Louis Pasteur by Michael Hart in Urdu | The 100

دی ہنڈریڈ | گیارھواں باب | لوئیسس پاسچر | نئی قسط

 فرانسیسی کیمیاء دان اور ماہرِحیاتیات لوئیس پاسچر کو عام طور پر طب کی تاریخ میں سب سے اہم واحد شخصیت باور کیا جاتا ہے۔ سائنس کے میدان میں پاسچر کے کارنامے ایک سے زائد ہیں، مگر اس کی اصل وجۂ شہرت نظریۂ جراثیم برائے بیماری اور بیماریوں سے قبل از وقت بچاؤ کے ٹیکوں کی تیاری میں پنہاں ہے۔ پاسچر 1822ء میں مشرقی فرانس کے قصبے ڈول میں پیدا ہوا۔ پیرس میں کالج میں تعلیم کے دوران اس نے سائنس کا مطالعہ کیا۔ اس کی ذہانت زمانۂ طالب علمی میں عیاں نہیں تھی بلکہ اس کے ایک پروفیسر نے تو اسے کیمیاء میں اوسط درجے سے بھی کم کا طالبِ علم قرار دیا تاہم 1847ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے بعد پاسچر نے ثابت کر دکھایا کہ اس کے پروفیسر کی رائے مکمل طور پر غلط تھی۔ صرف 26 سال کی عمر میں لوئیس پاسچر کی طرطیری تیزاب کے ہم مرکب اجسام پر تحقیق اس کی بطور کیمیاء دان وجۂ شہرت بنی۔ اس کے بعد اس نے اپنی توجہ تخمیری عمل کی جانب مبذول کی اور ثابت کیا کہ بعض مخصوص خُرد نامیے دراصل اس عمل کا سبب ہیں۔ اس نے اس بات کا بھی مظاہرہ کیا کہ بعض دیگر اقسام کے خُرد نامیوں کی موجودگی تخمیری مشروب کی تیاری میں ناپسندیدہ نقائص کا سبب بن سکتی ہے۔ اس تجربے نے اس کے اُس تصور کی راہ ہموار کی کہ بعض دیگر خُرد نامیوں کی موجودگی انسانوں اور دیگر حیوانوں میں بھی ناپسندیدہ اثرات و مرکبات کی پیدائش کا سبب بن سکتی ہے، تاہم لوئیس پاسچر ہی پہلا شخص نہیں ہے جس نے جراثیموں کا نظریہ پیش کیا کیوں کہ اس نوعیت کے نظریات دیگر سائنس دان جیسے گیرالیمو فراکاس ٹورو، فریڈرک ہینلی اور دیگر بھی پیش کر چکے تھے مگر متعدد تجربات اور مظاہرات کے ذریعے ’جراثیم تھیوری‘ کے حق میں یہ صرف لوئیس پاسچر ہی کی شدید کاوشیں تھیں جنہوں نے سائنس دانوں کو بنیادی طور پر اسے درست تسلیم کرنے پر آمادہ کیا۔ اگر جراثیم ہی بیماریوں کا سبب تھے تو پھر یہ منطقی بات تھی کہ انسانی جسم میں جراثیم کے دخول کو روک کر اسے بیماریوں سے بچایا جا سکتا تھا۔ پاسچر نے اسی باعث ماہرینِ طب پر زور دیا کہ وہ جراثیم کش اقدامات کی اہمیت کو سمجھیں اور جوزف لسٹر پر پاسچر ہی کے نظریات کے براہ راست اثرات تھے جس نے دورانِ جراحت جراثیم کش اقدامات سے دنیا کو متعارف کرایا۔ ضرر رساں بیکٹریا انسانی جسم میں غذا اور مشروبات کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں۔ پاسچر نے ایک طریقۂ کار وضع کیا – جو پاسچیرائزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے – جس کے ذریعے مشروبات میں خُرد نامیوں کو تلف کرنا ممکن ہوا۔ جہاں جہاں اس عمل کو اختیار کیا گیا وہاں آلودہ دودھ کا خاتمہ ہو گیا جو متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ تھا۔ عمر کی 5ویں دہائی میں پاسچر مویشیوں کی نہایت خطرناک چھوت کی بیماری دنبل کی جانب متوجہ ہوا اور اس نے انسانوں پر اس کے اثرات کا بھی مطالعہ کیا۔ پاسچر نے تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ بیکٹریا کی ایک مخصوص نوع اس بیماری کا سبب تھی تاہم اس کا ایک بہت عظیم کارنامہ کم زور دنبل کے مہین جراثیموں کے گروہ کی تیاری تھا۔ مویشیوں کے جسم  میں ٹیکے کے ذریعے داخل کیے جانے کے بعد کم زور جراثیموں کی یہ لڑی ہلکی مگر غیرمہلک بیماری پیدا کرتی تھی تاہم اس طرح مویشی کا جسم اس عام بیماری کے خلاف ہمیشہ کے لیے قدرتی قوتِ مدافعت پیدا کر لیتا تھا۔ چناں چہ پاسچر کے اس تجربے کو زبردست شہرت اور توجہ حاصل ہوئی اور جلد ہی محسوس کر لیا گیا کہ پاسچر کے تجربے کے عمومی اصول کو متعدد دیگر چھوت کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خود پاسچر ہی کا ایک عظیم کارنامہ اس تیکنک کی تیاری ہے جس کے ذریعے انسانوں کو ریبیز جیسی ہول ناک بیماری سے قبل از وقت بچانا ممکن ہوا۔ دیگر سائنس دان تب سے پاسچر کے بنیادی تصورات کے اطلاق کے ذریعے وبائی ٹائفس اور بچوں کے فالج جیسی دیگر متعدد مہلک بیماریوں کے خلاف ویکسین تیار کرتے آ رہے ہیں۔ پاسچر غیر معمولی حد تک محنتی انسان تھا اور اس نے متعدد دیگر اگرچہ کم اہم نوعیت کے کارنامے بھی انجام دیے۔ کسی بھی دیگر چیز کی نسبت یہ پاسچر کے تجربات ہی تھے جنہوں نے قطعی طور پر ثابت کیا کہ خُرد نامیے کی پیدائش کا سبب بے ساختہ تولد نہیں۔ پاسچر نے ہی دریافت کیا کہ ایسے خُرد نامیے بھی موجود ہیں جو آکسیجن یا ہوا کی غیرموجوگی کے بغیر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ریشم کے کیڑے کی بیماریوں پر پاسچرکا کام بیش بہا تجارتی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے دیگر کارناموں میں پرندوں میں ’چکن کولرا‘ جیسی بیماری کے خلاف ٹیکے کی تیاری شامل ہے۔ یہ ایک بہت مہلک بیماری ہے۔ پاسچر کا 1895ء میں پیرس کے نزدیک ایک مقام پر انتقال ہوا۔ اکثر لوئیس پاسچر اور برطانوی ماہرِ طب ایڈوارڈ جینر کا باہمی مقابلہ کیا جاتا ہے جس نے چیچک کے خلاف ایک ویکسین تیار کی تھی۔ اگرچہ جینر نے اپنا کام پاسچر سے تقریباً 80 سال قبل انجام دیا مگر میں جینر کو نسبتاً کافی کم اہم باور کرتا ہوں کیوں کہ اس کا ایجاد کردہ مدافعتی طریقہ صرف ایک بیماری کے خلاف تھا جب کہ پاسچر کے طریق کار بیماریوں کی بڑی تعداد کے خلاف کارگر ہیں۔ انیسویں صدی کے وسط سے دنیا میں انسانوں کی طبعی عمر کم و بیش دگنی ہو چکی ہے۔ انسانوں کی عمر میں اتنے بڑے اضافے کے تاریخ انسانی میں دیگر کسی بھی ایجاد سے زیادہ ہماری زندگی پر گہرے ترین اثرات ہیں۔ بلاشبہ جدید سائنس اور علمِ طب دونوں نے آج ہمیں زندہ رہنے کا گویا دگنا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر انسانی زندگی میں اس اضافے کا سہرا کلی طور پر صرف پاسچر کے سر ہوتا تو مجھے اسے اس کتاب میں درجۂ اول پر رکھنے میں کوئی قباحت نہیں تھی مگر پھر بھی پاسچر کا کردار بنیادی طور پر بہت اہم ہے۔ گزشتہ صدی میں انسانی اموات کی شرح میں نہایت کمی کا سبب بڑی حد لوئیس پاسچر کے سر جاتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پاسچر کو اس کتاب میں نسبتا کافی بلند درجے پر جگہ دی گئی ہے۔