کر ڈھیر ہو گئی اور بہت جلد نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ میں تھکن سے اس قدر چور ہو رہی تھی کہ میں نے کمرے کی لائٹ بھی بند کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اس رات آخر مجھے نیند کس طرح آ گئی۔ اگلے روز جب میں بیدار ہوئی تو میرا سر بہت بھاری ہو رہا تھا اور مجھے فوری طو پر گرم گرم کافی چاہیے تھی۔ میرا ذہن ابھی بھی نیند میں تھا اور جب میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو مجھے اچانک گزشتہ رات کا ماجرا یاد آیا۔ مگر میں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور زینے سے اتر کر نیچے چلی گئی۔ میں نے دیکھا کہ مالک مکان کے کمرے کا دروازہ بند تھا اور اس کا کچھ اتا پتا بھی نہیں تھا چناں چہ میں نے میدان صاف دیکھ کر کچن کا رخ کیا اور معمول کے مطابق اپنے لیے کافی بنائی۔ اس وقت میرے ذہن نے مجھے فریب دینے کی کوشش کی اور مجھے ایسا لگا کہ گزشتہ رات جو کچھ ماجرا پیش آیا وہ صرف ایک ڈرائونا خواب تھا یا پھر یہ جو کچھ بھی بات تھی وہ دراصل اتنی خوف ناک نہیں تھی۔ بہر حال میں نے کافی بنائی، کپڑے تبدیل کیے اور گھر سے باہر نکل آئی۔ اس روز جمعہ تھا۔ جب میں گھر سے باہر نکلی تو میں نے دیکھا کہ میری مالک مکان کی کار گھر کے باہر موجود نہیں تھی چناں میں یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی کہ وہ حسب معمول اپنے کام پر گئی ہوئی ہے۔ مگر یہ خیال میری بھیانک ترین غلطی تھا ۔ ۔ ۔ میں شام 5 بجے یونی ورسٹی سے واپس آئی اور اس کے بعد مارکیٹ سے کھانے کا سامان لینے گئی اور پھر وہاں سے واپس آنے کے بعد اپنے کمرے میں جا کر لیپ ٹاپ آن کر لیا۔ میرا ماما سے چیٹ کرنے کا پروگرام تھا۔ چیٹ سے فارغ ہونے کے بعد اور رات کے 7 بجے مجھے احساس ہوا کہ میں بھوک سے مر رہی تھی چناں چہ میں کھانا تیار کرنے کے لیے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ جیسے ہی میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تو میری نظر سیدھی اپنی مالک مکان کے کمرے کے دروازے پر پڑی اور میرے قدم وہیں جم گئے۔ اس کا دروازہ ایک جھری برابر کھلا ہوا تھا اور وہ اس درز کے پیچھے کھڑی مجھے گھور رہی تھی۔ اس کے کمرے میں مکمل تاریکی تھی اور اس کا چہرہ تاریکی میں نظر نہیں آ رہا تھا مگر مجھے پتہ تھا کہ یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ ہو سکتا ہے میری بات آپ کو دیوانگی محسوس ہو مگر میں نے دیکھا کہ اس کے ہونٹ اور ناک اس کے چہرے سے غائب تھی۔ اس کے چہرے کا نچلا نصف حصہ ایک چٹان کی طرح ہم وار تھا اور سرخ گوشت میں سے سفید سفید دانت جھلک رہے تھے۔ وہ بار بار مجھے اور میرے کمرے کے دروازے کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس کی گہری سانسوں کی آوازیں میں اچھی طرح سن سکتی تھی مگر وہ اس طرح کی آوازیں بھی نکال رہی تھی گویا کہ پانی میں غرق ہو رہی ہو۔ میرے کمرے میں لائٹ جل رہی تھی مگر ہال کی لائٹ بند تھی اور وہاں مکمل تاریکی کا راج تھا اور میرے ہاتھ میں سوائے موبائل فون کے اور کچھ نہیں تھا۔ میں سوچے سمجھے بغیر ہال کی طرف بھاگ پڑی۔ میرا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا اور میرے دماغ کی نسیں سنسنا رہی تھیں۔ میرے کانوں میں اس کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور میں اپنے عقب میں اس کے دوڑتے قدموں کی دھمک محسوس کر سکتی تھی۔ وہ میرے پیچھے آ رہی تھی مگر جب میں زینے سے اتر گئی تو میں نے محسوس کیا کہ اس کے قدموں کی بھاری آواز تھم گئی تھی۔ شاید وہ زینہ اترنے سے خائف تھی۔ نیچے ہال میں روشنی تھی۔ مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوا مگر میں نے مڑ کر دیکھنے کی غلطی نہیں کی۔ میں راکٹ کی طرح گھر سے نکلی اور اس وقت تک نہیں رکی جب تک قریبی کیفے میں نہیں پہنچ گئی۔ میں ننگے پیر تھی۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے اور میرے موبائل فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ مگر خوش قسمتی سے میں اپنے بوائے فرینڈ کے پاس جا سکتی تھی جس کے بارے میں میں آپ کو اس کہانی کے پہلے حصے میں آگاہ کر چکی ہوں۔ وہ مجھے لینے آیا اور اس جمعے کی رات سے میں اس کے گھر پر ہی ہوں۔ میں نے کہانی کا یہ پارٹ اس ہی کے لیپ ٹاپ پر لکھا ہے۔ اپنے بوائے فرینڈ کے گھر پہنچنے کے با وجود میں اتنی خوف زدہ تھی کہ مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا مگر اس نے آہستہ آہستہ میرا خوف دور کیا اور مجھ سے کہا کہ میں پولیس کو کال کروں۔ میں نے مالک مکان کے گھر میں اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں سے بھی رابطہ کیا مگر ان میں سے ایک اپنے گھر نیوزی لینڈ گیا ہوا ہے، دوسرے نے ابھی تک جواب نہیں دیا اور تیسری کرائے دار میری بات ہی نہیں سمجھ سکی کیوں کہ انگریزی اس کی مادری زبان نہیں ہے۔ جب میں نے پولیس کو کال کی اور انہیں اپنی مالک مکان کا نام بتایا تو میں نے فون سننے والی پولیس افسر کی آواز میں واضح ترین تبدیلی محسوس کی۔ اس نے مجھے انتظار کرنے کو کہا اور ہدایت دی کہ وہ خود مجھ سے رابطہ کرے گی مگر ابھی تک میرے پاس اس کی کال نہیں آئی ہے۔ یہاں سے اس کہانی کا سب سے پراسرار ترین پہلو شروع ہوتا ہے۔ میرے پاس ایک مرد پولیس افسر کی جوابی کال آئی اور اس نے مجھ سے میری مالک مکان کے نام اور پتہ کی تصدیق کی۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور پھر مجھ سے کہا کہ میں جس عورت کی بات کر رہی ہوں وہ کم از کم میری مالک مکان نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ اس نے انکشاف کیا کہ میری مالک مکان جمعرات کی رات ایک کار حادثے میں ہلاک ہو چکی ہے۔ یہ بات سن کر میری وہ حالت تھی کہ کاٹو تو رگوں میں خون نہیں۔ مگر میں نے ہمت کر کے پولیس افسر سے پوچھا کہ ہمیں اس بات کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ پولیس افسر کے جواب سے انکشاف ہوا کہ ہم سب کرائے دار مالک مکان کے گھر میں ’غیر قانونی‘ طور پر مقیم تھے اور یہ کہ پولیس کو بالکل خبر نہیں تھی کہ اس کے گھر میں اس کے علاوہ بھی کوئی اور رہتا ہے۔ مجھے اس بات کا پہلے ہی شبہ تھا کیوں کہ مالک مکان کرایہ ہمیشہ نقد رقم کی صورت میں وصول کرتی تھی۔ پولیس نے کار میں پڑے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مالک مکان کی شناخت کی تھی۔ تاہم پولیس افسر نے اس کے بعد جو بات بتائی اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس نے کہا کہ پولیس کے جائے حادثہ تک پہنچنے سے پہلے کسی نے مالک مکان کی چیزیں چرا لی تھیں۔ لاش کے بدن پر صرف کپڑے تھے جب کہ اس کا موبائل فون، بٹوہ اور چابیاں وغیرہ کار سے غائب تھیں۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ممکن ہے جس شخص نے اس کا موبائل فون چرایا ہے وہ مجھے خوف زدہ کرنے کے لیے میسج بھیج رہا ہو اور اس کا ارادہ گھر میں بھی چوری کرنے کا ہو۔ شروع میں پولیس افسر کی بات میرے دل کو لگی مگر پھر میں نے اسے بتایا کہ میسج چینی زبان میں بھی تھے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی اتفاقی چور کو اتنی رواں انگریزی بھی آتی ہو؟ مگر پولیس افسر نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ چور نے بھی میری طرح گوگل ٹرانسلیٹر استعمال کیا ہو گا۔ اس کے اس جواب کے بعد میں نے اس سے پراسرار سرگوشیوں کے بارے میں سوال کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ کون تھی جسے میں نے گھر میں دیکھا اور جس نے مجھے پکڑنے کے لیے میرا پیچھا بھی کیا؟ مگر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بے گھر شخص ہو سکتا ہے جو ذہنی طور پر بیمار اور زخمی ہو۔ مگر میں پولیس افسر کو جواب دیا کہ ایک زخمی اور ذہنی طور پر معذور شخص آخر کس طرح جائے حادثہ سے اتنی جلد گھر پہنچ سکتا ہے کیوں دونوں کا درمیانی فاصلہ کم از 30 منٹ کی ڈرائیو کا ہے۔ یہ تمام باتیں نا قابل فہم تھیں۔ اگر کوئی چور کسی لاش کو لوٹنا چاہتا ہے تو وہ ایسا کرنے کے بعد اس کے گھر میں جا کر رات کو قیام کیوں کرے گا؟ اور اسے اس لاش سے وابستہ افراد کو خوف زدہ کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟ مگر میں نے پولیس افسر سے سوال کیا کہ مالک مکان کے حوالے سے کیا کسی نے پولیس سے رابطہ کیا ہے تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ پہلا شخص ہیں جس نے اب تک اس سلسلے میں پولیس سے رابطہ کیا ہے۔ آخر کافی لمبی چوڑی بات کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے ذاتی طور پر ملنا چاہتا ہے تا کہ وہ مالک مکان کے رشتے داروں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کر سکے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ اس سے پہلے مالک مکان کے گھر کا جائزہ لینے کے لیے کسی پولیس افسر کو وہاں روانہ کرے گا۔ مگر اس نے مجھے تاکیداً کہا کہ میں ابھی اپنے بوائے فرینڈ کے گھر پر ہی رہوں اور اس کے فون کا انتظار کروں۔ میں نے اپنی یونی ورسٹی کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور وہاں سے مجھے ایک ہفتے کی چھٹیاں مل گئی ہیں۔ یہ تمام ماجرا آج شام 5 بجے پیش آیا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ اب حالات بہتر ہو جائیں گے۔ مجھے یہ واقعات کل صبح ’نیرنگ‘ پر پوسٹ کرنے تھے اور میں آرام کی غرض سے بستر پر جا رہی تھی کہ مجھے اپنی مالک مکان کے فون سے پھر ایک اور پیغام موصول ہوا۔ یہ پیغام بھی چینی زبان میں تھا اور گوگل کے مطابق اس کا انگریزی میں مطلب ہے کہ ’مجھے کھانے کی دعوت دینے کا شکریہ۔ ۔ ۔ ‘ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اسے اب بھی کھانے کی ضرورت کیوں ہے۔ ہو سکتا ہے یہ واقع کوئی بے گھر شخص ہو جس کے ہاتھ میری مالک مکان کو موبائل لگ گیا ہے اور اب وہ مجھے پریشان کر کے خوش ہو رہا ہے۔ مگر وہ جو کوئی بھی ہے آخر چینی زبان میں میسج کیوں بھیج رہا ہے؟ میں کیا کروں؟ کیا میں اس میسج کا جواب دوں یا پولیس سے رابطہ کروں؟ میں ابھی تک خیریت سے ہوں مگر بد قسمتی سے میرے ساتھ رہنے والے افراد کے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔ ۔ ۔

 

پارٹ تھری جلد آ رہا ہے