Listen and Read Amir Khusroo in Urdu
شعروادب - ادب - اکتوبر 12, 2019

کلامِ خسؔرو بہ زبان مہدی حسن مع منظوم اردو ترجمہ



یہ غزل امیر خسؔرو کی خوبصورت ترین غزلوں میں سے ایک ہے۔ خسؔرو کا سارا کلام تصوف کے عکس سے معمور ہے کیوں کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ ایک صاحبِ حال صوفی تھے۔ اس غزل کے اشعار بھی مختلف کتابوں میں مختلف ہیں۔ نیرنگ نے لوک ورثہ اشاعت گھر کے شائع کردہ انتخاب کو ترجیح دی ہے۔ اس غزل کا ناقابلِ یقین منظوم ترجمہ جناب مسعود قریشی صاحب نے کیا ہے جس کے بعد اصل کلام مہدی حسن صاحب کی آواز میں سننے کے بعد مسحور ہوئے بنا نہ رہنا شاید ممکن نہیں۔ ذیل میں ہر فارسی شعر کے نیچے اس کا منظوم ترجمہ درج ہے۔ جب کہ اس سے قبل سادہ اردو میں بھی ترجمہ دیا جا رہا ہے۔

’مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا۔ میرا سر اس راہ پر قربان جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا۔ جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سر اتار کر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ کسی روز تو تو شکار کے لیے آئے گا۔ آہو ہرن کو کہتے ہیں۔ میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے اب تُو تو آجا کہ میں زندہ رہوں۔ گر تو میرے مرنے کے بعد آئے گا تو پھر تیری چارہ گری کا کیا فائدہ ہو گا۔ عشق میں جو کشش ہے (خسؔرو) وہ تجھے اس طرح زندگی بسر کرنے نہیں دے گی مگر میرے عشق کی کشش بے کار نہیں جائے گی اور  اگر وہ میرے جنازے پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا۔ تیرے ایک بار  پاس آنے نے (یعنی محض اک بار تیری دید نے) خسؔرو کا دل اس کا دین اور جان تک چھین لی ہے اور وہ سوچ میں گم ہے کہ اس وقت کیا ہوگا جب تو دوسری اور تیسری مرتبہ ملنے آئے گا یا اپنے دیدار سے فیض یاب کرے گا۔‘


خَبَرَم رسید اِمشب کہ نگار خواہی آمد

سَرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا
فدا ہُوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا


بہ لبَم رسیدہ جانَم تو بیا کہ زندہ مانَم
پس ازاں کہ من نَمانَم بہ چہ کار خواہی آمد
لبوں پہ جان ہے تُو آئے تو رہوں زندہ
رہا نہ میں تو مجھے کیا کہ یار آئے گا


ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
غزالِ دشت ہتھیلی پہ سر لیے ہوں گے
اس آس پر کہ تو بہرِ شکار آئے گا


کَشَشے کہ عشق دارَد نہ گُزاردَت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد
کشش جو عشق میں ہے بے اثر نہیں ہوگی
جنازہ پر نہ سہی بر مزار آئے گا


بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسؔرو
چہ شَوَد اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد
فدا کئے دل و دیں اک جھلک پر خسؔرو نے
کرے گا کیا جو تُو دو تین بار آئے گا


اس غزل کی بحر – بحر رمل مثمن مشکول ہے مگر مسعود قریشی کا منظوم ترجمہ بحر مجتث میں‌ ہے۔ افاعیل – فَعِلاتُ فاعِلاتُن فَعِلاتُ فاعِلاتُن – اشاری نظام – 1211 2212 1211 2212 – تقطیع – خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد/ سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد – خَ بَ رم رَ – فعلات – 1211 – سید امشب – فاعلاتن – 2212 – کِ نِ گا ر – فعلات1211 – خا ہِ آمد – فاعلاتن – 2212 – سَ رِ من فِ – فعلات – 1211 -دا ء راہے – فاعلاتن – 2212 – کِ سَوار – فعلات – 1211 – خا ہِ آمد – فاعلاتن – 2212

امید ہے قارئین کو نیرنگ کی یہ کاوش بھی پسند آئے گی۔ اس مضمون کی تیاری میں جناب وارث صاحب کے بلاگ سے بھی کچھ مدد لی گئی ہے۔ اپنے رائے کے ساتھ اگر کوئی غلطی ہو تو مطلع کرنا نہ بھولیے۔