Matter Exists in Two Places At Once in Urdu

’انسان بیک وقت کئی جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے‘

قصے کہانیوں میں سنا کرتے تھے کہ ایک ہی چیز یا کسی انسان کو ایک ہی وقت میں دو یا دو سے زیادہ مقامات پر دیکھا گیا مگر آج جدید سائنس نے کل کی ’توہم پرستی‘ کو آج کی کی حقیقت ثابتہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جی ہاں سائنس دانوں نے ایک بار پھر کام یابی سے پردہ حقیقت کو چاک کرتے ہوئے دوہزار سے زائد بھاری مالیکیولوں کا کائنات کے دو مقامات پر ایک ہی وقت میں ہونا دیکھ لیا ہے۔ تازہ تجربہ ’ڈبل سلٹ ایکسپیریمینٹ‘ نامی سابقہ تجربے کی توسیع ہے جس نے کوانٹم سپرپوزیشن کے نظریے کو مکمل طور پر سچ ثابت کر دیا ہے۔ اس تجربے سے پتہ چلا ہے کہ فوٹون بیک وقت لہریں بھی ہیں اور پارٹیکل بھی اور ایک ہی وقت میں کائنات کے دو مقامات پر موجود ہو سکتے ہیں اگرچہ انہیں سادہ آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔

’مزید سادہ الفاظ میں ہمارے اردگرد اس وقت بھی نہ جانے کتنے ایسے لاتعداد مادی – شعوری؟ – اجسام ہو سکتے ہیں جنہیں ہماری سادہ آنکھ نہیں دیکھ پارہی ہوتی اور شاید جنہیں دیکھنے کے لیے طویل ریاضتوں اور مراقبوں کے بعد ’بابصیرت نگاہ باطنی‘ کھولنا لازمی ہوتا ہے۔‘


ہے نا حیرت کی بات؟


سابقہ تجربے میں سائنس دانوں نے الکیٹرون، نسبتاً بڑے پارٹیکلوں اور بہت چھوٹے ایٹموں کے ساتھ کام یابی سے یہ ہی تجربہ کرا تھا مگر اس تجربے میں انہوں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دوہزار سے زائد بھاری ایٹموں والے مالیکیولوں کو جو ایک ہی وقت میں لہریں بھی ہیں اور پارٹیکل بھی کام یابی سے کائنات میں دو مختلف جگہوں پر ایک ہی وقت میں وجود رکھتے پالیا ہے۔ یہ تجربات نیچرفزکس نامی مؤقر جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ اگرچہ سائنس دان اس تجربے کے دوران نگاہ سے پوشیدہ مالیکیولوں کو صرف سات ملی سیکنڈ تک ہی دیکھ پائے مگر سائنسی حلقوں میں اسے ایک نہایت بڑا قدم تسلیم کیا جارہا ہے اور ویانا یونی ورسٹی، آسٹریا کے ماہر طبیعات یاکوف فین کا کہنا ہے کہ –

’اس تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ کوانٹم میکانکس اپنی تمام تر پراسراریت کے ساتھ کتنی طاقت ور ہے اور مجھے یقین ہے کہ مسقبل میں اس تجربے کو کام یابی سے زیادہ بڑے پیمانے پر بھی ٹیسٹ کیا جاسکے گا‘

کوانٹم میکانکس کی دنیا نہایت پراسرار اور ’پیرانارمل‘ دنیا ہے جسے کبھی ’ناممکن‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ کل تک سائنس دانوں کا ماننا تھا کہ بھاری مادی اجسام پر اس تجربے کی کام یابی کا کوئی امکان نہیں اور اسے صرف ایٹم سے بھی باریک تر ذرات پر ہی کام یابی سے انجام دیا جاسکتا ہے مگر نئے تجربے کی کام یابی نے اب کائنات کی حقیقت کو ایک نیا ہی روپ دے دیا ہے۔ سادہ سے الفاظ میں –

’اگر بھاری مالیکیول ایک وقت میں دو جگہ موجود ہو سکتے ہیں تو پھر ہم جس مادی کائنات کو حقیقت سمجھتے ہیں آخر اس کی حقیقت کیا ہے؟

نیرنگ کے پاس فی الحال اس سوال کا تو جواب نہیں مگر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کائنات ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ پراسرار تر اور پیرانارمل ہے۔