Martin Luther | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ| پچیسواں باب| مارٹن لوتھر

 دنیائے عیسائیت میں مارٹن لوتھر ہی وہ شخصیت ہے جس نے رومن کلیسا کے خلاف اٹھ کر پروٹیسٹینٹ اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا۔ لوتھر کی پیدائش 1483ء میں جرمنی کے ایسلبین نامی ایک قصبے میں ہوئی۔ اس نے یونی ورسٹی میں بہت اچھی تعلیم حاصل کی اور کچھ عرصے تک اپنے والد کی ہدایت پر قانون کا مطالعہ بھی کیا؛ تاہم اس نے قانون کی تعلیم کو مکمل نہیں کیا بلکہ آگسٹیِنیئَن راہب بننے کو ترجیح دی۔ 1512ء میں لوتھر نے وٹن برگ یونی ورسٹی سے الہٰیات میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی جہاں جلد ہی اس کا بطور مدرّس تقرر ہو گیا مگر جلد ہی لوتھر بتدریج رومن کلیسا کا مخالف ہونے لگا۔ 1510ء میں وہ روم گیا جہاں وہ رومن پادریوں کی دنیاوی شان وشوکت اور زر پرستی کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ مگر جس چیز نے اس کی مخالفت کو عروج پر پہنچا دیا وہ معافی ناموں کی فروخت تھی۔ چرچ معافی ناموں کے ذریعے کسی بھی شخص کو گناہوں سے پاک قرار دے سکتا تھا جس کے بعد اس شخص کو ’برزخ میں کم عذاب جھیلنے کی رعایت‘ میسر آتی تھی۔


چناں چہ اس دور میں ان ’معافی ناموں‘ کی فروخت کا سلسلہ عروج پر تھا جس کی آمدنی کلیساء کے خزانوں میں چشمہ رواں کی طرح بہا کرتی تھی – نیرنگ


 31؍ اکتوبر 1517ء کو لوتھر نے وٹن برگ یونی ورسٹی کے دروازے پر اپنا معروف 95 نکاتی مقالہ چسپاں کیا جس میں اس نے شدت کے ساتھ رومن کلیسا کی دنیاداری کی مذمت کی اور معافی ناموں کی فروخت کے خلاف آواز بلند کی۔ اس نے اپنے ان نکات کی ایک نقل مینز کے اسقفِ اعظم کو بھی ارسال کی جنہیں بعد ازاں طبع کرا کر علاقے میں تقسیم کیا گیا۔ چرچ کے خلاف لوتھر کے احتجاج کا دائرہ جلد ہی وسیع تر ہو گیا اور اس نے تھوڑے عرصے بعد ہی پوپ اور عالم کلیسائی انجمنوں کے اختیار کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے اس امر کی تاکید کی کہ وہ سادہ دلائل کے ساتھ صرف بائبل سے رہ نمائی حاصل کرے گا چناں چہ یہ امر تعجب خیز نہیں کہ کلیساء نے اس کے تصورات کو نرم نظروں سے نہیں دیکھا۔


ظاہر ہے پیٹ پر پڑتے پتھر کو کون ٹھنڈے پیٹوں قبول کرے گا – نیرنگ


چناں چہ لوتھر کو چرچ حکام کے سامنے پیش ہونے کا حکم جاری ہوا اور متعدد سماعتوں اور عیسائی عقائد سے پھر جانے کے الزامات کے بعد بالآخر 1521ء میں اسے کافر اور مجرم قرار دے دیا گیا جب کہ اس کی تحریریں ممنوع قرار پائیں۔ عام طور پر لوتھر کا انجام یہ ہی نظر آرہا تھا کہ اسے بھی سرِعام جلا دیا جائے گا مگر اس کے نظریات وسیع پیمانے پر اہلِ جرمن کے دلوں میں اتر گئے تھے جن میں کچھ جرمن شہزادے بھی شامل تھے۔ اس لیے اگرچہ لوتھر کو تقریباً ایک سال تک روپوشی اختیار کرنی پڑی مگر جرمنی میں اس کی حمایت اس پیمانے پر تھی کہ اسے کوئی سخت سزا دینا ممکن نہیں رہا تھا۔ لوتھر ایک زرخیز ذہن کا حامل مصنف تھا اور اس کی تصانیف کی اکثریت نے قبولِ عام کی سند حاصل کی جب کہ اس کا ایک اور اہم ترین کارنامہ بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ تھا جس کی بدولت ممکن ہوا کہ ہر خواندہ شخص صحیفۂمقدس کا خود مطالعہ کر سکتا تھا اور اس تناظر میں چرچ یا پادریوں کی محتاجی ختم ہو گئی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ تذکرہ ہے کہ لوتھر کے ترجمے کی شان دار ترین زبان نے جرمن زبان اور ادب پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ لوتھر کے مذہبی فہم کو یہاں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں مگر اس کے بنیادی عقائد میں اہم ترین عقیدہ یہ تھا کہ ’نجات صرف ایمان‘ کے ذریعے ہوگی۔ اس نے یہ تصور سینٹ پال کی تصانیف سے اخذ کیا تھا۔ لوتھر کا ماننا تھا کہ انسان اپنی فطرت میں اتنا گناہ گار ہے کہ صرف محض اچھے کام اس کی اخروی نجات کے لیے ناکافی ہیں۔ چناں نجات صرف ایمان اور خدائے تعالیٰ کی رحمت سے ہی ممکن ہے اور اگر ایسا ہی درست تھا تو پھر ظاہر ہے چرچ کی جانب سے معافی ناموں کی فروخت ایک لغو اور بے نتیجہ بات تھی چناں چہ یہ قدیم نظریہ کہ چرچ خدا اور بندے کے درمیان بطور ’وسیلہ‘ لازمی ہے غلط قرار پایا۔ نتیجتاً لوتھر کے نظریات کی پیروی سے رومن کلیسا کی عمارت ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہوگئی۔ چرچ کے بنیادی کردار پر سوال اٹھانے کے علاوہ لوتھر نے چرچ کے بعض مخصوص عقائد اور رسومات کے خلاف بھی آواز بلند کی۔ مثال کے طور پر لوتھر نے ’برزخ‘ کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ اہل کلیسا کے لیے مجرّد رہنا ضروری نہیں۔ اس نے خود 1525ء میں ایک سابقہ عیسائی راہبہ سے شادی کی جس سے اس کی چھ اولادیں ہوئیں۔ لوتھر کا 1546ء میں ایسلبین کے مقام پر انتقال ہوا۔ ایسلبین اس کا آبائی شہر تھا جہاں وہ کچھ دنوں کے لیے آیا ہوا تھا۔ مارٹن لوتھر بلاشبہ کوئی پہلا پروٹیسٹینٹ مفکر نہیں ہے۔ اس سے ایک صدی قبل بوہیما میں جان ہس اور 14ویں صدی میں برطانوی مفکر جان وائے کلف گزر چکے تھے اور حتیٰ کہ 12ویں صدی کے فرانسیسی پیٹر والڈو کو اولین پروٹیسٹین کہا جا سکتا ہے مگر ان تمام تحریکوں کے اثرات صرف علاقائی یعنی محدود تھے۔ 1517ء میں کیتھولک چرچ کی مخالفت اس درجے کو پہنچ گئی تھی کہ لوتھر کے الفاظ نے تیزی کے ساتھ احتجاج کے ایک سلسلے کو جِلا دی جو نہایت سرعت کے ساتھ یورپ کے وسیع حصوں تک پھیل گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تحریکِ اصلاح کا سہرا بنیادی طور پر لوتھر کے سر دیا جاتا ہے۔ تحریک اصلاح کے نتیجے میں متعدد پروٹیسٹینٹ فرقے وجود میں آئے۔ اگرچہ پروٹیسٹینٹ فکر عیسائیت ہی کی ایک چھوٹی شاخ ہے مگر اس کے باوجود اس کے ماننے والوں کی تعداد بدھ مت یا دیگر متعدد مذاہب کے ماننے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تحریکِ اصلاح کا دوسرا اہم نتیجہ یورپ میں مذہبی جنگوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ان جنگوں میں بعض انتہائی خون ریز تھیں جیسے جرمنی میں تیس سالہ جنگ جو 1618 سے 1648ء تک جاری رہی۔ حتیٰ کے جنگوں سے قطع نظر کیتھولک اور پروٹیسٹینٹ مکتبِ فکر کے درمیان سیاسی اختلافات نے آنے والی صدیوں میں یورپی سیاست میں بنیادی کردار بھی ادا کیا۔ تحریکِ اصلاح کا یورپ کے فکری ارتقاء پر بھی بہت گہرا اثر ہے۔ 1517ء سے قبل صرف رومن کیتھولک کلیساء کا وجود تھا اور اس وقت اختلاف کرنے والوں کو کافر قرار دیا جاتا تھا۔ یہ ماحول آزاد فکر کے لیے سازگار نہیں تھا مگر تحریکِ اصلاح کے بعد جب متعدد ممالک نے مذہبی آزادی کا اصول تسلیم کر لیا تب جا کر دیگر موضوعات پر بھی رائے دینا ممکن ہوا۔ یہاں ایک اور نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس کتاب میں متذکرہ زیادہ تر لوگوں کا تعلق برطانیہ سے ہے جس کے بعد جرمنی سے تعلق رکھنے والوں تذکرہ کیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے اس کتاب میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق شمالی یورپ اور امریکا کے پروٹیسٹینٹ ممالک سے ہے۔ خیال رہے کہ گٹن برگ اور چارلی میگنے 1517ء سے قبل حیات تھے۔ اس تاریخ سے قبل اس کتاب میں جن لوگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کا تعلق دنیا کے دوسرے حصوں سے ہے۔ اس طرح صاف ظاہر ہے کہ تحریکِ اصلاح یا پروٹیسٹنٹ فکر صرف محدود پیمانے پر اس حقیقت کی ذمے دار ہے کہ گزشتہ 450 برسوں میں ممتاز لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق ان ہی علاقوں سے ہے۔ شاید ان علاقوں میں موجود وسیع فکری آزادی نے اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ لوتھر بھی نقائص سے پاک نہیں تھا۔ اگرچہ وہ اپنی ذات میں مذہبی اقتدار کا مخالف تھا مگر اس کے باوجود وہ شدّت سے ان لوگوں کی مخالفت کرتا تھا جو اس سے مذہبی اختلاف رکھتے تھے۔ غالبا کسی حد تک یہ لوتھر کی مبنی بر عدم برداشت طرزِفکر کا نتیجہ تھا کہ مذہبی جنگیں جرمنی میں برطانیہ یا کسی دوسرے ملک کی نسبت زیادہ شدید اور خون ریز ثابت ہوئیں۔ اس کے علاوہ لوتھر سامیوں کا بھی شدید مخالف تھا اور یہودیوں کے خلاف اس کی شدید ترین تحریروں نے ممکنہ طور پر وہاں ہٹلر کے دور کی راہ ہم وار کی۔ لوتھر نے ہمیشہ جائز عوامی حکومت کی اطاعت پر زور دیا۔ غالبا اس کی اس سوچ کا سرا چرچ کی جانب سے عوامی حکومت میں مداخلت کے خلاف سوچ میں نہاں ہے۔ واضح رہے کہ تحریکِ اصلاح محض ایک مذہبی تنازع کا نام نہیں ہے بلکہ بڑی حد تک یہ روم کے اثرورسوخ کے خلاف ایک قوم پرست جرمن بغاوت ہے اور یہ ہی وجہ ہے جس کے باعث بڑی لوتھر کو جرمن شہزادوں کی پشت پناہی میسر آئی۔ لوتھر کے ارادوں سے قطع نظر اس کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے سیاسی معاملات میں جرمن پروٹیسٹینٹس کو مطلق العنانیت قبول کرنے پر آمادہ کیا جس سے ہٹلر کے دور کی راہ نکلی۔ کچھ لوگ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ اس کتاب میں لوتھر کا تذکرہ زیادہ بلند مقام پر کیوں نہیں کیا گیا؟ اول، لوتھر اہل امریکا اور برطانیہ کے لیے بہت اہم نظر آتا ہے تاہم اہلِ ایشیاء اور افریقاء پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں جیسا کہ وہاں چند ایک ہی عیسائی ریاستیں ہیں۔ اسی طرح جہاں تک اہلِ چین، جاپان اور ہند کا تعلق ہے وہاں کیتھولک اور پروٹیسٹینٹس کے مابین اختلافات تقریباً غیراہم ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے زیادہ تر یورپی اسلام کے شیعہ اور سنی فرقوں کے اختلاف میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔ دوم، لوتھر تاریخ کی ایک حالیہ شخصیت ہے جس نے حضرت محمدﷺ، حضرت موسیؑ یا گوتم بدھ کی نسبت انسانی زندگی کو بہت کم متاثر کیا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ چند صدیوں کے دوران مغرب میں مذہبی سوچ زوال پذیر رہی ہے اور وہاں انسانی معاملات پر مذہب کا اثر گزشتہ ادوار کے برعکس اگلے ایک ہزار سال میں بہت محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اگر مذہبی سوچ میں زوال کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل کے مؤرخین کی نظر میں لوتھر کی اہمیت موجودہ دور کی نسبت بہت کم ہو جائے گی۔ آخر میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سولہویں اور سترھویں صدی کے مذہبی اختلافات نے طویل مدتی طور پر انسانی زندگی کو اتنا متاثر نہیں کیا جتنا وہاں اسی عرصے میں ہونے والی سائنسی ترقی نے انسانیت پر دوررس اثرات چھوڑے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں لوتھر کا ذکر کوپرنیکس کے بعد ہے جو اس کا ایک ہم عصر تھا، اگرچہ لوتھر کا اصلاحِ مذہب میں انفرادی کردار کوپرنیکس کے سائنسی ارتقاء میں کردار سے کہیں زیادہ ہے۔